06 August 2009 - 16:47
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 95
فونت
امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف دعا اور زیارت کے آئینہ میں
امام عصر ـ‌ علیه السلام ـ کے بارے میں تفسیری، روایی، تاریخی، کلامی اور ۔۔۔۔۔۔ منابع میں بحث زیادہ ہوئی ہیں ۔ وہ منابع کہ جن میں اس امام سے متعلق مواد و مطالب ہیں وہ دعائیں اور زیارتیں ہیں جن میں خاص توجہ اور دقت کی ضرورت ہے
مسجد جمکران



امام عصر ـ‌ علیه السلام ـ کے بارے میں تفسیری، روایی، تاریخی، کلامی اور ۔۔۔۔۔۔ منابع میں بحث زیادہ ہوئی ہیں ۔ وہ منابع کہ جن میں اس امام سے متعلق مواد و مطالب ہیں وہ دعائیں اور زیارتیں ہیں جن میں خاص توجہ اور دقت کی ضرورت ہے ، دعائیں اور زیارتیں نقلی مجموع کے زیر تحت قرار پاتا ہے جو دین کے منابع میں سے ہے ۔ اس مضمون میں کوشش کی گئی ہے کہ امام مھدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کو دعا اور زیارت کے مد نظر بحث کی جائے ۔


زمین پر ان کا حجت خدا ہو نا :

شیعوں کے نظریہ کے مطابق ، زمین کبھی بھی حجت خدا سے خالی نہی رہ سکتی ، اسی وجہ سے امام مهدی علیه السلام کے سلسلہ سے ہم لوگ دعاؤں میں پڑھتے ہیں ۔   

« أَیْنَ بَقِیَّةُ اللَّهِ الَّتِی لا تَخْلُو مِنَ الْعِتْرَةِ الطَّاهِرَة»[1]

( بقیة الله کہا ں ہیں ؟ که یہ جہان  کبھی بھی عترتِ پاک اور طاهرین سے خالی نہی رہ سکتا.)

«السَّلامُ عَلَى بَقِیَّةِ اللَّهِ فِی بِلادِهِ وَ حُجَّتِهِ عَلَى عِبَادِه»[2]

( سلام ہو بَقِیَّةِ اللَّهِ پر ان کے مملکتوں میں اور حجت خدا پر ان کے بندوں پر )

« سَلامُ اللَّهِ ... عَلَى حُجَّةِ اللَّهِ وَ وَلِیِّهِ فِی أَرْضِهِ وَ بِلادِهِ وَ خَلِیفَتِهِ عَلَى خَلْقِهِ وَ عِبَادِهِ»[3]

( خدا کا سلام ... حجت خدا پر اور اس کے ولى پر ، زمین ، شهروں اور سلام ہو اس کے خلیفه خلق اور اس کے بندوں پر )

حضرت مهدی ـ علیه السلام ـ کا نسب نامہ:

حضرت مھدی ـ علیه السلام ـ پیامبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت خدیجه علیها السلام کے نسل میں سے ہیں جو حضرت فاطمه سلام اللہ علیها اور حضرت امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیه السلام کی طرف سے ان تک پہونچتے ہیں :

«أَیْنَ ابْنُ النَّبِیِّ الْمُصْطَفَى وَ ابْنُ عَلِیٍّ الْمُرْتَضَى وَ ابْنُ خَدِیجَةَ الْغَرَّاءِ وَ ابْنُ فَاطِمَةَ الْکُبْرَى»[4]

( کہاں ہیں ؟ پیغمبر اکرم محمد مصطفى صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اولاد  اور على مرتضى کی اولاد ، بلند مقام خاتون خدیجه کی اولاد اور اس جہان کی سب سے بزرگترینِ خاتون فاطمه کی اولاد ؟ )

ان کے والد کا نام ، حسن ، شیعوں کے گیارہویں امام ہیں ، امام حسن عسکری ـ علیه السلام ـ کے زیارت نامہ میں پڑھینگے :

« السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا أَبَا الْإِمَامِ الْمُنْتَظَرِ » [5]

( آپ پر سلام ہو اس امام کے والد بزرگوار جن کے انتظار میں ہم لوگ ہیں . )

امام مهدی ـ علیه السلام ـ کی سیرت اور خصوصیت :

۱۔ برائیوں سے پاکیزہ :

گناه ، عیب ، گندگی و ناپاکی سے حضرت امام مهدی ـ علیه السلام ـ کے منزہ ہو نے کے سلسلہ میں اس طرح پڑھتے ہیں :

« فَإِنَّهُ عَبْدُکَ الَّذِی اسْتَخْلَصْتَهُ لِنَفْسِکَ وَ اصْطَفَیْتَهُ عَلَى غَیْبِکَ وَ عَصَمْتَهُ مِنَ الذُّنُوبِ وَ بَرَّأْتَهُ مِنَ الْعُیُوبِ وَ طَهَّرْتَهُ مِنَ الرِّجْسِ وَ سَلَّمْتَهُ مِنَ الدَّنَسِ » [6]


(وہ [حضرت مهدی]، وہ تمہارے خالص بندوں میں سے ہیں کہ ان کو اپنا کاملا خالص بنده جانا ہے اور اپنی غیبت کے لئے ان کو چنا ہے اور ان کو گناہ سے پاک ، اور ھر طرح کے نقص وعیب سے منزہ رکھا ہے هر رجس اور پلیدى ان سے دور کر دیا ہے اور هر ناپاکى سے ان کو سلامتی عطا فرمایائی ہے . )


2. امام مهدی ـ علیه السلام ـ کی انقلابی اور اصلاحی سیرت :


دعای ندبه میں امام کے اس سیرت کی خوبیاں بیان ہوئی ہیں ۔ ظلم کو دور کرنا ، جور اور دشمنی کو مٹانا ، اسلام کو زندہ کرنا اور اس کی اصلاح کرنا ، شرک و نفاق و جھوٹ و افتراء و اختلاف و هوا پرستی کو مٹانا ظھور کے بعد امام کی ذمہ داریوں میں ہے ۔ امام  ستم کرنے والے ، معتدین، فاسق و عصیان و طغیان و عناد و ضلالت و الحاد صفت لوگوں سے مقابلہ کرینگے ۔


« أَیْنَ الْمُعَدُّ لِقَطْعِ دَابِرِ الظَّلَمَةِ أَیْنَ الْمُنْتَظَرُ لِإِقَامَةِ الْأَمْتِ وَ الْعِوَجِ أَیْنَ الْمُرْتَجَى لِإِزَالَةِ الْجَوْرِ وَ الْعُدْوَانِ أَیْنَ الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِیدِ الْفَرَائِضِ وَ السُّنَنِ أَیْنَ الْمُتَخَیَّرُ لِإِعَادَةِ الْمِلَّةِ وَ الشَّرِیعَةِ أَیْنَ الْمُؤَمَّلُ لِإِحْیَاءِ الْکِتَابِ وَ حُدُودِهِ أَیْنَ مُحْیِی مَعَالِمِ الدِّینِ وَ أَهْلِهِ أَیْنَ قَاصِمُ شَوْکَةِ الْمُعْتَدِینَ أَیْنَ هَادِمُ أَبْنِیَةِ الشِّرْکِ وَ النِّفَاقِ أَیْنَ مُبِیدُ أَهْلِ الْفُسُوقِ وَ الْعِصْیَانِ وَ الطُّغْیَانِ أَیْنَ حَاصِدُ فُرُوعِ الْغَیِّ وَ الشِّقَاقِ أَیْنَ طَامِسُ آثَارِ الزَّیْغِ وَ الْأَهْوَاءِ أَیْنَ قَاطِعُ حَبَائِلِ الْکِذْبِ وَ الاِفْتِرَاءِ أَیْنَ مُبِیدُ الْعُتَاةِ وَ الْمَرَدَةِ أَیْنَ مُسْتَأْصِلُ أَهْلِ الْعِنَادِ وَ التَّضْلِیلِ وَ الْإِلْحَادِ أَیْنَ مُعِزُّ الْأَوْلِیَاءِ وَ مُذِلُّ الْأَعْدَاء أَیْنَ جَامِعُ الْکَلِمَةِ عَلَى التَّقْوَى ... أَیْنَ صَاحِبُ یَوْمِ الْفَتْحِ وَ نَاشِرُ رَایَةِ الْهُدَى أَیْنَ مُؤَلِّفُ شَمْلِ الصَّلاَحِ وَ الرِّضَا أَیْنَ الطَّالِبُ بِذُحُولِ الْأَنْبِیَاءِ وَ أَبْنَاءِ الْأَنْبِیَاءِ أَیْنَ الطَّالِبُ بِدَمِ الْمَقْتُولِ بِکَرْبَلاَءَ أَیْنَ الْمَنْصُورُ عَلَى مَنِ اعْتَدَى عَلَیْهِ وَ افْتَرَى.» [7]


( کہاں ہے وہ جسے سلسلہ ظلم کو قطع کرنے کے لئے مہیّا کیا گیا ، کہاں ہے وہ جسکا کجی اور انحرافات کو درست کرنے کے لئے انتظار ہو رہا ہے ۔ کہاں ہے وہ جس نے ظلم اور تعدی کو زائل کرنے کی امیدیں وابستہ ہے وہ جسے فرائض اور سنن کے تجدید کے لئے ذکیرہ کیا گیا ہے ۔ کہاں ہے وہ جسے مذاھب اور شریعت کو دوبارہ منظر عام پر لانے کے لئے منتخب کیا گیا ہے وہ جس سے کتاب و خدا اور اس کے حدود کی زندگی کی امید وابستہ ہیں ۔ کہاں ہے سین اور اھل دین کے آثار کا زندہ کرنے والے ۔ کہاں ہے اھل ستم کی شوکت کی کمر توڑنے والے ۔ کہاں ہے شرک و نفاق کی عمارت کو منہدم کرنے والے ۔ کہاں ہے فسق و معصیت اور سر کشی کرنے والوں کو تباہ کرنے والے ۔ کہاں ہے گمراہی اور اختلافات کے شاخوں کو کاٹ دینے والے ۔ کہاں ہے انحراف اور خواہشات کے آثار کو محو کر دینے والے ۔ کہاں ہے کذب اور افتراع پردازیوں کی رسسیوں کو کاٹ دینے والے ۔ کہاں ہے سر کشوں اور باغیوں کو ھلاک کرنے والے ۔ کہاں ہے عناد اور الحاد و گمراہی کے ذمّہ داروں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دینے والے ۔ کہاں ہے دوستوں کو عزت دینے والے اور دشمنوں کو ذلیل کرنے والے ۔ کہاں ہے تمام کلمات کو تقوے پر جمع کرنے والے ۔ کہاں ہے وہ جو جو روز فتح کا مالک ہے اور پرچم ھدایت کا لہرانے والا ہے ۔ کہاں ہے وہ جو نیکی اور رضا کے منتشر اجرا کو جمع کرنے والے ہیں ۔ کہاں ہے انبیا اور اولاد انبیا کے خون ناحق کا بدلہ لینے والے۔ کہاں ہے شہید کربلا کے خون ناحق کا مطالبہ کرنے والے ۔ کہا ہے وہ جس کی ہر ظلم اور افتراع کرنے والے کے مقابلے میں مدد کی جانے والی ہے ۔ )



3. امام کے اخلاق:

امام مهدی ـ علیه السلام ـ کی کچھ اخلاقی صفات ، عبارتیں اس طرح ہیں :

با تقوا اور نیک ہونا :

« أَیْنَ صَدْرُ الْخَلاَئِقِ ذُو الْبِرِّ وَ التَّقْوَى » [8]

( کہاں ہیں مخلوقات کے نمونہ، جو که صاحب نیکی اور تقوى ہیں ؟ )

مهذب :

 « السَّلامُ عَلَیْکَ أَیُّهَا الْمُهَذَّبُ» [9] (سلام ہو آپ پر اے پاکیزه جان اور مهذیب .)

رحمت واسعه کے رکھنے والے :

« السَّلامُ عَلَیْکَ ... الرَّحْمَةُ الْوَاسِعَةُ » [10]

 ( سلام ہو  آپ پر... اے تمام جہان پر رحمت واسعه الهى رکھنے والے )

صاحب حلم :

 « ذُو الْحِلْمِ الَّذِی لا یَصْبُو»[11]

(صاحب مقام حلم ہیں جو لا یَصْبُو .)

و... .

امام کے صفات اخلاقی نے ، ان کو « خلیفة الله » واقعی معنا میں قرار دیا ہے :

« السَّلامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیفَةَ اللَّهِ » [12]

4. امام کی تربیتی سیرت :

امام زمان ـ علیه السلام ـ ، هادی اور معاشرے میں خداوند عالم کی طرف سے داعی ہیں ، اور روی زمین پر ، قرآن مبین پر اس کی طرف سے حجت اور دلیل ہیں ۔ :


« السَّلامُ عَلَیْکَ یَا دَاعِیَ اللَّهِ وَ رَبَّانِیَّ آیَاتِهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا بَابَ اللَّهِ وَ دَیَّانَ دِینِهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا خَلِیفَةَ اللَّهِ وَ نَاصِرَ حَقِّهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا حُجَّةَ اللَّهِ وَ دَلِیلَ إِرَادَتِهِ السَّلامُ عَلَیْکَ یَا تَالِیَ کِتَابِ اللَّهِ وَ تَرْجُمَانَهُ»[13]

سلام ہو تم پر اے خدا کی طرف سے دعوت خلق کر نے والے اور الهى نشانیوں کے مظہر اور ربانى صفات کے آئینہ ۔ سلام ہو تم پر اے خدا کے دروازے ، حاکم اور دین خدا کی حفاظت کرنے والے ۔ سلام ہو تم پر اے اللہ کے خلیفہ اور خدا کے دین کی نصرت کرنے والے ۔ سلام ہو تم پر اے خدا کے حجت اور بندوں کو خدا کی طرف راهنماى کرنے والے ۔ سلام ہو تم پر اے خدا کے کتاب کی تلاوت اور اس کی تفسیر کرنے والے ۔)

اسلام اور قرآن مجید امام کے ظهور سے پہلے متروک اور اس سے لوگ دور ہو جائنگے لیکن امام کے ظہور کے بعد اسلام اور قرآن مجید اور دین کے احکام زندہ ہو جائنگے :


« الْمُعِیدِ رَبُّنَا بِهِ الْإِسْلاَمَ جَدِیداً بَعْدَ الاِنْطِمَاسِ وَ الْقُرْآنَ غَضّاً بَعْدَ الاِنْدِرَاسِ » [14]

( وہ  امام منتظر ہیں که خدا، دین اسلام کو ان کے  وجود کے برکت سے وہ چیزیں جو متروک ہو چکی تھیں دو بارہ پلٹا دیگا اور قرآن مجید کے خشک درخت کو تازہ اور خرم بنا دیگا )


« أَیْنَ الْمُدَّخَرُ لِتَجْدِیدِ الْفَرَائِضِ وَ السُّنَنِ أَیْنَ الْمُتَخَیَّرُ لِإِعَادَةِ الْمِلَّةِ وَ الشَّرِیعَةِ أَیْنَ الْمُؤَمَّلُ لِإِحْیَاءِ الْکِتَابِ وَ حُدُودِهِ أَیْنَ مُحْیِی مَعَالِمِ الدِّینِ وَ أَهْلِهِ » [15]

( کہاں ہیں وہ جن کو فرایض اور سنتوں کو نئی کر نے کے لئے بچا رکھا ہے ۔ ؟ کہاں ہیں وہ جن کو قوم اور مقدس شریعت اسلام کو پلٹانے کے لئے چنا گیا ہے ؟ کہاں ہیں وہ جن کو آسمانی کتاب قرآن مجید اور اس کے حدود کو زندہ کرنے والے ہیں ؟  کہاں ہیں وہ جنہوں نے دین ، ایمان اور ایمان والواں کو زندہ باقی رکھا ہے ۔

 

دنیا کا مصلح :


 آخر الزمان کے دوران کا اعتقاد اور ظهور منجی غیبی کا انتظار اور دنیا کا مصلح ، ایک جهان وطنی (INTER NATIONALISM  )  نظریہ ہے اور قوم ، جغرافیا ، نژاد اور دین  یا مذهب خاص سے مخصوص نہیں ہے ۔ [16] حضرت صاحب الامر علیه السلام کے دعا کے حصّہ میں پڑھینگے :


« السَّلامُ عَلَى الْمَهْدِیِّ الَّذِی وَعَدَ اللَّهُ عَزَّ وَ جَلَّ بِهِ الْأُمَمَ أَنْ یَجْمَعَ بِهِ الْکَلِمَ وَ یَلُمَّ بِهِ الشَّعَثَ وَ یَمْلَأَ بِهِ الْأَرْضَ قِسْطا وَ عَدْلا»[17]

( سلام ہو امام مهدى علیه السلام پر جن کے لئے خدای عز و جل نے امتوں سے وعدہ کیا ہے کہ لوگوں کے مختلف عقائد ان کے وجود سے جمع کرے گا اور مخلوق کو تفرقہ سے آزاد ، اور اس کے وجود سے خداوند عالم زمین کو عدالت سے بھر دیگا ۔ )

انتظار:

وہ لرگ جو اعتقاد رکھتے ہیں کہ غیبت ولیّ خدا میں امور کے اصلاح کے لئے کوشش کرنے میں کوئی فائدہ اور ثمرہ نہی ہے ، وہ کبھی بھی طاغوتی طاقتوں سے مقابلہ اور مشکلات میں اس کے سامنے کھڑے ہونے کا انگیزه پیدا نہی کر سکتے ، لیکن وہ لوگ جن کا دل سچے انتظار اور اپنے امام کے ظھور کے امید سے بھرا ہوا ہے وہ جانتے ہیں جلد یا دیر ، زمین کے حقیقی صالحین اور حاکمین ضرور آئینگے ۔ اور سب کے حقوق ان تک واپس کرائنگے اور معاشرے میں یونے والے ظلم اور مشکلات کو صحیح کرینگے ۔ معاشرے کے امور منظم ہو جائنگے ، وہ لوگ ایسے معاشرے کو بنا نے کے لئے اپنے آپ کی اصلاح کرینگے اور اپنے معاشرے کی اصلاح کے لئے بھی جد و جہد کرینگے تا کہ اس حکوکت کریمہ کی مقدمہ سازی اور راستہ فراھم ہو ۔ اسی وجہ سے وہ لوگ جو دنیا کے سچچے مصلح کے منتظر ہیں وہ صالح بھی اور مصلح بھی ہیں ۔ اسی قدرت سے اور دل کے تہ سے اپنے مولی کے لئے خداوند عالم سے دعا میں پڑھتے ہیں ۔    [18]


« اللَّهُمَّ إِنَّا نَرْغَبُ إِلَیْکَ فِی دَوْلَةٍ کَرِیمَةٍ تُعِزُّ بِهَا الْإِسْلامَ وَ أَهْلَهُ وَ تُذِلُّ بِهَا النِّفَاقَ وَ أَهْلَهُ وَ تَجْعَلُنَا فِیهَا مِنَ الدُّعَاةِ إِلَى طَاعَتِکَ وَ الْقَادَةِ إِلَى سَبِیلِک.» [19]


( اے خدا میں تم سے امید اور اشتیاق  رکھتے ہیں کہ امام زمانہ کا ظہور فرما اسلام اور اس کے ھل کوعزت عطا کر نفاق اور اهل نفاق کو ذلیل اور رسوا قرار دے ۔ اور ہم لوگوں کو اس دولت حقہ کی دعوت اور تیری اطاعت کی توفیق عطا فرما اور پیشوایان راه هدایت سے قرار دے ۔)   


امام کے یاران اور منتظران :


امام کے یاران اور منتظران کی خوایش ہے کہ ظہور کے زمان میں ان کے ساتح ان کے رکاب میں ہوں ، ان کی خواہش یہ ہے کہ اگر امام کے ظیور سے پہلے اس دنیا سے چلے بھی گئے تو دوبارہ زندہ ہونگے اور امام کے رکاب میں حاضر ہو کر شہید ہو جائنگے ۔  


«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِی مِنْ أَنْصَارِهِ وَ أَعْوَانِهِ وَ الذَّابِّینَ عَنْهُ وَ الْمُسَارِعِینَ إِلَیْهِ فِی قَضَاءِ حَوَائِجِهِ وَ الْمُمْتَثِلِینَ لِأَوَامِرِهِ وَ الْمُحَامِینَ عَنْهُ وَ السَّابِقِینَ إِلَى إِرَادَتِهِ وَ الْمُسْتَشْهَدِینَ بَیْنَ یَدَیْه اللَّهُمَّ إِنْ حَالَ بَیْنِی وَ بَیْنَهُ الْمَوْتُ الَّذِی جَعَلْتَهُ عَلَى عِبَادِکَ حَتْماً مَقْضِیّاً فَأَخْرِجْنِی مِنْ قَبْرِی مُؤْتَزِراً کَفَنِی شَاهِراً سَیْفِی مُجَرِّداً قَنَاتِی مُلَبِّیاً دَعْوَةَ الدَّاعِی فِی الْحَاضِرِ وَ الْبَادِی »[20]


( اے پالنے والے مجھ کو ان کے انصار اور مدد گار میں قرار دے اور وہ لوگ جو ان کی طرف سے دفاع کرتے ہیں اور ان کے مقصدوں کو انجام دینے کے لئے کوشاں ہیں اور ان کے حکم کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے ارادہ ، خواہش پر سبقت کر نے کے مشتاق ہیں اور اس امام کے پہلو میں شھادت کا بلند درجہ پاتے ہیں ۔ خدایا ! مجھے ان لوگوں میں سے قرار دے ۔ اے میرے پالنے والے میرے اور ان کے درمیان موت – جو کہ تو نے اپ نے تمام بندوں کے لیئے حتمى قضاى قرار دیا ہے – سے جدائی ہو جائے تو مجھ کو قبر سے نکال دے اس حالت میں کہ میرا کفن میرے گردن میں اور شمشیر نیام سے نکالا ہوا  لبیک کی صدا بلند کرتے ہوئے ان کی دعوت کو جو تمام شہر ملک عالم کے لیئے لازم الاجابہ ہے اجابت کروں ۔)   

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 [1] . سید رضى الدین ، على بن موسى بن طاوس حلى ؛ الإقبال ‏بالأعمال ‏الحسنة فیما یعمل‏ مرة فی‏ السنة ، ج1،ص 508؛ دار الکتب الإسلامیة، دوم، تهران، 1376- 1377ش.
[2] . کفعمى، ابراهیم؛ جنة الأمان ‏الواقیة وجنة الإیمان ‏الباقیة، ص 498؛ انتشارات رضى (زاهدى)، دوم، قم، 1405ق.
[3] . شیخ محمد مشهدی ؛ المزار الکبیر، ص671؛ نشر قیوم ، اول ،1419ق؛ مجلسی، محمد باقر ؛ بحار الانوار، ج99، ص97؛ بیروت ،مؤسسة وفاء ، دوم ، 1403ه.ق .
.[4] الإقبال ‏بالأعمال ‏الحسنة فیما یعمل‏ مرة فی‏ السنة، ج1،ص 509؛ المزار الکبیر ، ص578؛ بحار الانوار ، ج 99 ، ص107.
[5] . بحار الانوار، ج99، ص67 ص .
[6]. ابو جعفر محمد بن حسن بن على بن حسن (شیخ طوسى)؛ مصباح المتهجد؛ ص414؛ مؤسسة فقه الشیعة، اول، بیروت، 1411ق. محمد بن على بن حسین بن بابویه قمى‏ شیخ صدوق؛ کمال الدین و تمام النعمة، ص514؛ مؤسسة النشر الاسلامی التابعة لجامعة المدرسین ، 1405ق .
[7] . الإقبال ‏بالأعمال ‏الحسنة فیما یعمل‏ مرة فی ‏السنة، ج1، ص509- 508 .
[8] . الإقبال ‏بالأعمال ‏الحسنة فیما یعمل‏ مرة فی ‏السنة، ج1، ص509.
[9] . سید رضى الدین، على بن موسى بن جعفر بن طاوس ، جمال الأسبوع، ص41؛ انتشارات رضى، قم. بحار الانوار ، ج99، ص215.
[10] . بحار الانوار، ج99،ص81 . کورانی، علی؛ معجم احادیث الامام المهدی،ص349؛ مؤسسة المعارف الاسلامیة ، اول ، 1411 ق.
[11] . المزار الکبیر ، ص410؛ الإقبال ‏بالأعمال ‏الحسنة فیما یعمل‏ مرة فی ‏السنة ، ج3، ص330.
[12] . بحار الانوار، ج99، ص81؛ معجم احادیث الامام المهدی،ص349.
[13] . بحار الانوار، ج99، ص81؛ معجم احادیث الامام المهدی،ص349.
[14] . بحار الانوار، ج99،ص67.
[15] . الإقبال ‏بالأعمال ‏الحسنة فیما یعمل‏ مرة فی ‏السنة، ج1، ص508 .
[16] . سید ثامر هاشم العمیدی؛ در انتظار ققنوس، ص52؛ ترجمه و تحقیق: مهدی علیزاده، مؤسسه آموزشی و پژوهشی امام خمینی، دوم، قم، 1382ش.
[17] . جنة الأمان ‏الواقیة و جنة الإیمان ‏الباقیة ص 497.
[18] . جوادی آملی، عبدالله؛ امام مهدی موجود موعود، ص183-184 ؛ تحقیق و تنظیم: سید محمد حسن مخبر، نشر اسراء، اول، قم ، 1387ش.
[19] . الإقبال ‏بالأعمال ‏الحسنة فیما یعمل ‏مرة فی ‏السنة،ج1، ص  127.
[20] . المزار الکبیر، ص 665 ؛ بحار الانوار ، ج53، ص  97.


 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬