18 August 2012 - 17:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4456
فونت
ايم ڈبليوايم :
رسا نيوزايجنسي - ايم ڈبليوايم کے مرکزي عھديداروں نے حاليہ بم دھماکہ اور سانحہ بابوسر کا ذمہ دارامريکا اور امريکي نوازوں کو ٹھہرايا ?
مجلس وحدت مسلمين پاکستان

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے مرکزي راہنما حجت الاسلام محمد امين شہيدي، حجت الاسلام مرزا يوسف حسين، حجت الاسلام سيد منور اور آئي ايس او کے مرکزي صدر اطہرعمران نے کي مشترکہ پريس کانفرنس ميں پاکستان کے حاليہ بم بلاسٹ اورسانحہ بابوسر کا ذمہ دار امريکا اورامريکي نوازوں کو ٹھہرايا ?

عھديداروں نے پريس کانفرنس کے شرکاء کو خوش آمديد کہتے ہوئے کہا : ھم اميد کرتے ہيں کہ آپ يوم القدس کے شرکاء پر ہونے والي دہشت گردانہ کاروائي کے حوالے سے ملت جعفريہ کے موقف کو عوام تک پہنچانے ميں اہم کردار ادا کريں گے?

انہوں نے کہا : محترم صحافي حضرات! جيسا کہ آپ کے علم ميں ہے کہ آج دنيا بھر ميں فلسطيني عوام سے اظہار يکجہتي اور غاصب صيہوني رياست اسرائيل اور اس کے سرپرست امريکہ اور يورپي طاقتوں سے بيزاري کے عنوان سے ’’عالمي يوم القدس‘‘ منايا گيا ہے جس سلسلہ ميں پاکستان کے غيور اور شجاع عوام نے بھي لاکھوں مشکلات اور مصائب کے باوجود بھي مظلوم اور نہتے فلسطينيوں سے اظہار يکجہتي کے لئے القدس ريلي کا انعقاد کيا جس ميں لاکھوں عاشقان بيت المقدس اور حريت پسندوں نے شرکت کر کے عالمي سامراجي طاقتوں کے خلاف نفرت کا اظہار کيا?اسي حوالے سے شہر کراچي کے مختلف علاقوں سے بسوں ميں سوار ہو کر شرکائے القدس ريلي مرکزي القدس ريلي ميں شرکت کے لئے روانہ ہوئے تھے تاہم يونيورسٹي روڈ پرمقامي امريکي و اسرائيلي ايجنٹوں نے ايک بس کو دہشت گردي کا نشانہ بنايا جس کے نتيجہ ميں دو جوان منظور حسين اور امتياز حسين شہيد ہو گئے جبکہ درجنوں زخمي ہوئے جن ميں سے چند کي حالت انتہائي نازک ہے ،واضح رہے کہ شرکائے القدس ريلي کي بس پر ہونے والا بم حملہ در اصل پہلے سے نصب شدہ تھا جب آئي ايس او کے کارکنان کي بس وہاں سے گذر رہي تھي تو دھماکہ کر ديا گيا ?

انہوں نے مزيد کہا : معزز صحافي حضرات! ايک ايسے وقت ميں کہ جب دنيا بھر ميں مسلم امہ ميں بيداري کي لہر جاري ہے اور وہ يک جان ہو اور متحد ہو کرعالمي سامراج سے نبرد آزما ہيں ليکن ايسے ہي وقت ميں امريکي و صيہوني ايجنٹ اپنے آقاؤں کي خوشنودي کے لئے مسلمانوں ميں تفرقہ ڈالناچاہتے ہيں او ر عراق،لبنان،شام سميت ہر جگہ مسلمانوں پربم دھماکے کرتے ہيں ،گوليان چلاتے ہيں اور مخلص مسلمانوں کا قتل عام کيا جاتا ہے ?ہم سمجھتے ہيں کہ مسلمان کو قتل کرنے والا اسلام کا دوست نہيں ہو سکتا اگر ہم پاکستان کے حالات کا جائزہ ليں تو گذشتہ ايک ہفتہ کے دوران سيکڑوں شيعہ مسلمانوں کو شہيد کيا جا چکا ہے?

گلگت ميں ہونے والا سانحہ جس ميں بسوں سے اتار کر لوگوں کے شناختي کارڈ ديکھنے کے بعد شيعہ ثابت ہونے پرشہيد کرديا گيا ، کراچي ميں روزانہ ايک سے دو شيعہ نوجوان شہيد کئے جا رہے ہيں اور آج يوم القدس کے دن جو کہ خالصتاً اسرائيل سے نفرت کے اظہار کا دن ہے ،ايک طرف يوم القدس کي ريلي پر بم حملہ کيا گيا جبکہ دوسري جانب گلبہار کے علاقے سے آنے والے شيعہ نوجوان پر فائرنگ کر کے شہيد کر ديا گيا ،ان تمام واقعات سے امريکي وصيہوني ايجنٹ دہشت گردوں نے يہ ثابت کر ديا ہے کہ ان کا اسلام سے کوئي تعلق نہيں اور يہ محض اپنے آقاؤں امريکہ اور اسرائيل کے ناپاک ايجنڈے پر عمل پيرا ہيں ?

ہم آج کے دن اس پريس کانفرنس سے امريکہ اور اس کي ناجائز اولاد اسرائيل اور ان کے مقامي ايجنٹوں کو پيغام دينا چاہتے ہيں کہ ہم مردہ باد امريکہ ،نامنظور اسرائيل کے نعرے بلند کرتے رہيں گے خواہ س کے لئے ہميں کسي بھي قسم کي قرباني دينا پڑے اس سے دريغ نہيں کريں گے، يہي ہمارے شہيد قائد حجت الاسلا عارف حسين الحسيني کا پيغام ہے کہ پاکستان کے مسائل کي اصل جڑ امريکہ ،اسرائيل اور اس کے مقامي حواري ہيں ?ہم کسي بھي قسم کي فرقي واريت پر يقين نہيں رکھتے ،ہم کسي مسلمان کو اس دھماکے کا ذمہ دار نہيں سمجھتے ،اس بم دھماکے کي تمام تر ذمہ داري کراچي ميں موجود امريکي قونصل جنرل پر عائد کرتے ہيں اورچيف جسٹس آف پاکستان سميت اعلي? اداروں سے مطالبہ کرتے ہيں کہ عالمي قوانين کے تحت کراچي ميں شرکائے القدس ريلي پر ہونے والے بم حملے اور اس کے نتيجہ ميں ہونے والي دو شہادتوں کا کراچي ميں موجود امريکي قونصل جنرل کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کيا جائے اور پاکستان سے بے دخل کيا جائے بصورت ديگر ملت جعفريہ کي نسل کشي کا سلسلہ جاري رہا تو پاکستان ميں موجود امريکي سفارت خانوں کا گھراؤ کريں گے اور عالمي دہشت گردوں کو ملک سے نکال باہر کريں گے ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬