01 February 2010 - 14:09
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 889
فونت
علامہ ناصر عباس:
رسا نيوزايجنسي - علامہ ناصر عباس نے سانحہ عاشور ميں ملوث گروہ کو بے نقاب کئےجانے کي تاکيد کي .
سانحہ عاشور ميں ملوث گروہ کو بے نقاب کيا جائے <BR>



رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت المسلمين پاکستان کے مرکزي سيکرٹري جنرل علامہ ناصر عباس جعفري نے کراچي پريس کلب ميں پريس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئےمطالبہ کيا کہ سانحہ عاشور کراچي ميں ملوث گروہ کو بے نقاب کيا جائے اور بے گناہ افراد کو في الفور رہا کيا جائے?


ہم حکومت سے کہتے ہيں کہ اگر روش نہ بدلي گئي تو حکومت کو سياسي طور پر نقصان ہو گا?


اس موقع پر علامہ مرزا يوسف حسين، شيخ محمد حسن صلاح الدين، سيد علي، آفتاب رضوي، شمشاد رضوي وديگر بھي موجود تھے?


جناب جعفري نے ايک سوال پر کہا کہ سي سي پي او کراچي نے جو 4 افراد کي بم دھماکہ ميں گرفتاري ظاہر کي ہے وہ اصل مجرم نہيں ہيں، بے قصوروں کو گرفتار کر کے ڈنڈے مار کر جرم کا اعتراف کرانا اصل مجرموں کو بچانا ہے?


انہوں نے کہا : حکومت کو فيصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ملک کو بچانا يا تباہ کرنا چاہتي ہے?


اپ نے سانحہ عاشور اور جلاؤ گھيراؤ کے واقعے کي تحقيقات ہائيکورٹ کے حاضر جج سے کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا: واقعات کے حقائق جاننے کيلئے عدالتي کميشن قائم کيا جائے?


انہوں نے کہا : تمام نام نہاد اسلامي جہادي تنظيموں کا ملکي سطح پر جڑ سے خاتمہ کيا جائے شہداء کے ورثاء کو باعزت معاوضہ ادا کيا جائے جو کم از کم 20 لاکھ ہو شہداء کے وارثوں کو ملازمت فراہم کي جائے پورے پاکستان ميں خصوصاً پارہ چنار، ڈيرہ اسماعيل خان، ہنگو اور کوئٹہ ميں ملت جعفريہ کو تحفظ فراہم کيا جائے?  

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬