19 January 2013 - 23:35
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5019
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري:
رسا نيوزايجنسي – پاکستان کے نامور شيعہ عالم دين حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري نے جمعيت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کي جانب سے بلوچستان ميں گورنر راج نفاذ کي مخالفت پر شديد تنقيد کي ?
پانچ سال تک کوئٹہ کے شہري اور زائرين خون ميں نہاتے رہے مگر ان ہاوس تبديلي نہيں ا?ئي
 
رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے جنرل سکريٹري حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري نے گذشتہ روز صحافيوں سے ملاقات ميں بلوچستان حکومت کے انحلال کو کوئٹہ اور مستونگ شھيدوں کے خون کي برکت جانا ?

حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري نے بعض سني شخصيتوں کي جانب سے بلوچستان ميں گورنر راج کے نفاذ کي مخالفت کو تنقيد کا نشانہ بناتے ہوئے جمعيت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان کو خطاب ميں کہا: ان ہاؤس تبديلي کا بيان افسوسنک ہے، پانچ سال تک کوئٹہ کے شہريوں اور زئراين کو خون ميں نہلايا جاتا رہا، فضل الرحمان بتائيں کہ ان کي جماعت نے اس دوران اِن ہاؤس تبديلي کے حوالہ سے کيا اقدامات کئے تھے ؟

مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے مرکزي جنرل سکريٹري نے يہ کہتے ہوئے کہ شہدائے مستونگ اورعلمدار روڈ کے خون کي تاثير نے نہ صرف شيعہ قوم کو وحدت کي لڑي ميں پرويا بلکہ بلوچستان کے مکينوں کو بد ديانت اور نا اہل حکمرانوں سے نجات بھي دلائي تاکيد کي : بلوچستان حکومت کي برطرفي اور وہاں گورنر راج کے نفاذ کے بعد توقع کي جاسکتي ہے کہ حالات بہتر ہو جائيں گے?

انہوں نے مزيد کہا :اگر بلوچستان ميں دوبارہ حکومت بحال کي گئي تو يہ مرکزي حکومت کيلئے اچھا نہيں ہوگا کيوں کہ ھم پھر مرکزي حکومت کي برطرفي کا مطالبہ کريں گے?

جعفري نے بلوچستان اور کراچي ميں پائيدار امن کے قيام کے لئے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر فوجي آپريشن کو ضروري بتاتے ہوئے حکومت سے اس ايجنڈے پر سنجيدگي سے سوچنے کا مطالبہ کيا ?

انہوں نے ڈاکٹر طاہرالقادري کي تحريک کي حمايت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب ميں کہا: ھم ڈاکٹر طاہرالقادري کے آئيني مطالبات کي حمايت کرتے ہيں، تاہم بحيثيت تنطيم لانگ مارچ ميں شرکت باقاعدہ دعوت اور مشاورتي عمل کي متقاضي ہے ، ڈاکٹرالقادري اپني دعوت کے عمل کو وسيع کريں تاکہ کوئي اور بھي شريک ہو?

واضح رہے کہ 30 دسمبر کو مستونگ سانحہ ميں دہشت گردي کي نشانہ بننے والے 19 زائرين امام رضا (ع) کي شہداء کي نماز جنازہ حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري جبکہ خواتين شہداء کي نماز جنازہ شفاء نجفي کي اقتدا ميں ادا کي گئي?

ياد رہے کہ گذشتہ سال 30 دسمبر کو مستونگ کے نزديک دہشت گردي کي نشانہ بننے والے 19 زائرين امام رضا (ع) کي لاشيں شناخت نہ ہونے کے سبب 31 دسمبر کو ڈي اين اے ٹيسٹ کے لئے کوئٹہ سے ہولي فيملي ہسپتال راولپنڈي منتقل کي گئي تھيں، ہسپتال انتظاميہ نے بے حسي کا مظاہرہ کرتے ہوئے سولہ دن بعد ڈي اين ٹيسٹ مکمل کئے اور نعشوں کو ورثاء کے حوالے کيا گيا ، شہداء ميں سے گيارہ کا تعلق پنجاب اور پانچ کا تعلق صوبہ سندھ سے تھا ?

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬