02 May 2010 - 17:31
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1274
فونت
قطیف کے امام جمعه نے رسا سے گفتگو میں :
رسا نیوزایجنسی - حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن صفار نے شهید مطهری کے اثارکواسلامی ممالک کی یونیورسٹز میں پڑھائے جائے کی درخواست کرتے ہوئے کہا : دنیاے اسلام میں اس گرانسنگ شخصیت کے حقیقی مقام سے مسلمانوں کو بخوبی اگاہ کیا جائے.
حجت الاسلام شيخ حسن صفار
 
رسا نیوزایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ، حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن صفار ، قطیف عربستان کےامام جمعه نے رسا سےگفتگومیں شهید مطهری کی سالگرد شهادت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا :  شهید مطهری نے دو اھم باتیں کہ جس کے اج علماء ضرورمند ہیں دنیاے علم میں وارد ہوئے ایک یہ اپ گوشه گیرعالم نہی تھے بلکہ اپ کی سرگرمیاں سماجی ، ثقافتی بہت زیادہ تھیں اور یہ کہ اپ نے اسلامی میعاروں کی بنیاد پرایک مکمل نسل کی تربیت کی اسکی بنیادی وجہ بھی یہی ہے.
 
شیخ حسن صفار نے مزید کہا : دوسری جنبہ جو اپکے مورد توجہ رہا وہ نئے علوم اور نئی ثقافت کی بہ نسبت اپکی وسعت نظری تھی اور اپ تھران میں یونیورسٹی میں درس دینے کی بنیاد پرمسلسل طلاب سے رابطہ رکھتے تھے ایک عالم دین کو معاشرے کے حالات سے واقف رہنا چاھئے تاکہ اسلامی احکامات اور مفاھیم کو عصر حاضر کے تقاضے کےمطابق معاشرے پر تطبیق دے سکے . 

قطیف کےامام جمعه نے حقیقی اسلام کی تبلیغ میں شهید مطهری کے کردار کو واضح بیان کرتے ہوئے کہا :  شهید مطهری اس لحاظ سے کہ حوزہ علمیہ اور یونیورسٹی دونوں سے مرتبط تھے انہوں نے اپنی تقریروں اورمتعدد تالیفات میں حقیقی اسلام کو دنیا کی نگاہ میں معرفی کیا 

حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن صفار نے شهید مطهری کے اثارکواسلامی ممالک کی یونیورسٹز میں پڑھائے جائے کی درخواست کرتے ہوئے کہا : اسلامی ممالک بزرگ مسلمان علماء  کے نظریات سے استفادہ کریں کہ ان میں اس ایک استاد شھید مطھری ہیں کہ اپ کے نظریات اور تفکرات پر کلاسوں میں بحث وگفتگو ہونی چاھئے  

انہوں نے اسی طرح استاد شھید مطھری کے اثارکو دنیا کی مختلف زبانوں میں ترجمہ کئے جانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا : اسلامی تعلیمات کے حوالے سے وہ اچھے علمی اثار جو دشمنوں کے  شبھات کا جواب دے سکتے ہیں ان میں سے ایک استاد شھید مطھری کے اثار ہیں

 
 
 
 
 
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬