24 July 2010 - 15:36
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1616
فونت
ایرانی پارلیمنٹ کےسربراہ :
رسا نیوزایجنسی - ایرانی پارلیمنٹ کےسربراہ نے کہا : ظھورفعالیتوں کےسرانجام کا نام اور توانآئیوں کو نتیجہ ملنے کا وقت ہے کہ اس کے بعد افراد کے لئے نیا راستہ باقی نہ رہ جائے گا ۔
علي لاريجاني

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، ایرانی پارلیمنٹ کےسربراہ ، علی لاریجانی نے چھٹھے ڈاکٹرین مهدویت اجلاس میں جسکا اج صبح سربراھان کانفرنس ہال میں اغاز ہوا کہا : حضرت حجت‌(ع) کے سلسلے میں بہت ساری روایاتیں موجود ہیں کہ ان میں دقیق تحقیق کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

انہوں نے امام مھدی (عج ) کے سلسلے میں تحقیق کا اساسی مرکز حوزات علمیہ کو بیان کرتے ہوئے کہا : موضوع مهدویت اسلامی افکار کی بنیاد ہے اور اس سلسلے میں تحقیق خاص طریقہ کا نیازمند ہے کیوں کہ اگر اسے سطحی طورپر دیکھا جائے گا تو بقیہ اسلامی شعاروں کی طرح افتوں کی نظر ہوکر رہ جائے گا ۔

پارلیمنٹ اسپیکر نے یاد دہانی کی : ھمیں جب بھی حکومت حق یا حکومت امام زمانہ کے سلسلے میں گفتگو کرنی ہو تو اختلافی مورد کو مشخص کرنا ہوگا اور واضح کرنا ہوگا کہ حکومت سےھمارا مقصد حضرت حجت کی حکومت کی حد تک ھم حکومت کریں یا حضرت حجت کی حکمرانی کے لئے زمینہ فراھم کرنا چاھتے ہیں کہ درحقیقت یہ تمام ان ممالک کی ذمہ داری ہے جو اپ کی حکومت کے زمینہ فراھم کرنے کی کوشش میں مشغول ہیں ۔

لاریجانی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ حکومت حق جسکا تذکرہ روایات میں ہے جو حضرت مهدی‌‌(عج) سے متصل ہے اس کے صفات معین ہیں مگر وقت معلوم نہی ہے اور اپ کے قیام کے سلسلے میں بھی ائمه اطهار‌(ع) سے جوروایتیں وارد ہوئی ہیں اس میں بھی وقت معین نہی کیا گیا ہے ۔

کہا: اپ کے ظھور کے سلسلے میں حکومتیں کون سا طریقہ اپنائیں جس اپ کا ظھور نزدیک ہو اسے اولیاء الھی کے بیانات سے معلوم کیا جاسکتا ہے ۔

ایرانی پارلیمنٹ کےسربراہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اسلامی نظریہ کے مطابق وحی کلام خد اہے اور پیغمبر اس کا ایک ایسا وسیلہ ہیں جنھیں کمی وزیادتی کا حق نہی کہا : ھرگز پیغمر (ص) پہ یہ بھتان نہی لگانا چاھئے کہ انہوں نے اپنے دل سے ان باتوں کا اظھار فرمایا بلکہ یہ عین حقیقت اور وحی منزل ہیں اور تمام زمانے میں باتوں کی بقا کا بھی یہی راز ہے۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬