06 February 2010 - 15:23
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 922
فونت
رسا نيوزايجنسي - چہلم حضرت امام حسين(ع) عقيدت واحترام سے مناياگيا
چہلم حضرت امام حسين(ع)


رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ،  حضرت امام حسين(ع)  کا چہلم عقيدت و احترام سے مناياگيا اس ضمن ميں شہرکے مختلف علاقوں سے جلوس عزاداري برآمد ہوئے جبکہ مختلف علاقوں اور امام بارگاہوں ميں مجالس منعقدکي گئي .


چہلم کا مرکزي جلوس نشتر پارک سے برآمد ہوا جو اپنے مخصوص راستوں ايم اے جناح روڈ، صدر ايمپريس مارکيٹ، ريگل تبت سينٹر ريڈيو پاکستان، لائٹ ہاؤس سے ہوتا ہوا حسينيہ ايرانياں کھارادر پر اختتام پذير ہوا.


جلوس ميں علم، ذوالجناح، تابوت بھي تھے جبکہ جلوس کے شرکاء نوحہ خواني اورماتم کرتے رہے? جلوس کي قيادت بوتراب اسکاؤٹس نے کي جبکہ جلوس ميں علامہ ساجد نقوي، علامہ ناظرعباس نقوي، علامہ فرقان، علامہ عابد قنبري، علامہ جعفر رضا اور ديگرعلمائے کرام نے شرکت کي.


قبل ازيں مجلس عزا سے خطاب کرتے ہوئے علماء نے حضرت امام حسين(ع)  کي عظيم قرباني پر تفصيلي روشني ڈالي.


انہوں نے فلسفہ شہادت کي اہميت بيان کرتے ہوئے کہا : کربلا ميں حضرت امام حسين(ع)  نے اپني اور اپنے اہل و عيال کے جانوں کي قرباني دے کر اسلام کو زندہ رکھا.


انہوں نے کہا : کربلا کا واقعہ ہميں درس ديتا ہے کہ دين کي بقاء کے ليے اپني جان قربان کرنے سے دريغ نہيں کرنا چاہئے.


انہوں نے گرفتار بے گناہ اہل تشيع افرادکي رہائي کا مطالبہ کيا.


جلوس کے شرکاء نے ظہرين کي نماز مولانا شيخ حسن صلاح الدين کي اقتداء ميں ادا کي .


ايم اے جناح روڈ پر امام بارگاہ علي رضاکے سامنے اماميہ اسٹوڈنٹس آرگنائزيشن کراچي کے صدر زين انصاري نے خطاب کرتے ہوئے سانحہ يوم عاشورکے اصل ملزمان کي گرفتاري کا مطالبہ کرتے ہوئے بم دھماکوں کي شديد مذمت کي.


انہوں نے کہا کہ عزاداري جاري رہے گي.


واضح رہے کہ جلوس ميں کفن پوش دستے بھي شامل تھے. 

 

 

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬