21 November 2009 - 21:27
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 583
فونت
کربلا میں آیت الله سیستانی کے نمائندہ:
رسا نیوز ایجنسی – حجت الاسلام و المسلمین شیخ عبدالمهدی کربلائی نے بعض مسلمانوں میں بعض دیگرمسلمانوں کےلئے تکفیری تفکرات پائے جانے کے سلسلے میں تشویش کا اظھار کرتے ہوئے مسلمانوں کے سے چاھاکہ حج کی سنہری فرصت سے استفادہ کرتےہوئے اپس میں اتحاد قائم کریں .

 

رسا نیوزا یجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام و المسلمین شیخ عبدالمهدی کربلائی ، کربلا میں آیت الله سیستانی کے نمائندہ نے گزشتہ روز شهر مقدس کربلا میں نمازجمعہ کے خطبہ میں جو حرم مطهرحضرت امام حسین (ع) اقامہ کیاگیا ، عراقی صدر جمهوریہ کے نائب طارق الهاشمی کی جانب سے الیکشن قوانین میں وٹوکئے جانے پہ تشویش کا اظھار کرتے ہوئے کہا : اس قانون کا وٹو ایک خطرناک کام ہے کیوں کہ متوقع ہے اس بناء پر عراق اپنی سابق حالت پر لوٹ جائے   

انہوں نے مزید فرمایا : مختلف اورمتعدد میٹنگوں کےبعد خداکے فضل سے یہ قانون طے پایا اس قانون کے وٹو کئے جانے کی صورت میں ملک کوبہت ساری پریشانیاں لاحق ہوں گی امید ہے سیاسی احزاب اس حیرانی کے ختم کئے جانے کے سلسلے میں کوئی مناسب قدم اٹھائیں گے تاکہ جلد از جلد اس بحران کا خاتمہ ہوسکے     

شیخ عبدالمهدی کربلائی نے سیاسی احزاب کو الیکشن تبلیغات میں اخلاقی میعاروں کی پابندی پر تاکید کرتے ہوئے کہا : تمام سیاسی احزاب تبلیغات کا حق رکھتی ہیں مگر دینی و اخلاقی معیاروں کو فراموش ،اور ایک دوسرے کے    خلاف اتھام تراشی سےجوخداوند متعال کے غضب کا سبب ہے پرھیز کریں  

آیت الله سیستانی کےنمائنده نےالیکشن میں کھڑے ہونے والے تمام کینڈیڈیٹ کو جھوٹھے اور غیر واقعی وعدوں سے پرھیز کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا:   سیاسی احزاب موظف ہیں کہ ان باتوں کو زبان پر لائیں جس پر عمل کرسکتے ہیں ایسے وعدے جس پرعمل کرنا ناممکن ہے دینے سے پرھیز کریں کیوں کہ اس کام عوام کے نزدیک انکی سچائی پر حرف اتا ہے اور پھرعوام ھرگزان پر اعتماد نہ کرے گی   

انھوں نے حج میں مسلمانوں کے بیچ اتحاد کی تاکید کرتے ہوئے کہا : حجاج مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور الفت ومحبت کا تحفظ اور اختلافی وکینہ توزگفتگو سے دوری اختیار کریں اورھمارا خطیبوں سے کہنا ہے کہ وہ فتنه انگیز و تفرقه انگیز باتوں سے اجتناب اوردیگر مذھب کے ماننے والوں کو کافر اور مشرک سمجھنے سے پرھیز کریں

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬