16 December 2012 - 12:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4894
فونت
قائد ملت جعفريہ پاکستان کے ترجمان:
رسا نيوز ايجنسي ـ قائد ملت جعفريہ پاکستان حضرت آيت الله حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي کے مرکزي ترجمان نے کراچي ميں معصوم اور بے گناہ شہريوں کي تسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جاري احتجاجي دھرنے ميں بيان کيا : جب بھي عوام کي بنيادي حقوق کي پامالي ہوگي عوام اسے برداشت نہيں کرے گي ?
جب بھي عوام کي بنيادي حقوق کي پامالي ہوگي عوام اسے برداشت نہيں کرے گي

رسا نيوز ايجنسي کي رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفريہ پاکستان حضرت آيت الله حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي کے مرکزي ترجمان نے شيعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کي جانب سے کراچي ميں معصوم اور بے گناہ شہريوں کي تسلسل ٹارگٹ کلنگ کے خلاف جاري احتجاجي دھرنے ميں بيان کيا : جب بھي بنيادي حقوق کي پامالي ہوگي عوام اسے برداشت نہيں کرے گي ?

پاکستان ميں دہشت گردي کے خلاف اس دھرنے ميں علماء و ذاکرين' ماتمي انجمنوں' ملي تنظيموں سميت ہزاروں کي تعداد ميں خواتين و بچوں سميت افراد نے شرکت کي ?

اس دھرنے کے موقع پر قائد ملت جعفريہ پاکستان نے شيعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کے جنرل سيکريٹري حجت الاسلام سيد ناظر تقوي سے گفتگو کے بعد ايک اخباري بيان ميں کہا ہے کہ جب رياست اپنے شہريوں کے جاني و مالي تحفظ جيسي بنيادي اور اساسي ذمہ دارياں ادا کرنے ميں ناکام ہوجائے، جب عوام کي بنيادي مذہبي، قانوني حقوق اور شہري آزاديوں پرقدغن لگانے کي سازشيں کي جائيں اس وقت اپنے حقوق کي بازيابي کے لئے عوام مجبورا يہ قدم اٹھا رہي ہے ?

انہوں نے تاکيد کرتے ہوئے کہا : جب ٹارگٹ کلرز اور دہشت گردوں کو کھلي چھٹي دے دي جائے، جب يونيورسٹيوں ميں لعو و لہب کے پروگراموں کي تو اجازت ہو مگر نواسہ رسول اکرم ص کي ياد منانے کے لئے ''يوم حسين'' پر پابندي عائد کردي جائے، جب گلگت ميں جيد عالم دين کے قاتل اور مسلمہ دہشت گرد جيل سے فرار کرالئے جائيں، جب ايام غم ميں مصنوعي خوف و ہراس پھيلا کر عزاداري کو سنگينوں کے سائے ميں منانے کو کہا جائے، جب ڈيرہ اسماعيل خان، کراچي اور راولپنڈي ميں عزاداروں کو ان کے اپنے ہي خون ميں نہلاديا جائے اور جب کوئٹہ ميںقاتل دن ديہاڑے معصوم انساني جانوں کا قتل عام جاري رکھے ہوئے ہوں اور ان گھمبير حالات ميں عوام کا کوئي پرسان حال نہ ہو اور کسي سمت سے بھي ان کے لئے جائے پناہ باقي نہ بچے تو عوامي احتجاج کے علاوہ کوئي راستہ باقي نہيں بچتا?

انہوں نے وضاحت کي : کراچي ميں شيعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کا علامتي دھرنا رياست کے ذمہ داروں پر حجت تمام کرنے کا ايک اشارہ ہے اگر اب بھي صورت حال کي سنگيني کا ادراک نہ کيا گيا تو پھر متاثرہ عوام کا ايسا ملک گير احتجاج ہوگا جو قاتلوں ، دہشت گردوں اور بدامني پھيلانے والے عناصر کے تابوت ميں آخري کيل ثابت ہوگا?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬