24 November 2009 - 18:27
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 605
فونت
انتشار ہوئی ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ هدیہ مسیح ؛ اڈوارڈو آنیلی کی زندگی کا جائیزہ ، مصطفی غفاری ساروی کی لکھی یہ کتاب چوتھی مرتبہ اسلامی انقلاب کے مرکز اسناد سے انتشار ہوئی ۔
هدیہ مسیح ؛ اڈوارڈو آنیلی کی زندگی کا جائیزہ

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے رپورٹ کے مطابق کتاب ھدیہ مسیح کے نام سے جو اٹلی کے ثروت ترین شخص کا بیٹا اڈوارڈو آنیلی کی زندگی کی تحقیقی جائیزہ پیش کی گئی ہے اور اس کے مسلمان ہونے اور اس اٹلی کے جوان کی مشلوک موت کو مورد بحث قرار دی گئی ہے ۔



اڈوارڈو آنیلی کا مسلمان ہونا جو اٹلی کے یک عرب پتی شخص کا بیٹا کاتھولیک عیسائی باپ اور یھودی ماں اس کے باوجود اس کا مسلمان ہونا اور جس کے با ایمان ہونے کی وجہ سے ثروت و دولت نہ ملنے کی افسانوی دھمکی پھر مظلومانہ شھادت اس کی پایداری اور مضبوط عقیدہ کی بنا پر جس میں اس زمین کے خبیث ترین یعنی صہیونستوں کا ہاتھ ہونا ایران کے عمومی افکار کی توجہ کی خاص مرکز بنی ہوئی ہے ۔
   


اڈوارڈو آنیلی کا یہ واقعہ ایک نمونہ ہے ان لوگوں کے لئے جو مادی سہولیات کے لئے اعلی اھمیت و ارزش سے دوری کرتے ہیں اور بہت سے لوگوں کے لئے یہ حجۃ ہے کہ اپنے دین کی حفاظت کریں ۔
 


اڈوارڈو آنیلی ۶ جون ۱۹۵۴ء کو نیو یارک میں پیدا ہوئے ۔ اپنی ابتدائی تعلیم اٹلی میں حاصل کی اس کے بعد انگلینڈ کے اٹلانٹک کالج کی تعلیم تمام کرنے کے بعد امریکا کے پرینسٹن یونورسیٹی سے ادیان و فلسفه شرق کے رشتہ میں ڈاکٹریٹ تمام کرکے فراغت حاصل کی ۔



اس کے والد سینیٹر جیوانی آنیلی اٹلی کے دولت مند اور فییٹ FIAT ،فراری ، لامبگینی ، لانچیا ، الفارمو ، ایویکو کار بنانے والی کمپنی کے ساتھ کئی صنعتی پارٹس بنانے کی کمپنی کے مالک ہیں اور کچھ پرائیوٹ بینک ، سوٹ و ڈریسنگ کی کمپنی ، مشہور نیوز پیپرس ، فراری کار ریس و فٹبال کی ٹیم اس کے علاوہ بلڈنگ و روڈ کنسٹکشن کمپنی ، میڈیکلی وسائل کی کمپنی اور ھیلی کپٹر بنانے کی کمپنی میں اصلی حصہ ان کا اور ان کے خاندان والوں کا تھا ۔


اڈوارڈو اپنے مسلمان ہونے کا ماجرہ اس طرح بیان کرتے ہیں : « میں نیو یارک میں تھا ایک روز کتاب خانہ میں ٹہلتا ہوا کتابوں کی طرف نگاہ کر رہا تھا کہ میری نگاہ قرآن مجید پر پڑی میں جستجو کرنے لگا کہ دیکھوں قران میں کیا لکھا ہے کیا کہا گیا ہے ، میں نے اس کو اٹھایا اور اس کی ورق گردانی شروع کر دی اور انگریزی میں اس کے آیتوں کو پڑھنا شروع کر دیا تو احساس ہوا کہ یہ کلمات نورانی کلمات ہیں اور بشر کے اقوال نہی ہو سکتے ، میں بہت ہی متائثر ہوا اور امانت کے طور پر لے جا کر مطالعہ کیا اس کے بعد احساس کیا کہ اس کو سمجھ رہا ہوں اور اس کو قبل کر رہا ہیں ۔ »  

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬