‫‫کیٹیگری‬ :
12 December 2013 - 14:30
News ID: 6213
فونت
آیت الله جوادی آملی :
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله جوادی آملی نے کہا : جب انسان خود کو نہیں دیکھے اس وقت وہ خدا کے فیض کو دیکھتا ہے اور یہ وہی ایمان ہے لیکن اس کا لازمہ یہ ہے کہ اصول دین پر ایمان لائے اور فروع دین پر عمل کرے ۔ تب یہ مومن اخلاق الہی کا متخلق ہوتا ہے اور اس وقت خود اور سماج دونوں کے لئے نجات کا سبب ہوتا ہے ۔
آيت الله جوادي آملي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله عبدالله جوادی آملی نے آج صبح اپنے فقہ کے درس خارج میں اس اشارہ کے ساتہ کہ ایمان ایک بہترین ثروت ہے اور نجات کا سبب ہے بیان کیا : قرآن کریم ایمان کی فضیلت اور مومنین کے لئے درجہ بیان کیا ہے اور کامیابی مومنین کا لئے جانا ہے «قد افلح المومنون» ۔

انہوں نے اس بیان کے ساتہ کہ ایمان کیا ہے اس سوال کا جواب علمی دیا جائے بیان کیا : ہم لوگ کہتے ہیں مومن وہ شخص ہے جو کہ خدا ، رسول ، غیب اور اصول دین پر ایمان رکھتا ہو اور فروع دین ہر عمل کرے حالانکہ یہ جواب غیر عالمانہ ہے اور ایمان کے لوازمات کو بیان کر رہا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس خارج کے استاد نے اظہار کیا : اس لئے کے ایمان کی تعریف کریں اس سے پہلے دیکھا جائے کہ مومن کون ہے اور پھر دیکھا جائے کہ مومن کی پہچان کے لئے خدا نے کس کو مومن سے تعارف کرایا ہے خداوند عالم سورہ حشر میں فرماتا ہے میں مومن ہوں «سلام مومن مهیمن ...» ۔

انہوں نے وضاحت کی : اب دیکھنا یہ ہے کہ مومن مشترک لفظی ہے جو کہ خدا کے سلسلہ میں ایک جدا معنی رکھتا ہے اور انسان کے لئے یک دوسرا معنی رکھتا ہے یا یہ کہ ایک حقیقت اور ایک معنا رکھتا ہے لیکن اس کے لوازمات فرق کرتے ہیں ۔

قرآن کریم کے مفسر نے اس اشارہ کے ساتہ کہ مومن یعنی حفاظت کرنے والا ، امان عنایت کرنے والا اور سلامتی دینے والا بیان کیا : اگر ہم لوگ خود چاہتے ہیں کہ امان میں رہیں اور خود کی سلامتی چاہیں تو پناہ گاہوں میں داخل ہونا ضروری ہے وہی پناہ گاہ کے فرمایا «کلمه لا اله الا الله حصنی» لیکن اس کا لازمہ یہ ہے کہ اصول دین پر ایمان رکھیں اور فروع دین پر عمل کریں ؛ یہ اس صورت میں ہے کہ مومنین کی جو صفت خدا نے بیان کی ہے ہم بھی اس میں شامل ہو جائے نگے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : خدا دوسروں کے لئے مفافظ ہے ہم لوگ اپنے لئے محافظ ہیں ۔ جو شخص سلامتی عنایت کرتا ہے وہ مومن ہے اور یہ مومن صاحب غلبہ ہے اسی وجہ سے غالبیت کا ذکر مومن کے ساتہ ہوتا ہے یعنی جو کہ سلامتی عطا کرنے والا ہے وہ غلبہ رکھتا ہے ، کیونکہ وہ اس حد تک صاحب قدرت ہوتا ہے کہ عذاب الیم کا مقابلہ کرتا ہے اور اپنے نفس سے مقابلہ میں خود کو نجات دیتا ہے ۔

حضرت آیت الله جوادی آملی نے اظہار کیا : امام کاظم علیہ السلام کی دعا میں بیان ہوا ہے «ان الراحل الیک قریب المسافه» ؛ اے خدا جو شخص چاہتا ہے تمہاری طرف آئے اس کے لئے بہت مختصر راستہ ہے ، ہمارے اور خدا کے فیض کے درمیان پردہ ہے ۔ مرحوم صدوق کتاب توحید میں حضرت ابراهیم سے نقل کیا ہے «لیس بینه و بین خلقه حجاب غیر خلقه» تب یہ خلق خود ایک باریک پردہ ہے نہ یہ کہ خدا اور خلق کے درمیان ایک پردہ حائل ہے بلکہ خود خلق پردہ و فاصلہ ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کے اختمام میں بیان کیا : انسان جب خود کو نہیں دیکھتا ہے اس وقت وہ خدا کے فیض کو دیکھتا ہے اور یہ وہی ایمان ہے لیکن اس کا لازمہ یہ ہے کہ اصول دین پر ایمان لائے اور فروع دین پر عمل کرے ۔ تب یہ مومن اخلاق الہی کا متخلق ہوتا ہے اور اس وقت خود اور سماج دونوں کے لئے نجات کا سبب ہوتا ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬