28 January 2013 - 16:50
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5052
فونت
حجت الاسلام امين شہيدي:
رسا نيوزايجنسي - مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے مرکزي ڈپٹي جنرل سکريٹري حجت الاسلام محمد امين شہيدي نےتاکيد کي : فکري اور علمي اختلافات اچھي چيز ہے ليکن اسے دشمني ميں تبديل کرنے سے مسائل جنم ليتے ہيں ?
محمد امين شہيدي

رسا نيوزايجنسي کي رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے مرکزي ڈپٹي جنرل سکريٹري حجت الاسلام محمد امين شہيدي نے اماميہ آرگنائزشن پاکستان کے زيراہتمام اسلام آباد ہوٹل ميں '' امت مسلمہ کے مسائل کا حل اور اور اتحاد بين المسلمين'' کے عنوان سے منعقدہ سيمينار ميں امت مسلمہ کو اتحاد و يکجہتي کي دعوت دي ?

حجت الاسلام محمد امين شہيدي نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ فکري اور علمي اختلافات اچھي چيز ہيں ليکن اسے دشمني ميں تبديل کرنے اور اپني مخصوص سوچ کو دوسروں پر مسلط کرنے سے مسائل جنم لے رہے ہيں تاکيد کي: نظرياتي اختلاف کو اللہ کے رسول (ص) نے رحمت قرار ديا ہے?

انہوں نے يہ بيان کرتے ہوئے کہ لانگ مارچ اور احتجاجي دھرنوں کي مخالفت کرنے والے اب خود لانگ مارچ اور دھرنوں کي بات کر رہے ہيں ، احتجاج اور دھرنوں کو غير آئيني کہنے والوں کے پاس اب احتجاجي دھرنے دينے کا کيا جواز ہے کہا: جو لوگ ڈاکٹر طاہرالقادري کے لانگ مارچ اور دھرنے پر تنقيد کرتے تھے انہوں نے دس دن بھي نہيں گزرنے ديئے اور دھرنا دينے کي بات شروع کر دي ہے?

امين شہيدي نے يہ کہتے ہوئے کہ اس وقت پورا عالم اسلام استعماري سازشوں کي لپيٹ ميں ہے، اور پاکستان کا ہر شہري عدم تحفظ کا شکار ہے کہا : ہمارے ملک ميں دہشت گردي، لاقانونيت اور قتل و غارت گري کي بنيادي وجہ يہ ہے کہ قاتلوں کے خلاف کارروائي نہيں ہوتي اور انہيں عدالتوں سے رہا کر ديا جاتا ہے?

پاکستان کي اس نامور شيعہ شخصيت نے يہ اس بات پر زور ديتے ہوئے کہ اگر ہمارے رياستي ادارے ديانتداري کے ساتھ کام کريں اور سفاک قاتلوں کو قانون کي گرفت ميں لے کر عبرتناک سزا دلوائيں تو دہشت گردي اور لاقانونيت کو جڑوں سے اکھاڑ کر پھينکا جاسکتا ہے کہا: حضرت محمد (ص) کي زندگي استقلال اور مستقبل مزاجي سے عبارت ہے، آپ (ص) کے عدل اجتماعي، يقين محکم، عزت نفس، اعتدال، اپنے امور ميں نظم اور صبر و استقامت ہمارے ليے مشعل راہ ہيں? معاشرہ سيرت حضرت محمد (ص) سے اس حد تک دور ہوگيا ہے کہ آج لوگوں کي جہالت اور کمزوريوں سے فائدہ اٹھا کر انسانوں پر حکمراني کي جا رہي ہے?

محمد امين شہيدي نے بلوچستان ميں گورنر راج کي مخالفت کرنے والوں کو خطاب ميں کہا: انہيں صوبے ميں امن وامان کي بحالي اور دہشتگردي کے خاتمے کيلئے کيا کيا ؟ جے يو آئي سميت گورنر راج کي مخالفت کرنے والي تمام جماعتيں جواب ديں کہ کيا ان جماعتوں کے وزير اس بدامني ميں ملوث نہيں رہے ، کيا وہاں کي جيلوں سے دہشتگردوں کو فرار نہيں کرايا گيا ؟
انہوں نے مولانا فضل الرحمان سے خطاب ميں کہا: پانچ برسوں ميں ملک ميں جاري دہشتگردي کيخلاف کيا لائحہ عمل اختيار کيا ؟ جب حکومتيں ڈيليور نہيں کرتيں تو پھر ان کا دھڑن تختہ ہونا ہي ہوتا ہے ، بلوچستان حکومت کا خاتمہ ديگر صوبائي حکومتوں کيلئے نشانِ عبرت ہے اگر ديگر صوبوں ميں بھي يہي صورتحال رہي تو وہاں پر بھي عوام ان نااہل حکمرانوں کو ايوانوں سے نکال باہر کريں گے?

مجلس وحدت مسلمين پاکستان کے مرکزي ڈپٹي جنرل سکريٹري نے يہ کہتے ہوئے کہ مجلس وحدت مسلمين کے شعبہ سياسيات کي جانب سے بلوچستان ميں امن و امان اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد پيدا ہونے والي صورتحال کے تناظر ميں 29 جنوري کو کوئٹہ ميں آل پارٹيز کانفرنس منعقد کي جا رہي ہے کہا: اس ميں ملک کي تمام بڑي سياسي و مذہبي جماعتوں کو مدعو کرکے بلوچستان کي صورتحال کا راہ حل تلاش کيا جائے گا ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬