31 October 2009 - 15:53
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 491
فونت
شیخ حسن صفار :
رسا نیوز ایجنسی – شیخ حسن صفار نے بیان کیا کہ شیعه و سنی کے درمیان اتحاد، دونوں دھڑے کے صرف زبانی دعوے اورکانفرنس کے برپا کرنےسے نہی بلکہ عمل سے ہوسکتا ہے.
شيخ حسن صفار


حجت الاسلام و المسلمین شیخ حسن صفار شهر قطیف عربستان کے خطیب جمعه نے رسا نیوز ایجنسی کے انٹرویومیں دنیا کے مختلف حصے جیسے افغانستان و عراق میں دھشتگردی اور بم دھماکوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مسلمانوں سے چاھا کہ دنیا اسلام میں اتحاد کے لئے مناسب قدم اٹھائیں .

انہوں نےیہ بیان کرتے ہوئے کہ شیعہ و سنی کے درمیان اتحاد کی کوشش قابل قبول تھی مگر کافی نہی تھی کہا: اس وقت مسلمانوں کو ایک دوسرے سے نزدیک کرنے کےلئےزبانی دعوے اورکانفرنس برپا کے جانے کےبجائےعمل کے میدان میں قدم اٹھانے کی ضرورت ہے .

شیخ حسن صفارنے یہ کہتے ہوئے کہ کچھ لوگ اعتقاد رکھتے ہیں مسلمانوں خصوصامتعصب وھابیوں سے اتحاد ناممکن ہے کہا: ھمیں کبھی بھی اس سلسلے میں ناامید نہی ہونا چاھئے کیوں کہ اس وقت اس سلسلے میں عربستان نے مناسب اقدامات کئے ہیں اور شیعہ علماء کی مسلسل فعالیتوں کی بناء پر بہت سارے متعصب وھابیوں کے موقف میں تبدلی واقع ہوئی ہے جیسے شیخ سلمان عوده و شیخ خوجه جو عربستان میں  وھابیوں کی برجستہ شخصیتوں میں سے ہیں ان سےھمارا بہت اچھا رابطہ ہوگیا ہے وہ مایل ہیں کہ علماء شیعہ سے اپنی گفتگو کے سلسلے میںمزید اضافہ کریں.     

انہوں نے اختلافات اور تحریک آمیز مسائل کا بیان کیا جانا شیعه و سنی کے درمیان اختلاف اوردنیاے اسلام میںخشونت کے پھلنے کا سبب بیان کرتےہوئے کہا: اگر ھم حقیقی ،سچے اور پابرجا اتحاد کے خواھان ہیں توکوشش کریں کہ شیعه و سنی ایک دوسرے کےاحترام اور بھرم کامکمل تحفظ کریں اوراختلاف امیزمسائل سے پرھیز فرمائیں جیسے شیعہ ، سنی مقدسات کی اعلنا بے احترامی نکریں اور اھل سنت بھی شیعوں وانکے مقدسات کا احترام کرتے ہوئے تکفیری افکار کو طاق پر رکھدیں.    

شیخ حسن صفارنےکہا : اگر شیعه و سنی احساس کرتے ہیں کہ ان سےطرف مقابل کے مقدسات کی بے حرمتی ہوسکتی ہے تواتحاد کی توقع غلط ہے یہ بلکل اس بات کے مانند ہے کہ کوئی اپ سے کہے "تھمیں مانتا ہوں" مگر پیٹھ پیچھے کہے" تمھارے باپ پر لعنت ہو" کہ اگر یہ بات اس انسان کے کانوں تک پہونچ جائے تو کبھی بھی اپکی اظھار دوستی پر یقین نہی کرے گا بلکہ سمجھے گا کہ ھمیشہ اسے نقصان پہچانے کے درپہ ہے. 

انہوں نے اخر میں یہ امید ظاھر کی کہ اتحاد کے سلسلے سےوسیع طورپرجوکوشش شیعه و سنی علماء مسلم ممالک میں کررہے ہیں جاری رہے تاکہ ھم ایک دن امت مسلمہ کے بیچ ایک عظیم اتحاد کے شاھد ہوں.   

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬