09 December 2009 - 17:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 661
فونت
آيت‌الله مکارم شيرازي:
رسا نيوزايجنسي - حضرت آيت‌الله مکارم شيرازي نے اپني تقريرميں حقوق بشر کے سلسلے ميں غرب کي دوگانه رفتارپر تنقيد کرتے ہوئے کہا : ھميں متوجہ رہنا چاھئے کہ غرب کا جھوٹھا دعوا ھمارے حق ميں بھلائي کے عنوان سے نہي ہے بلکہ وہ اس کے ذريعہ اپني باتوں کو منوانا چاھتے ہيں .
آيت‌الله مکارم شيرازي

 

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، حضرت آيت‌الله ناصر مكارم شيرازي، نے اج شہرقم کےسيکڑوں طلاب وافاضل کے درميان اپنے درس خارج کي ابتداء ميں جھوٹ کے سلسلے ميں کہا : جھوٹھا انسان جسکي فطرت ميں سميشہ جھوٹ بولنا ہے بے ايمان ہے کيوں کہ جھوٹ اورايمان کا کوئي ساتھ نہي.
  

اپ نے قران کريم کي سوره نحل کي آيه 105 کے ضمن ميں کہا : فقط وہ لوگ جھوٹ بولتے ہيں جو آيات خدا پر ايمان نہي رکھتے ، ايمان اور سچائي کارابطہ، توحيد افعالي کا رابطہ ہے يعني تمام کاموں کا سرانجام خداکے ہاتھوں  ہے ھميں بندگان خدا کي خشنودي کے لئے خداکي معصيت نہي کرني چاھئے .


اپ نے مزيد کہا : خريد وفروخت کرنے ميں کچھ لوگ جھوٹ بولتے ہيں اور کہتے ہيں کہتے ہيں کہ رازق خدا ہے مگر افسوس اپني بات پر ايمان نہي رکھتے اگر خدا رازق ہے توپھر خريد وفروخت ميں جھوٹ کيسا ؟ بات يہاں تک اگئي ہے کہ بعض اعتقاد رکھتے ہيں بعض چيزوں کي خريد وفروخت بغير جھوٹ بولے نہي ہوسکتي .

   
 
اس مرجع تقليد ياد ہاني کي : وہ لوگ جھوٹ بولتے ہيں جو اللہ کي رزاقيت پر ايمان نہي رکھتے يا کچھ لوگ قدرت يامقام (پوسٹ)کوحاصل کرنے لئے جھوٹ کا دامن تھامتے ہيں اگر يہ لوگ " تعز من تشاء وتذل من تشاء  " پرايمان رکھتے توجھوٹ کےوسيلہ عزت حاصل کرنے يا ذلت کو دور کرنے کي کوشش نہي کرتے جبکہ اگر ھم خداکو قادرمطلق مانتے ہيں تو جھوٹ سےتوسل بے معني ہے .
  

اپ نے يادھاني کي : جھوٹ کي تين قسميں ہيں،  کبھي انسان لوگوں سے جھوٹ بولتا ہےجسے افواہ کہتے ہيں مگر کبھي انسان اپنے خالق اورخداوند متعال سے جھوٹ بولتا ہے اور برے کام کو صحيح ثابت کرنے کي کوشش کرتا ہے اور شرعي حيلہ اختيارکرتاہے يہ ايسا گناھکار ہے جو خود کو نيكوكارسمجھتا ہے ، افسوس اس انسان پر جواپنے خالق اورلوگوں سے جھوٹ بولتا ہے جان ليں کہ اگرمعاشرے سے جھوٹ اٹھ جائے توتمام اختلافات ،جھگڑے، برائياں کا بھي خاتمہ ہوجائے .

    

حضرت آيت‌الله مكارم شيرازي کہا: يہ زمانہ ترقي کا زمانہ ہے بڑي بڑي ترقي کے ساتھ ساتھ جھوٹ بولنے ميں بھي ترقي ہورہي ہے دنيا کا ايک بہت بڑا جھوٹ، حقوق بشر کامسئلہ ہے کہ حقوق بشر کے نام پر ايران پرتھمت لگا رہيں ، مافيا کے افراد کو پھانسي کےپھندے پر لٹکانے اورجاسوسوں کو سزاسنائي جانے پر اعتراض کرکے ، فلسطين کے مظلوں کے مظالم پرانکھ بند کرکے دفاع از حقوق بشر کا نام ديتے ہيں .
    

انہوں نے غزہ پٹي ميں اسرائيل کي جنايتوں کي جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا : اس کے باوجود کہ اقوام متحدہ اور بين الاقوامي اداروں نے غزہ ميں اسرائيل کي جنايتوں کي تصديق کي ہے مگر کسي قسم کا اقدام نہي کيا جارہا ہے ميڈيا بھي اس سلسلے ميں خاموش ہے ہاں اگر مافيا کي کوئي فرد ايران ميں پھانسي کے پھندے پر لٹکادي جائے تو حقوق بشر کے مدافعين کي اوازيں بلند ہونے لگتي ہيں .
 


تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬