04 September 2010 - 17:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 1793
فونت
آیت الله مکارم شیرازی :
رسا نیوزایجنسی - حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مذھب کو خرافات سے دور رکھا جائے کہا: قرآن کریم ، پیغمبر اکرم ‌‌(ص) اور ائمه اطهار‌‌(ع) کے فرمان کے تحت اعمال کو انجام دینا خرافات سے مقابل کا بہترین راستہ ہے ۔
آيت الله مکارم شيرازي

رسا نیوزایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق ، مراجع تقلید میں سے حضرت آیت‌الله ناصر مکارم شیرازی نے اج نماز ظھر عصر کے بعد شبستان امام خمینی‌‌ (ره) حرم مطهر حضرت معصومه (س) میں اپنی سلسلہ وار تفسیر قران کریم کی علمی نشست میں خرافات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا : خرافات ایک غیر عقلی ومنطقی کام کہ جسکا نہ شریعت نے حکم دیا ہے اور نہ عقل اسے ماننے تیار ہے ۔

حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی بت پرستی کو خرافات کا اھم ترین مصداق بیان کرتے ہوئے کہا : پتھر ، لکڑی ، درخت ، اجسام ، ملائکہ ، جن ، سیارے ، حیوانات کی پرستش کو شیطان کی پرستش ہے ۔

انہوں نے مزید کہا : طول تاریخ میں بت پرست اپنے ھاتھوں سے بنائے بتوں کی پرستش کرتے تھے اورانبیاء الھی نے اس بت پرستی کے خاتمے اوراس مقابلے میں بت سختیاں برداشت کی ہیں اور انہیں بہت مشقتوں کا سامنا رہا ہے ۔

اس مرجع تقلید نے یہ بیان کرتے ہوئے حال میں ایک ایسا گروپ وجود میں ایا ہے جو شیطان کی پرستش کرتے ہیں کہا : یہ لوگ سب کچھ چھوڑ کر شیطان سے جاملے ہیں اوریہ شیطان کی پرست نہی ہیں بلکہ شھوت پرست ہیں اور چاھتے ہیں برائیوں میں ازادانہ عمل کریں ۔

انہوں نے بت پرستی کی طرح ھلوکاسٹ کو مغربی دنیا امریکا ، یورپ کے خرافات میں سے شمار کرتے ہوئے کہا : اس خرافات کے ماننے والے معتقد ہیں ھیٹلر نے6 میلین یھودیوں کو زندہ جلادیا تھا اور ساری دنیا اسے ماننے پہ تیار ہے اور مخالفین کو جیل کی سزا بھگتنی پڑتی ہے ۔

حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے کہا : مورخوں کو اس سلسلے میں تحقیق کا حق نہی ہےاور کانفرنسوں میں اس سلسلے میں بحث وگفتگو نہی کی جاسکتی ۔

حضرت آیت‌الله مکارم شیرازی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مذھب کو خرافات سے دور رکھا جائے کہا: قرآن کریم ، پیغمبر اکرم ‌‌(ص) اور ائمه اطهار‌‌(ع) کے فرمان کے تحت اعمال کو انجام دینا خرافات سے مقابل کا بہترین راستہ ہے ۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬