21 August 2012 - 18:10
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4465
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر:
رسا نيوزايجنسي - حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري نے سانحہ بابوسر کے ذمہداروں کي عدم گرفتاري کي صورت ميں ملکي سطح پراحتجاج کئے جانے پرزورديتے ہوئے پاکستان کے شيعوں سے نماز عيد ميں سياہ پٹياں باندھ کرنکلنے کي تاکيد کي ?
حجت الاسلام راجہ ناصر

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري نے عيد فطر کے موقع پر ارسال کردہ پيغام ميں بابوسر کے انسانيت سوزسانحہ کي شديد الفاظ ميں مذمت کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے معصوم لوگوں کے قتل کے واقعات ميں رياستي ادارے کو برابر کے شريک جانا ?

انہوں نے يہ کہتے ہوئے کہ ہميں اس بات کا يقين ہو چکا ہے کہ کوئٹہ سے گلگت تک اہل تشيع کے منظم قتل عام ميں دہشت گردوں کي سرپرستي کي جا رہي ہے کہا: رياستي ادارے اپني ناکامي کا اعتراف کريں تو ہم دفاع وطن ميں خون کا آخري قطرہ تک بہا ديں گے?

حجت الاسلام جعفري نے ملت تشيع کے ساتھ امتيازي سلوک روا رکھنے اور دہشت گردوں کو کھلي چھٹي دينے کو پاکستان کے مفاد کے برعکس بتاتے ہوئے حکمرانوں کو امن عامہ کي بحالي ميں مکمل طور پر ناکام ہوبتايا اورکہا: ملک مزيد خانہ جنگي کا متحمل نہيں ہو سکتا، اگر بروقت تدارک نہ کيا گيا تو سامراجي قوتيں دہشت گردوں کے ذريعے شام جيسے حالات پيدا کرسکتي ہيں، جس کا خميازہ ہماري اگلي نسلوں کو بھگتنا پڑے گا?

پاکستان کي اس نامور شخصيت نے اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اگر سانحہ بابوسر کے ذمہ داروں کي گرفتاري عمل ميں نہ آئي تو عيدالفطر کے بعد ملک بھر ميں احتجاجي کال دي جائے گي اورپھر تمام حالات کي ذمہ داري حکومت اور رياستي اداروں پر ہوگي تاکيد کي : ہم نے بارہا وبارہا ميڈيا کے ذريعے حکومت اور عوام کو امريکي سفارت کاروں کي گلگت ميں آزادانہ نقل و حمل کے بارے ميں آگاہ کيا ليکن اس بات کو سنجيدگي سے نہيں ليا گيا، عوام کے غم و غصہ کو مزيد قابو ميں رکھنا اب ہمارے بس کي بات نہيں رہي، لہ?ذا حکومت ہمارے مطالبات ميں سنجيدگي سے کام لے?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬