26 June 2014 - 17:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6942
فونت
علمائے پاکستان نے ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس میں؛
رسا نیوز ایجنسی – ملکی یکجہتی کونسل کے شاندار اجلاس میں علمائے پاکستان نے مسلکی و مذھبی اختلاف سے گریز کرنے اور اتحاد و یکجہتی کی فضا ہموار کرنے کی درخواست کی ۔
ملي يکجہتي کونسل پاکستان  ملي يکجہتي کونسل کا اجلاس

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایبٹ آباد پاکستان میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیراہتمام ایک اہم کنونشن کا اہتمام کیا گیا جس میں جس میں مختلف نمائندہ جماعتوں کے قائدین میں سے میاں اسلم، پیر عبدالشکور نقشبندی، عبدالسلام سلفی، حجت الاسلام عارف حسین واحدی، حجت الاسلام محمد امین شہیدی، ثاقب اکبر، حجت الاسلام رمضان توقیر، علامہ جہان زیب جعفری، عبد الوحید، حجت الاسلام سبطین حسینی، حجت الاسلام زاہد بخاری نے شرکت کی ۔


اس موقع پر ملت پاکستان کو درپیش چیلجز اور اس کی زبوں حالی، دہشتگردی، اسلامی اخوت، اتفاق و رواداری کی ضرورت کے موضوعات پر سیر حاصل گفتگو کی گئی ۔


شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی جنرل سکریٹری حجت الاسلام عارف حسین واحدی نے مختلف مسالک کے مابین ہم آہنگی کی ضرورت پر زور دیا ۔


مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی جنرل سکریٹری حجت الاسلام محمد امین شہیدی نے تاریخی اختلافات کو کم کرنیکی بجائے مشترکات پر یکجا ہونے کی درخواست کرتے ہوئے کہا: تاریخی اختلافات کا خاتمہ ناممکن ہے لیکن مشترکات پر قوم کو یکجا کیا جا سکتا ہے۔


سرزمین پاکستان کے ایک اور شیعہ عالم دین حجت الاسلام رمضان توقیر نے اس موقع پر یہ کہتے ہوئے کہ شہید قائد حجت الاسلام و المسلمین عارف حسین الحسینی راہ وحدت کے شہید تھے کہا: ان کی زندگی کا مقصد امت مسلمہ کے درمیان اتحاد و وحدت کا قیام تھا جس کی جزا میں انہیں شہید کیا گیا ۔


مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سرکردہ رکن حجت الاسلام سبطین حسینی نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اتحاد صرف خواص کا مطالبہ نہیں بلکہ آج کے دور میں ملت اسلامیہ کے ہر دکھی ماں، بہن اور بیٹے کی آواز ہے کہا: موجودہ دور میں اسلامی اخوت اور بھائی چارے کے لئے کام کرنا سب سے زیادہ اہم ہے ۔


البصیرہ ریسرچ سنٹر کے سربراہ  ثاقب اکبر نے مساجد سے مسلکوں کے بورڈ ہٹائے جانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا: میڈیا انتشار کو بڑھ چڑھ کر کوریج دیتا ہے لیکن وحدت اور اتفاق کی تقاریب کو کور نہیں کیا جاتا۔


انہوں نے مزید کہا : مساجد سے مسالک کے بورڈ ہٹائے جائیں، تاکہ تمام مسلمان ملکر اللہ کی عبادت کرسکیں ۔


اس اجلاس کے ایک اور مقرر سنی عالم دین پیر عبدالشکور نقشبندی نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ تمام علماء کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کی اشد ضرورت ہے کہا: اتحاد و اتفاق کا آغاز ہم اپنے ادارہ سے کریں گے ۔


ایک اور سنی عالم دین میاں اسلم نے یہ کہتے ہوئے کہ وزیرستان آپریشن کے باعث پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوگئے ہیں ، ہنگامی بنیادوں پر ان کی مدد کا مطالبہ کیا ۔


اس نشست کے دیگر مقرر سنی عالم دین عبد السلام سلفی نے ہری پور کی ایک مسجد میں ہونے والے ایک واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : وہاں واقع ایک مسجد میں دو اہل حدیث افراد نے نماز ادا کی، جس پر مسجد کے فرش کو نجس کہا گیا جو تشویشناک امر ہے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬