17 August 2014 - 17:12
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7148
فونت
کویتی مبلغ:
رسا نیوز ایجنسی – کویت کے ایک مبلغ کہا: صھیونیوں کے مقابل مسلمانوں کی تعداد کم ہونے کی بناء پر حماس کا صھیونیت سے لڑنا حرام ہے ۔
شيخ عثمان خميس

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، کویت کے ایک مبلغ شیخ عثمان خمیس نے اسلامی مزاحمت فلسطین کی غاصب صھیونیت سے جنگ کو ناجائز بتاتے ہوئے کہا: فلسطین میں یھودیوں کی تعداد مسلمانوں سے زیادہ ہونے کی بناء پر حماس کا صھیونیوں سے لڑنا ناجائز ہے ۔ 


انہوں نے مزید کہا: غزہ کے حکمرانوں کو ہماری یہ نصیحت ہے کہ تقوی الھی اختیار کریں اور مسلمانوں کو قتل عام ہونے سے بچائیں، جنگ میں پیروزی ہمارا مقصد ہے مسلمانوں کا قتل عام ہمارا منظور نہیں ہے ۔


عثمان خمیس نے سن 2006 اور 2008 کے شھداء غزہ کی تعداد کا موازنہ کرتے ہوئے کہا: محاصرہ جنگ سے کہیں بہتر ہے کیوں کہ محاصرہ میں مرنے والوں کی تعداد جنگ کے دوران سے کہیں کم ہے ۔


مگر یہ بیان بہت ساری سماجی سائٹوں کے ممبروں کی شدید تنقید کا نشانہ بنا یہاں تک کہ ایک ممبرنے تحریر کیا: اسلام کی تاریخ میں اس بھی کم تعداد میں مسلمان، دشمن سے جنگ کرنے گئے ہیں ، یہاں تک کہ غزوہ موتہ میں تین ھزار مجاھدین دو سو یھودیوں سے جنگ لڑنے کے لئے گئے اور انہوں ںے یھودیوں کے قدم اکھاڑ دئے ۔


دوسرے ممبرنے تحریر کیا: شیخ عثمان نے اپنے اس بیان کے ذریعہ آمریت کی بہت بڑی خدمت کی، یہاں تک اسرائیل کے دوسرے چائنل نے ان کی اس بات کو نشر کرتے ہوئے مزاحمت فلسطین کو یہ بات قانع کرادی کہ تم میں ہم سے لڑنے کی طاقت نہیں اور دوسری جانب ڈرپوک صھیونیوں کی ہمت بھی بڑھا دی ہے اگر تم بھاگنے کے بجائے ڈٹ جاو تو فلسطینی مسلمانوں کے مقابل پیروز ہوگے ۔ 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬