23 November 2009 - 14:40
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 595
فونت
حوزہ علمیہ تھران کے تھذیبی امور کے سربراہ :
رسا نیوز ایجنسی ـ حوزہ علمیہ تھران کے تھذیبی امور کے سربراہ نے کہا : اخلاقی بحث کو حوزہ میں صرف ایک نشست پر منحصر نہی کرنا چاہیئے بلکہ طالب علموں کے تمام شؤون اخلاقی سے مانوس ہونا چاہیئے ۔
اخلاق کے درس کو صرف ھفتیہ میں ایک مرتبہ پر منحصر نہی کرنا چاہیئے

 

حجت الاسلام قربانعلی هدایتی پور، حوزہ علمیہ تھران کے تھذیبی امور کے سربراہ نے رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر سے ہوئے گفتگو میں کہا : اخلاقی بحث کو حوزہ میں صرف ایک نشست پر منحصر نہی کرنا چاہیئے بلکہ طالب علموں کے تمام شؤون اخلاق سے مانوس ہونا چاہیئے ۔


انہھوں نے کہا : کلی منصوبہ بندی اور مدارس علمیہ میں استادوں کے انتخاب کرنے میں زیادہ  سے زیادہ باریک بینی و توجہ کی ضرورت ہے تا کہ طالب علم اپنے تمام درسوں میں استاد کے رفتار و گفتار و اخلاقی بحث و اخلاقی عملی رفتار سے مانوس ہوں ۔


حوزہ علمیہ تھران کے تھذیبی امور کے سربراہ نے اس نکتہ کو ذکر کرتے ہوئے کہ خلاق اور دین کے درمیان آپس میں بہت ہی نزدیکی رابطہ ہے  اظہار خیال کیا : دین کا رشد اخلاق میں ہے اور اخلاق ایک محرک مشین کی طرح ہے جو بشری سعادت اور نیکی کی طرف پہونچنے کا ایک مقدمہ ہے کہ انسان کے خلقت کی غایت اور ھدف تک پہونچنے کا جلوہ ہے جس کے ذریعہ حقیقیق توحید تک پہونچا جا سکتا ہے جو انسان کے اعلی مراتب تک پہونچنے کا مھمترین اور کامل ترین وسیلہ ہے ۔ 


انھوں نے بیان کیا : مدارس علمیہ دینیہ میں اخلاق نظری کے بحث کی ضرورت اور اھمیت کی بنا پر ھم لوگ اخلاق کے استادوں کی تلاش میں ہیں اور حوزہ علمیہ تھران کے تھذیبی ڈپارٹمنٹی امور کے نصاب کو مرتب کرنے کے لئے چند اخلاقی نشست کا انعقاد اس سال قم کے علماء اور بزرگوں کا تھران میں دعوت کے  ساتھ انجام پائیگی ۔


انھوں نے آخر میں دینی علوم کے مبلغین کو اخلاق نبوی سے متخلق ہونے کی ضرورت کی طرف اشارہ کیا اور کہا : اگر پیغمبر اکرم صلی اللہ و علیہ و آلہ وسلم تبلیغ دین میں کامیابی حاصل کی وہ آن حضرت کے اچھے اور کامل اخلاق کی بنا پر تھی اور وہ مبلغ کامیاب ہونگے جو خود کو نبوی خلاق سے مزین کر رکھا ہو اور عوام کے ساتھ اچھے و خوش اخلاقی سے رفتار وگفتار کریں ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬