04 November 2009 - 19:15
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 513
فونت
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله صافی گلپایگانی نے مبلغان اوقاف کے اجتماع میں کہا : آج کے معاشرے میں جو امنیت کی بالا دستی ہے یہ طالب علموں ، علمائوں اور مبلغین کی کوشش و ان کے زحمات کا نتیجہ ہے ۔
آيت الله صافي گلپايگاني

 

رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کے مطابق ، حضرت آیت الله صافی گلپایگانی مرجع تقلید نے آج صبح دینی امور و اعزام مبلغ اور اوقاف و امور خیریہ کے مدیر اعلی اور ان کے گروھی تبلیغ کے ذمیہ دار کے ساتھ ملاقات کی اور کہا : آج کے معاشرے میں جو امنیت کی بالا دستی ہے یہ طالب علموں ، علمائوں اور مبلغین کی کوشش و ان کے زحمات کا نتیجہ ہے جو کہ اسلامی و انسانی تعلیمات کی تعلیم و ترویج کے بنا پر عوام کو گناہ کے انجام دینے سے محفوظ رکھتی ہے ۔


انھوں نے اپنے گفتگو میں کہا : دین اور الھی مقدسات کی تعظیم کی ترویج مبلغین و علماء کی اصل ذمہ داریوں میں سے ہے اور اگر یہ ذمہ داریاں صحیح طور سے انجام نہ پائے تو دوسرے تمام کام کی کوئی اھمیت نہی ہے ۔ 

وی در ادامه افزود: ترویج دین و تعظیم شعائر الهی از وظایف اصلی روحانیان و مبلغان است و اگر این وظایف بدرستی انجام نشود، هر کار دیگری بی ارزش است.


اس مرجع تقلید نے اظھار خیال کیا : ھر جو افراد اهل بیت علیہ السلام کے معارف کو دنیا میں پھیلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ اس کام کو انجام دینے میں پہل کریں ۔


انہوں نے تاکید کی : اگر دین کی تبلیغ ، اسلام کی ترویج اور عوام کی ھدایت نہ ہو تو عوام کا حوصلہ پست ہو جائیگا اور وہ لوگ دین سے دوری ختیار کرنے لگینگے ۔


حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے فقہ کے اس استاد نے تشریح کیا : یہ حوذات علمیہ کے طالب علم اور عالم دین ہیں جو کہ اس ملک و معاشرہ میں دین کے رشد کا باعث ہیں اور دشمنوں کے تبلیغات کو ناکام بنا دیتے ہیں ۔


انہوں نے علماء و رحانیوں کی مختلف ذمہ داریوں کو انجام دینے پر ان کے حاضر رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : علماء کا وجود جہاں بھی ہوں ملاحظه کرنے کے قابل ہے مسجدوں میں علماء کا حاضر ہونا ،  نظامی و انتظامی امور و تبلیغی مقام پر ، تمام ملک میں ان کے برکات زیادہ ہیں ۔


حضرت آیت الله صافی گلپایگانی نے یاد دھانی کرائی : امر به معروف و نهی از منکر اور دین کی حفاظت کرنا شیعی و اسلامی غنی منابع سے جیسے قرآن مجید ، نهج البلاغه ، صحیفه سجادیه و بحارالانوار مبلغین کی اصل ذمہ داریوں میں سے ہے ۔


انہون نے بیان کیا : آج کے معاشرے میں جو امنیت کی بالا دستی ہے یہ طالب علموں ، علمائوں اور مبلغین کی کوشش و ان کے زحمات کا نتیجہ ہے جو کہ اسلامی و انسانی تعلیمات کی تعلیم و ترویج کے بنا پر عوام کو گناہ کے انجام دینے سے دور رکھتی ہے ۔


اس مرجع تقلید نے اظھار خیال کیا : گمراہ فرقہ جیسے بھائیت و وھابیت وسائیل کے رشد و گسترش کے ساتھ اجتماعی صورت میں تبلیغات کا کام انجام دے رہے ہیں ، اس طرف ہماری ذمہ داری ہے کہ اسی طرح کے وسائیل کا استعمال کر کے اسلام کی آواز کو دنیا کے کانوں تک پہونچا دیں ۔


انہوں نے ایک پروجکٹ کو بیان کرتے ہوئے کہا : بھتر ہے کہ حوزہ علمیہ کے ھر طالب علم و علماء و مبلغین کی ذمہ داری ہو کہ سال میں ایک مرتبہ پانچ یا دس روز کے لئے کسی جگہ جو ان کے امکان میں ہو وہاں پر جائیں اور رفتہ رفتہ وہاں پر دین کی تبلیغ اور لوگوں کی ھدایت میں مشغول ہو جائیں ۔


اسی طرح اس پروگرام کے آغاز میں ، حجت الاسلام سید جلال رضوی مهر ، دینی امور و اعزام مبلغ اور اوقاف و امور خیریہ کے مدیر اعلی نے اپنے اس ادارہ کی کارکردگی کی ایک رپورٹ پیش کی ۔


انہون نے اس سال ۱۴۰۰۰ مبلغ کو تمام ملک میں بھیجے جانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : کاروانی صورت میں تبلیغ کے لئے ملک کے تمام نواحی میں  بھیجنا خاص کر محرم، صفر، گرمی کی چھٹی، رمضان کے مبارک مہینہ اس ادارہ کے بعض پروگراموں میں سے ہے ۔


حجت الاسلام سید جلال رضوی مهر نے اپنی گفتگو کو جاری رکھتے ہوئے کہا : اس ملک کے ثقافتی اٹلس کی آمادگی ، جس میں تبلیغی مکان اور اسی طرح مسجد ، امام بارگاہ ، حسینیہ اور مقام متبرکہ کی شناخت اور ثقافتی و غیر ثقافتی نفوذی افراد کا تبلیغی مقام میں شناخت بھی اس دینی امور و اعزام مبلغ اور اوقاف و امور خیریہ کے ایک پروگرام میں سے ہے ۔


قبل ذکر ہے ، اس پروگرام میں علماء ، سیاسیون و انتظامی پلیس اور مسجدوں کے امام بھی حاصر تھے ۔

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬