06 February 2010 - 14:44
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 920
فونت
پاکستان :
رسا نيوزايجنسي - شعيہ علماء کونسل نے پاکستان ميں تين روزہ سوگ کا اعلان کيا
شيعہ علماء کونسل  صوبہ سندھ پاکستان



رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، شيعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ کا ايک ہنگامي تعزيتي اجلاس صوبائي سينئر نائب صدر علامہ جعفر سبحاني کي زير صدارت منعقد ہوا، جس ميں قائد ملت جعفريہ پاکستان علامہ سيد ساجد علي نقوي نے خصوصي شرکت کي جبکہ علامہ شبير ميثمي، علامہ شہنشاہ حسين نقوي، علامہ ناظر عباس تقوي،مولانا علي محمد نقوي، حسنين مہدي، بابرکاظمي و ديگر نے بھي شرکت کي .


اجلاس ميں کل بروز ہفتہ 6/ فروري 2010ء کو صوبہ بھر ميں پرامن ہڑتال کي کال ديتے ہوئے تمام ٹرانسپورٹرز اور کاروباري حضرات سے اپيل کي کہ وہ ان بم دھماکوں ميں شہيد ہونے والوں کيساتھ اظہار يکجہتي کے لئے اپني ٹرانسپورٹ اور کاروبار بند رکھيں.

 
تعزيتي اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفريہ پاکستان علامہ سيد ساجد علي نقوي نے چہلم امام حسين(ع)  کے موقع پر جلوسِ عزاء ميں شرکت کے لئے آنے و الي بس پر حملے اور اس کے بعد جناح اسپتال ميں بم دھماکے کي شديد مذمت اور تين روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے ان واقعات ميں شہيد اور زخمي ہونے والے عزاداران کے اہل خانہ کے ساتھ افسوس کا اظہار کيا.

 
انہوں نے کہا : سانحہ عاشور اور اس کے بعد ہونے والے آج تک کے مسلسل واقعات نے يہ بات واضح کردي ہے کہ موجودہ حکومت دہشت گردوں کے سامنے بے بس و لاچار ہوگئي ہے.


حکومت کي سستي و لاپروائي کے باعث سانحہ عاشورہ کے مجرم اب تک گرفتار نہيں ہوسکے جس کا نتيجہ مظلوم عزاداران پر آج کي ہونيو الي دہشت گردي ہے?
حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کي لاپروائي کے باعث دہشت گردوں کا نيٹ ورک اتنا مضبوط ہوچکا ہے کہ وہ حکومت کي جانب سے فول پروف انتظامات کي يقين دہانيوں کے باوجود حملے کرکے بيگناہوں کو شہيد و زخمي کرجاتے ہيں.


انہوں نے حکومت سے مطالبہ کيا کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سنجيدگي سے اقدامات کرے اور واقعات ميں ملوث عناصر کو گرفتار کرکے کيفر کردار تک پہنچائے?
جعفريہ الائنس کے رہنما علامہ عباس کميلي‘ شيعہ علماء کونسل سندھ کے جنرل سيکريٹري علامہ ناظر عباس نقوي نے حضرت امام حسين(ع) کے چہلم کے موقع پر جلوس ميں شرکت کيلئے آنے والے زائرين اور جناح اسپتال شعبہ حادثات کے باہر بم دھماکوں کے خلاف احتجاجاً تين روزہ پرامن سوگ کا اعلان کيا ہے.

 
علامہ عباس کميلي نے مزيد کہا : چہلم کے جلوس ميں شرکت ميں آنے والے زائرين پر حملے سے عزاداري ترک نہيں کريں گے‘ ہم حضرت امام حسين(ع)  کے پيروکار ہيں اورعزاداري ہماري شہ رگ حيات ہے? ناظر عباس نقوي نے کہا : ملک ميں حکومت نام کي کوئي چيز نہيں ہے.


انہوں نے بم دھماکوں کي مذمت کرتے ہوئے تين روزہ سوگ کا اعلان کيا.

 
انہوں نے مطالبہ کيا کہ حکومت امن و امان پر قابو نہ پانے کے سبب مستعفي ہوجائے.


انہوں نے کہا کہ يہ شيعہ سنّي کا مسئلہ نہيں بلکہ ان وارداتوں ميں مٹھي بھر دہشت گرد ملوث ہيں، جن پر حکومت قابو پانے ميں ناکام ہوچکي ہے.

انہوں نے کہا کہ عوام دہشت گردوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں? انہوں نے مزيد کہا کہ اگر سانحہ يوم عاشور کے اصل ملزمان گرفتار کرلئے جاتے تو چہلم کے موقع پر دھماکے نہ ہوتے.


دريں اثناء علامہ ساجد نقوي نے بھي تين روزہ سوگ کا اعلان کيا ہے   

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬