26 November 2009 - 12:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 611
فونت
رھبر معظم انقلاب اسلامی:
رسا نیوز ایجنسی ـ رھبر معظم انقلاب اسلامی نے حجاج کرام کے نام پیغام میں برائت ازمشرکین اپنے قول وعمل سے ظاھر کرنے کی ھدایت دی
رھبر معظم انقلاب اسلامي

 رسا نیوز ایجنسی کی رھبر معظم کی خبر رساں سائٹ سے منقولہ رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے حجاج کرام کے نام اس سال بھی اپنے پیغام میں حج کے گہرے مفاہیم اور اہم ترین پیغامات کے حامل اعمال کی جانب اشارہ کیا اور امت مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پر تاکید فرمائی۔


 آپ نے دشمنان اسلام کی جانب سے جاری سازشوں کے بارے میں خبردار کیا اور مسلمان قوموں کے درمیان حسن ظن اور ہمدلی کی ضرورت پر زور دیا۔ آپ نے حج کو ایک اہم ترین موقع سے تعبیر کرتے ہوئے اس سے بھرپور استفادہ کرنے کی سفارش کی۔


تفصیلی پیغام مندرجہ ذیل ہے:


بسم اللہ الرحمن الرحیم


موسم حج، آفاق عالم میں توحید کی درخشندگی اور بہار معنویت کا موسم ہے۔ حج وہ صاف و شفاف چشمہ ہے جو حج کرنے والے کو گناہ اور غفلت کی آلودگیوں سے پاک کرکے، اس کے دل وجان میں فطرت کی خداداد نورانیت کو نئی حیات دے سکتا ہے۔ میقات حج میں تفاخر اور امتیاز کا لباس اتار پھینکنا اور یک جہتی و ہمہ گیریت کا لباس "احرام" زیب تن کرنا، امت اسلامیہ کی یکرنگی کی علامت اور پورے عالم میں مسلمانوں کے اتحاد و ہمدلی کا مظہر ہے۔ حج کا پیغام ایک طرف "فالھکم الہ واحد فلہ اسلموا و بشرالمخبتین" (یعنی اور تمہارا معبود واحد معبود ہے تو اس کے سامنے سر تسلیم خم کر دو اور گڑگڑا کر مناجات کرنے والوں کو بشارت دے دو) ہے اور دوسری طرف " والمسجد الحرام الذی جعلناہ للناس سواء العاکف فیہ والباد" ( یعنی اور مسجد الحرام جسے اس نے انسانوں کے لئے قرار دیا ہے خواہ وہ مقامی لوگ ہوں یا باہر سے آئے ہوئے افراد) ہے۔ بنابریں کعبہ، اللہ کی وحدانیت کی علامت کے ساتھ ہی اسلامی اخوت و برابری اور توحید کلمہ کا مظہر بھی ہے۔


دنیا کے ہر چہار طرف سے جو مسلمان کعبے کے طواف اور روضہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کے اشتیاق کے ساتھ یہاں جمع ہوئے ہیں انہیں چاہئے کہ اس موقع کو اپنے درمیان برادری کے رشتوں کو مستحکم کرنے کے لئے، جو امت اسلامیہ کے بہت سے بڑے مسائل کا حل ہے، غنیمت سمجھیں۔ میں آج واضح طور پر دیکھ رہا ہوں کہ اسلامی دنیا کے بدخواہ، پہلے سے زیادہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے میں مصروف ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ امت اسلامیہ کو آج پہلے سے زیادہ اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے۔


آج دشمنوں کے خون آلود پنجے مختلف اسلامی سرزمینوں میں کھلے عام دردناک المئے رقم کر رہے ہیں۔

صیہونیوں کے خباثت آمیز تسلط میں گرفتار فلسطین کے درد و غم میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔


مسجدالاقصی سخت خطرے میں ہے۔ غزہ کے عوام اس نسل کشی کے بعد جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی، بدستور سخت ترین حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔


افغانستان قابض طاقتوں کے بوٹوں تلے ہر روز ایک نئی مصیبت سے دوچار ہو رہا ہے۔


عراق میں پھیلی بد امنی نے عوام کا آرام و سکون چھین لیا ہے۔ یمن میں برادر کشی نے امت اسلامیہ کے قلب کوایک نیا داغ دیا ہے۔


پوری دنیا کے مسلمان سوچیں کہ حالیہ برسوں میں عراق، افغانستان اور پاکستان میں فتنوں، جنگوں، دھماکوں، دہشتگردی اور قتل عام کی وارداتوں کا جو سلسلہ شروع ہوا ہے، اس کی منصوبہ بندی کہاں اور کس طرح ہو رہی ہے؟ اس علاقے میں امریکا کی سرکردگی میں مغربی افواج کی مالکانہ اور تحکمانہ آمد سے پہلے اقوام کو ان تمام مصیبتوں اور درد وغم کا سامنا کیوں نہیں تھا؟ قابض طاقتیں ایک طرف تو فلسطین، لبنان اور دیگر علاقوں میں عوامی مزاحمتی تحریکوں کو دہشتگردی کا نام دیتی ہیں اور دوسری طرف اس علاقے کی اقوام کے درمیان وحشیانہ قومی اور فرقہ وارانہ دہشتگردی کی منصوبہ بندی اور قیادت کر رہی ہیں۔ مشرق وسطی اور شمالی افریقا کے علاقے سو سال سے زائد عرصے سے برطانیہ، فرانس اور دیگر مغربی حکومتوں اور ان کے بعد امریکا کے ہاتھوں استحصال، تسلط اور ذلت و حقارت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔


ان کے قدرتی ذخائر کو لوٹا گیا، ان کے جذبہ حریت و آزادی کو کچلا گیا، ان کی اقوام، جارح بیرونی طاقتوں کی لالچ کی بھینٹ چڑھیں اور جب اسلامی بیداری اور اقوام کی مزاحمت کی تحریکوں نے بین الاقوامی ستمگروں کے لئے اس صورتحال کا جاری رکھنا ناممکن بنا دیا اور جب شہادت کا جذبہ اور "عروج الی اللہ و فی سبیل اللہ" کا معاملہ اسلامی جہاد کے میدان میں ایک بار پھر بے نظیر عنصر کے طور پر نمایاں ہوا تو شکست خوردہ جارح قوتوں نے مکر و فریب کے طریقے اپنائے اور ماضی کی روشوں کی جگہ جدید سامراجیت کو دے دی لیکن آج مختلف الاشکال استعماری عفریت نے اسلام کو جھکانے کے لئے پوری طاقت لگادی ہے اورفوجی قوت، آہنی پنجے اور آشکارا تسلط سے لیکر پروپیگنڈوں کے شیطانی سلسلے، جھوٹ اور افواہ پھیلانے کے ہزاروں وسائل بروئے کار لانے، لوگوں کے بے رحمانہ قتل اور غارت گری کے دستے اور دہشتگرد گروہ تیار کرنے تک اور اخلاقی بے راہ روی کے وسائل کے فروغ، منشیات کی پیداوار میں توسیع اور انہیں پھیلانے سے لیکر نوجوانوں کے عزم و حوصلے اور کردار کو پست کرنے تک اور مزاحمت کے مراکز کے خلاف ہمہ گیر سیاسی یلغار سے لیکر قومی امتیاز اور فرقہ وارانہ تعصب بھڑکانے اور بھائیوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے تک  تمام ہتھکنڈے استعمال کئے ہیں۔


اگر مسلم اقوام ، اسلامی فرقوں اور مسلمان مسالک کے درمیان بد گمانی اور بد ظنی کی جگہ جو دشمن چاہتے ہیں، محبت، حسن ظن اور ہمدلی لے لے تو بدخواہوں کی سازشیں ناکام ہوجائیں گی اور امت اسلامیہ پر اپنا روز افزوں تسلط جمانے کے ان کے منحوس منصوبے خاک میں مل جائیں گے ۔ حج ان اعلا مقاصد کی تکمیل کے لئے بہترین مواقع فراہم کرتا ہے۔


مسلمان باہمی تعاون اور ان مشترکہ بنیادوں کا سہار لیکر جن کی جانب قرآن و سنت میں اشارہ کیا گیا ہے، اس مختلف الاشکال دیو کے مقابلے پر ڈٹ جانے کی طاقت حاصل کرسکتے ہیں اور اس کو اپنے ایمان و عزم سے مغلوب کرسکتے ہیں۔


 اسلامی ایران، عظیم الشان امام خمینی (رہ) کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوکر اس کامیاب مزاحمت کا واضح ترین نمونہ بن گیا ہے۔ انہیں اسلامی ایران میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔


 تیس سال کے ہتھکنڈے، سازشیں اور دشمنی؛ بغاوت اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ سے لے کر پابندیوں اور اثاثوں کے ضبط کئے جانے تک اور نفسیاتی و تشہیراتی جنگ اور ابلاغیاتی صف آرائی سے لے کر سائنسی ترقی اور نئے علوم منجملہ ایٹمی ٹکنالوجی تک رسائی کا سد باب کرنے کی کوششوں تک اور حتی گزشتہ انتخابات کے با معنی و پر شکوہ معاملے میں آشکارا مداخلت اور اشتعال انگیزی تک سب کے سب دشمن کی شکست، پسپائی اور سراسیمگی کے مناظر میں تبدیل ہو گئے اور اس آیت کی " انّ کید الشیطان کان ضعیفا" (یعنی بے شک شیطان کا حیلہ و فریب کمزور پڑ گیا) عملی تصویر ایرانیوں کی نظروں کے سامنے ایک بار پھر آ گئی۔


اور اسی طرح ہر اس جگہ جہاں عزم و ایمان سے اٹھنے والی مزاحمت، غرور و تکبر میں چور مستکبرین کے مقابلے پر آئے گی، کامیابی مومنین کو نصیب ہوگی اور شکست و رسوائی ستمگروں کا یقینی مقدر ہوگا۔ حالیہ تین برسوں میں، لبنان کی تینتیس روزہ (جنگ میں) نمایاں فتح اور غزہ کا (بائیس روزہ) سربلند جہاد اور کامیابی اس حقیقت کی زندہ مثال ہے۔


تمام سعادت مند حجاج کرام بالخصوص اسلامی ملکوں کے خطباء و علماء، جو وعدہ الہی کے اس مرکز میں شرفیاب ہوئے ہیں اور حرمین شریفین کے خطبائے جمعہ سے تاکید کے ساتھ میری سفارش یہ ہے کہ مسئلے کے صحیح ادراک کے ساتھ اپنے آج کے اولین فریضے کو پہچانیں، اپنے سامعین کے درمیان دشمنان اسلام کی سازشوں کو بے نقاب کریں اور عوام کو باہمی اتحاد و محبت کی دعوت دیں اور ہر اس چیز سے سختی سے پرہیز کریں جو مسلمانوں کے درمیان بدگمانی بڑھاتی ہے اور پورا جوش و ولولہ مستکبرین، امت اسلامیہ کے دشمنوں اور تمام فتنوں کی جڑ یعنی صیہونزم اور امریکا کے خلاف بروئے کار لائیں اور اپنے قول و فعل میں مشرکین سے بیزاری کو نمایاں کریں۔


خداوند عالم سے خاکساری کے ساتھ اپنے لئے اور آپ تمام حضرات کے لئے ہدایت، توفیق، نصرت اور رحمت کی دعا کرتا ہوں۔

والسلام علیکم

سید علی حسینی خامنہ ای

سوم ذی الحجۃ الحرام 1430

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬