15 April 2010 - 13:05
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1196
فونت
سید سجاد شبیر رضوی :
کہا جاتا ہے کہ عالم کو موت آتی ہے اس کے علم کو کبھی نہیں آتی اس میں کوئی شک نہیں کہ جب تک عالم کے افکار باقی رہیں وہ عالم بھی زندہ ہی رہتا ہے۔
پاکستان

حضرت علامہ عباس حیدر عابدی ایک ایسے ہی عالم تھے جن کی حیات اتحاد امت کی کوششوں کے لئے وقف رہی تھی۔ وہ تمام مکاتب فکر کے اکابرین اور ان کے ماننے والوں سے محبت کرتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسلام ایک تناور درخت ہے اور مختلف مسالک اس کی شاخیں ہیں یہی وجہ ہے کہ علامہ عباس حیدر عابدی تمام مکاتب فکر کی محفلوں میں شرکت کرتے تھے ان کے نزدیک فرقہ واریت امت مسلمہ کے لئے زہر قاتل تھی اور ہے۔

آپ کی ولادت 1932ء میں حیدر آباد دکن ھندوستان میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم دینی مدرسہ میں حاصل کی جب کہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ کا امتحان جامعہ عثمانیہ حیدرآباد دکن سے پاس کیا۔

اوائل عمری میں ہی وہ نواب بہادریارجنگ کے قافلے میں شریک ہوگئے اور تحریک پاکستان کی جدوجہد میں عملی حصہ لیا۔

سقوط حیدر آباد کے بعدآپ کراچی آگئے۔ 1951ء میں اردو کالج کراچی سے بی اے آنرز کا امتحان پاس کیا۔ زمانہ طالب علمی میں ہی آپ ایک اچھے مقرر اور بہترین مضمون نگار تھے۔ انگریز‘ عربی‘ فارسی پر آپ کو مکمل عبور حاصل تھا۔

فقہ‘ حدیث اور تفسیر پر ان کی علمی دسترس کا اندازہ ریڈیو‘ ٹیلی ویژن کے متعدد مذہبی پروگراموں سے مختلف موضوعات پر تقاریر و خطبات سے لگایا جاسکتا ہے۔ وہ اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن بھی رہے۔ ان کی علمی حیثیت اور اعلیٰ کارکردگی کی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں۔

علامہ عباس حیدر عابدی کراچی یونیورسٹی سنڈیکیٹ کے ممبر اور اردو کالج کے بورڈ آف گورنرز کے رکن بھی رہے۔ علامہ مرحوم نے ”شعب الاسلام “ کے نام سے ایک ادارہ بھی قائم کیا۔ اس ادارے کا مقصد محبت واخوت اور امداد باہمی کو عملاً فروغ دینا تھا۔

1960ء کی ابتدائی دہائی میں آپ نے مجالس کے پہلے عشرے کا آغاز امام بارگاہ شاہ ولایت سے کیا اور اس کے علاوہ کراچی کی مرکزی امام بارگاہوں سے خطاب کرتے رہے۔ ان بارگاہوں میں محفل شاہ خراساں‘ حسینیہ سجادیہ‘ شاہ نجف مارٹن روڈ‘ امام بارگاہ کھارادرشامل ہیں۔ دیگر کئی مقامات پر بھی آپ نے مجالس سے خطاب کیا۔

بین الاقوامی کانفرنسوں کے سلسلے میں انہوں نے امریکہ‘ برطانیہ اور کینیڈا سمیت متعدد ممالک کا سفر کیا۔

انہوں نے تفسیر قرآن پاک بھی لکھی ابھی وہ زیر طبع تھی کہ اپریل 1994ء میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب اس جہان فانی کو چھوڑ کر اپنے پروردگار کی جانب لوٹ گئے۔ ان کے انتقال کی خبر نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

نماز جنازہ انچولی میں ادا کی گئی جس میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کے علاوہ غیرشیعہ افراد کی ایک بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ نماز جنازہ کے بعد انچولی سے جلوس جنازہ پیدل عائشہ منزل میں واقع اسلامک ریسرچ سینٹر آیا جہاں حضرت مولانا ابن حسن جارچوی  کے پہلو میں ان کو سپرد خاک کیا گیا۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬