حجت الاسلام ناصر عباس جعفري :
رسا نيوزايجنسي - حجت الاسلام ناصر عباس جعفري نے امام بارگاہ قتل گاہ اسکردوميں سانحہ چلاس کے شہداء سے تجديد عہد کے لئے عظمت شہداء کانفرنس ميں کہا کہ ميري خطا يہ کہ ہم نے کسي ايجنسي کا ايجنٹ بننا پسند نہيں کيا ?

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق ، مجلس وحدت مسلمين پاکستان بلتستان ڈويژن اور اماميہ اسٹوڈنٹس آرگنائزيشن پاکستان بلتستان ڈويژن کي جانب سے امام بارگاہ قتل گاہ اسکردوميں سانحہ چلاس کے شہداء سے تجديد عہد کے لئے عظمت شہداء کانفرنس کا انعقاد کيا گيا جس ميں علماء، افاضل و مختلف طبقے کي عوام نے شرکت کي ?
ايم ڈبليو ايم کے مرکزي سکريٹري جنرل نے يہ کہتے ہوئے کہ ہميں اپني مظلوميت کو اپني طاقت ميں بدلنا ہے ہميں مزيد منظم اور متحد ہونا ہے، اس دہشت گردي کے دروازہ خيبر کو اکھاڑنا ہے، اس وطن کي بدامني ميں امن کي بہار لانا ہے تاکيد کي : جس قوم کا اپنا سياسي سسٹم ہو اسے کوئي شکست نہيں دے سکتا، اگر آج ہم ايک سياسي قوت کي شکل ميں ہوتے تو ظالم اور مظلوم کوبرابر کي ظالمانہ لاٹھي سے نہ ہانکا جاتا، يہ ظلم ہے کہ دہشت گردوں کو ناراض نہ کرنے کے لئے مظلوموں کو بھي گرفتار کيا جائے، اب ہم کسي ظالم کو ووٹ نہيں دينگے، ہمارے ووٹ گلي کوچوں کے نہيں، ہمارے ووٹ کسي پارٹي کے نہيں بلکہ ہمارے ووٹ امام زمانہ (عج ) کے ہيں ووٹ کو وہاں دو جہاں امام زمانہ (عج ) خوش ہوں ?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ فرقہ واريت پھيلانے کے لئے مخصوص مکتب فکر کے لوگوں کے ٹرينگ کيمپ بنائے گئے جبکہ پاکستان کو بريلوي اہلسنت اور شيعوں نے مل کے بنايا تھا کہا : ان ظالم حکمرانوں نے ہزاروں قاتل تيار کئے آج ان قاتلوں کو عالمي سامراجيت امريکہ ، اسرائيل اور کبھي يہ خود استعمال کرتے ہيں اور ان قاتلوں کا پہلا نشانہ علي (ع ) کے ماننے والے ہيں کيونکہ ہم محب وطن ہيں ہم شيعہ آج تک کسي ملک مخالف دشمن کے دوست نہيں بنے ہم کسي ايجنسي کے ايجنٹ نہيں بنے ہم کسي دشمن قوت کے ايجنٹ نہيں بنے اور يہي ہمارا قصور ہے?
ايم ڈبليو ايم کے مرکزي سيکريٹري جنرل نے يہ کہتے ہوئے کہ اگر پندرہ دن تک متفقہ مطالبات ميں سے کسي ايک پر بھي عمل نہ ہوا تو پھر ملک گير دھرنے ہونگے پھر ان حکمرانوں کو پتہ چلے گا کہ محاصرہ کيا ہوتا ہے کہا : ھميں اپني مظلوميت کو اپني طاقت ميں بدلنا ہے ، ہميں مزيد منظم اور متحد ہونا ہے، ہم اپني عوامي طاقت سے ان ظالم حکمرانوں کو خس و خاشاک کے طرح بہائيں گے، اس دہشت گردي کے دروازہ خيبر کو ہميں اکھاڑنا ہے اس وطن کي بدامني ميں امن کي بہار ہميں لانا ہے?
انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ اس ملک ميں فوجي اور سويلين دونوں نے ملک کو تقسيم کيا، کسي عوامي قيادت کو پنپنے نہيں ديا گيا، ملک کو قوموں اور علاقوں ميں تقسيم کرايا گيا، فرقہ بندياں کرائي گئيں، امريکہ اور ملک کے خائن حکمرانوں کي پاليسي ايک ہے کہا : ہمارا دشمن شيعوں کو بھي مختلف شکلوں اور رنگوں ميں تقسيم کرنا چاہتا ہے، اصلي دشمن کي شناخت بہت ضروري ہے دشمن کے آلہ کار اس وقت نابود ہونگے جب اصلي دشمن کے ہاتھ اس مادر وطن سے کاٹ ديئے جائيں?
حجت الاسلام ناصر عباس جعفري نے امام زمانہ (عج ) کو خطاب کرتے ہوئے کہ اے امام عصر ارواحنا فداء گواہ رہئے گا کہ ھم اس عصر کے کربلاء ميں يزيديت کے تعاقب ميں ہيں اورھم حسينيوں کو تنہا نہيں چھوڑا کہا : جو لوگ ان ذوات مقدسہ پر تکيہ کرتے ہيں يہ ذاتيں انہيں تنہا نہي چھوڑتيں ?
قابل ذکر ہے کہ اس کانفرنس سے ايم ڈبليو ايم گلگت بلتستان کے سکريٹري جنرل علامہ شيخ نير عباس مصطفوي و ديگر علمائے کرام و معززين نے خطاب کيا ،اور اس ميں حجت الاسلام اعجاز بہشتي، مولانا شيخ حافظ نوري کے علاوہ ديگر علمائے کرام و لوگوں کي بڑي تعداد شريک تھي ?
تبصرہ بھیجیں
برای مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
قوانین ملک و مذھب کے خالف اور قوم و اشخاص کی توہین پر مشتمل تبصرے نشر نہیں ہوں گے