01 August 2009 - 17:51
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 78
فونت
جناب مولانا سید محمد جابر باقری
رسا نیوز ایجنسی - اللہ پر بھروسہ رکھنے والا اور اس سے ڈرنے والا انسان کسی اور سے ڈرتانہیں اور کسی کی زیادہ رو رعایت کا قائل نہیں ہوتا، لہٰذا بظاہر تو وہ کچھ نقصان اٹھا جاتا ہے مگر اس کا ضمیر مطمئن ہوتاہے
سيد محمد جابر باقري جوراسي

رسا نیوز ایجنسی کے نامہ نگار کے رپورٹ کے مطابق : مدیر ماہ نامہ و ادارہٴ اصلاح لکھنئو نے فرمایا اللہ پر بھروسہ رکھنے والا اور اس سے ڈرنے والا انسان کسی اور سے ڈرتانہیں اور کسی کی زیادہ رو رعایت کا قائل نہیں ہوتا، لہٰذا بظاہر تو وہ کچھ نقصان اٹھا جاتا ہے مگر اس کا ضمیر مطمئن ہوتاہے، طاغوت سے زبردست ٹکر لینے کے بعد اور اسلامی انقلاب کا پرچم لہرانے کے بعد جب بانیٴ انقلاب آیة اللہ العظمیٰ خمینی رحمہ اللہ اس دنیا سے رخصت ہوئے تو اپنی وصیت کی ابتداء ہی میں اعلان کر دیا تھا کہ ”مطمئن دل کے ساتھ اس دنیا سے رخصت ہورہا ہوں“ اسلامی جمہوریٴ ایران کے صدر محمود احمدی نژاد کے غیر معصوموں میں سب سے بڑے آئیڈیل تھے بانیٴ انقلاب اعلیٰ اللہ مقامہ، لہٰذا ان کے اندر بھی جراٴت ایمانی کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔

اپنی گذشتہ مدت صدارت میں وہ کبھی یورپ و امریکہ و اسرائیل کی ایٹمی معاملہ میں ناجائز دھونس سے مرعوب نہیں ہوئے اور ”گیدڑ بھبیکوں“ پر کان نہیں دھرا مرحلہ وار اقتصادی پابندیاں  ان کے عزم پر کچھ بھی اثر انداز نہ ہوئیں،ا ور انہوں نے ملت ایران کی غیرت و عزت کا سودا فرعون صفت تاجران مغرب سے نہ کیا، اُدھر قدم قدم پر چوٹ کھائے ہوئے طاغوت کے لئے اور اِدھر صدر احمدی نژاد کے لئے ۱۲/ جون سن۲۰۰۹ کا صدارتی الیکشن ایک زبردست ”چیلنج“ تھا۔ عالمی وبا ”سوائن فلو“ کے ٹیکے تیار کرنے پر جس امریکہ نے ”ساڑھے تین کروڑ ڈالر“ مختص کئے ہیں اس نے ایران کے صدارتی الیکشن کو سپوتاز کرنے کے لئے”چالیس کروڑ ڈالر“ صرف کر دیئے جس کا انکشاف پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل اسلم بیگ نے کیا، ہٹلر کے نظریہ پر عمل کرتے ہوئے، خوب جھوٹ بولا گیا افواہیں پھیلائی گئیں۔ سابق وزیر اعظم اورایک صدارتی امیدوار میر حسین موسوی کو یقین دلایا گیا کہ جیت تو تمہاری ہے شکست احمدی نژاد کا مقدر ہے، لیکن جب ووٹ شماری مکمل ہوئی تو وہی ہوا جو ہوناچاہئے تھا یعنی ۶۲ فی صد سے زائد ووٹ صدر احمدی نژاد کے حصے میں آئے اور میر حسین موسوی کا مقدّر فقط ۳۴فی صد ووٹ بنے اتنے واضح فرق کے باوجود ہنگامہ آرائی کی گئی کہ الیکشن میں دھاندلی ہوئی ہے، مظاہروں کو ہوا دی گئی، مظاہرین میں زر خرید غیر متعلق مظاہرین کی شناخت کی گئی، بات دس فیصد ووٹوں کی دوبارہ گنتی کی آئی تو نتیجہ پہلے جیسا ہی برآمد ہوا جو الیکشن کی شفافیت کا ثبوت تھا۔

برطانیہ جیتے ہوئے صدر کی کرسی چھیننے کی کوشش میں سب سے آگے تھا، امریکہ کے نئے صدر نے پہلے تو کچھ محتاط انداز اختیار کیا پھر وہ بھی مظاہرین کی حمایت میں آگئے، اسرائیل نے مظاہرین کو مجاہدین کا درجہ دیا ، مغربی میڈیا نے محدود مظاہروں کو اس طرح پیش کیا کہ گویا یہ پوری قوم کی متفقہ آواز ہو، جب بددیانت مغربی پریس پر پابندی لگی تو بہت واویلا مچی حالانکہ امریکہ میں حزب اللہ کے چینل کے نشریات کو عام کرنے والے صحافی کو سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس دہرے معیار کو ایران نے قبول نہ کرتے ہوئے میڈیا پر شکنجہ کسا اور اسلامی جمہوریہ کو نقصان پہنچانے والے مظاہرین کو گرفتار کیا۔ بالآخر مغرب کی سازش ناکام ہوگئی۔ قرآن مجید نے دلاسہ دیا:    ”رنجیدہ و دل برداشتہ نہ ہوا گر تم مومن ہو تو تم سربلند رہو گے۔  (سورہٴ آل عمران آیت ۱۳۹)

دنیا اور بالخصوص ایرانی قوم کی آنکھیں کھولنے کے لئے یہی کافی تھا کہ امریکہ و یورپ اور اسرائیل جس کی تائید کریں اور پیٹ تھپ تھپائیں وہ حق پر نہ ہوگا لہٰذا مظاہرین کھلم کھلا باطل پر ہیں۔جن کی کسی بھی شکل میں تائید بھی فعل باطل ہے۔

فطری سوال اٹھتا ہے کہ پھر اندرون ملک صدارتی امیدوار میر حسین موسوی سمیت کچھ شخصیات مظاہرین کو روکنا تو دور، بظاھر تائید کر رہے ہیں ا ور کبھی دوبارہ الیکشن اور کبھی استصواب رائے کا مطالبہ ہے۔ کیا انہیں اس کا اندازہ نہیں کہ وہ بالواسطہ مغرب کا آلہٴ کار بن رہے ہیں جو دہائیوں سے اسلامی انقلاب کو تہس نہس کر نے پر تلا ہوا ہے؟

لیکن حقیقی صورت حال یہ ہے کہ بیرونی محاذ پربے لچک لہجہ اختیار کرنے والے صدر نے اندرون ملک جو بدعنوان افراد غریبوں کا خون چوس رہے ہیں آئندہ مدت صدارت میں ان بدعنوانوں سے نپٹنے کی بات کہی ان بدعنوانوں میں کچھ آقازادے بھی ہیں جو تقریباً ہر جگہ پائے جاتے ہیں، لہٰذا اندرون ملک کے یہ گنتی کے چند شخصیات مغرب ہمنوا بن کر دوبارہ الیکشن کی بات کرنے لگے     سابق صدر حجة الاسلام علی اکبر ہاشمی رفسنجانی نے ۱۷/ جولائی کو تہران کے خطبہٴ جمعہ میں اس وقت قوم کے اتحاد کی سب سے زیادہ ضرورت کی بات کہی ہے اور اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ مغرب کی قطعاً حوصلہ افزائی نہ کی جائے جس کی پوری کوشش یہ ہے کہ کسی  طرح اس بوریہ نشین، دیانت دار، جری و خوددار صدر سے پیچھا چھوٹ جائے۔ہم سب صدر احمدی نژاد کی تائید مصلحتاً نہیں بلکہ قلباً اسلئے کرتے ہیں کہ یہ دینداروعزادار اور اب تک کے تجربہ کی بنیادپر صاحب کردارمرد مومن ہیں۔ اللہ سے دعاہے کہ ان کی دینی روش برقرار رہے۔

بہر حال ایرانی قوم ایک نازک مرحلہ سے گذر چکی اسے اب انتہائی بیداروہوشیار رہنا ہے، دشمن پوری تاک میں ہے، قوم کو شکر خدا ادا کرنا چاہئے کہ : 
ع   رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬