07 February 2010 - 17:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 926
فونت
شيعہ علماء کونسل پاکستان :
رسا نيوزايجنسي - شيعہ علماء کونسل پاکستان نےحکومت سے اپني درخواست ميں کہاکہ سانحہ چہلم کے دہشت گردوں کو کيفرکردار تک پہنچايا جائے .
شيعہ علماء کونسل پاکستان



رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مختلف شيعہ تنظيموں اور علمائے کرام نے سانحہ چہلم پر دھماکوں کي شديد مذمت کرتے ہوئے کہا : بے گناہوں کو قتل کرنے والے درندہ صفت ہيں جو کسي بھي طور انسان کہلانے کے مستحق نہيں.


ان علماء اور تنظيموں نے حکومت اور چيف جسٹس آف سپريم کورٹ سے مطالبہ کيا کہ ان دھماکوں کا نوٹس ليکر دہشت گردوں کو کيفرکردار تک پہنچايا جائے.


تفصيلات کے مطابق ادارہ تبليغ تعليمات اسلامي پاکستان کے سربراہ مولانا محمد عون نقوي نے چہلم حضرت امام حسين(ع) کے موقع پر ہونے والے حملوں کي مذمت کرتے ہوئے کہا : ملک ميں بسنے والے تمام طبقيات دہشت گردي کے خلاف متحد ہيں اور وہ مذہبي جلوسوں پر حملوں کو ناپسنديدگي کي نگاہ سے ديکھتے ہيں کيونکہ معصوم اور بے گناہ انسانوں کو درندگي کے ساتھ قتل کرنا کسي بھي طرح درست نہيں.

 
انہوں نے کہا : عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو وحشيانہ طريقے سے دہشت گردي کا نشانہ بنانا انتہائي گھناؤني حرکت ہے.

 
انہوں نے مزيد کہا : ان واقعات ميں ملوث افراد مسلمان تو کيا انسان کہلانے کے بھي حقدار نہيں? حکومت اس واقعہ کي عدالتي تحقيقات کرائے اور چيف جسٹس ملت جعفريہ کے اس قتل عام کے واقعہ کا ازخود نوٹس ليں.

 
دريں اثناء تحريک حسينيہ پاکستان کے مرکزي چيئرمين اور معروف عالم دين علامہ محمد حسين نے چہلم حضرت امام حسين(ع) کے موقع پر عزاداران امام کو وحشيانہ طريقوں سے ظلم اور بربريت کا نشانہ بنانے کي پرزور الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے کہا : انسانيت کے قاتل درندے پاکستان اور اسلام کو بدنام کررہے ہيں جس کي جتني بھي مذمت کي جائے کم ہے.


وحدت کونسل پاکستان کے چيئرمين مولانا آغا شبير الحسن طاہري نے کہا : سانحہ کراچي انتہائي افسوسناک اور قابل مذمت ہے.


حکومت اس واقعہ کي غير جانبدارانہ عدالتي تحقيقات کرائے کيونکہ عرصہ دراز سے شيعہ مسلمانوں کو بيدردي سے قتل کيا جارہا ہے.

 
حکومت اور ديگر قومي ادارے خاموشي اختيار کئے ہوئے ہيں.


جمعيت علمائے اماميہ پاکستان کے مرکزي نائب صدر علامہ اظہر حسين نقوي نے سانحہ کراچي کي مذمت کرتے ہوئے کہا : حکومت ملت جعفريہ کے ساتھ ہونے والي زيادتيوں پر خاموشي اختيار کئے ہوئے ہے? عاشورہ کے بعد چہلم حضرت امام حسين(ع)  پر ہونے والا حملہ حکومت اور مقامي انتظاميہ کي ناکامي کا منہ بولتا ثبوت ہے.


 تذکرة المعصومين ٹرسٹ کا تعزيتي اجلاس جامع مسجد حيدري اورنگي ٹاؤن نمبر10 ميں انور حسين زيدي کي صدارت ميں ہوا.

 
اس اجلاس ميں کراچي اور کربلا ميں عزا داران حضرت امام حسين(ع)  پر حملوں کو کھلي دہشت گردي قرار ديتے ہوئے کہا : حکومت ملت جعفريہ کے ساتھ ہونے والي ظلم و زيادتيوں ميں برابر کي شريک ہے کيونکہ اس سے قبل عاشورہ اور اب چہلم پر نہتے عزاداران کو نشانہ بنايا گيا اور اس پر ظلم يہ کہ حکومت سندھ نے شيعہ نوجوانوں ہي کو گرفتار کرکے کھلي جانبداري کا مظاہرہ کيا.


کربلا ٹرسٹ کے منيجنگ ٹرسٹي عشرت صالح نے شہدائے چہلم کے لواحقين سے اظہار تعزيت کرتے ہوئے کہا کہ عاشورہ محرم کے بعد اب چہلم کے جلوس کو نشانہ بنايا گا جس کي جتني بھي مذمت کي جائے، کم ہے.

 
انہوں نے سوگوار خاندانوں کو صبر کي تلقين کي اور شہداء کيلئے دعائے مغفرت اور فاتحہ خواني کي.

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬