24 November 2009 - 13:53
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 600
فونت
رسا نيوزا يجنسي - عربستان کے بعض متمدن اورمتفکرافراد نے سعوديہ کے حکومتي نظام ميں ديگر مذاھب کے نظريات قبول کئے جانے کي تاکيد کي
عربستان


رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، عربستان سعودي کےمتمدن ومتفکرافراد اوريونيورسٹي کےاساتذہ کےايک گروپ نے سعوديہ کےالمدينه نيوزپيپر سے گفتگو سے مذاھب کے درميان اختلاف کو عادي ہونے کو کہتے ہوئے کہا کہ ديگر مذاھب کے نظريات معاشرے ميں قبول کئے جائيں.

   
دکتر صالح بن سعيد الزهراني ، دانشگاه ام القري مکه مکرمه کے عربي ڈپارٹمنٹ کے رئيس نے اسلامي مذاهب کے درميان اختلاف معمولي بيان کرتے ہوئے کہا : بعض افراد احساس کرتے ہيں تمام لوگ ايک عقيدہ رکھتے ہوں تعدد مذاھب بے معني ہے جب کہ يہ ادعي سنت الھي کے بر خلاف ہے اورخداوند نے انسانوں کو اسي طرح خلق کيا ہے  .


انہوں نے مزيد کہا : اسلام نے دوسروں کے نظريات کے احترام کي تاکيد کي ہے ،لوگوں کو ھرگز دوسروں کے نظرايت کو ماننے نے اور ذاتي نظريات کو طاق پر رکھنے پرمجبور نہي کرنا چاھئے.

 
استاد محمد بن مريسي الحارثي  نے بھي کہا : مذھب کے پيرودوسروں کےعقيدتي ، فقهي و فکري اختلافات  کا احترام کريں تاکہ مسالمت آميز زندگي گزار کرسکيں.  

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬
تازه ترین خبریں
مقبول خبریں