06 November 2014 - 09:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7449
فونت
ثروت اعجاز قادری :
رسا نیوز ایجنسی ـ پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے تکفیری داعش کو اسلام اور پاکستان کا دشمن بتاتے ہوئے کہا: جو مزارات اولیاء پر بم دھماکے اور بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں، ان کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہیں، یہ موجودہ وقت کے یزید ہیں ان کا مقابلہ کرنے کیلئے حسینی افکار کو اپنانا ہوگا۔
تکفيري داعش


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان سنی تحریک کے سربراہ محمد ثروت اعجاز قادری نے کہا ہے : یوم عاشور پر کراچی سمیت ملک کے دیگر شہروں میں دہشتگردی کے خطرات کے باوجود پولیس، رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنی حکمت عملی اور فول پروف سکیورٹی کے ذریعے دہشتگردوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے امن و امان کے قیام کو برقرار رکھتے ہوئے دہشتگردوں کو واضح پیغام دے دیا، دہشتگردی سے نمٹنے کے لئے ملک کے ادارے اور عوام ایک ہیں، کراچی میں دہشتگردی کے شدید خطرات کے باوجود پولیس، رینجرز و دیگر اداروں نے پُرعزم حوصلوں اور اعلٰی کارکردگی کے ذریعے دہشتگردوں کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔

پاکستان سنی تحریک کے سربراہ نے بیان کیا : پاکستان سنی تحریک ڈی جی رینجرز سندھ، آئی جی سندھ، ایڈیشنل آئی جی سندھ کو امن و امان برقرار رکھنے پر خراج تحسین پیش کرتی ہے اور امید رکھتی ہے کہ دہشتگردی کا ہمیشہ یکسوئی سے مقابلہ کیا جائے گا۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا : ہم امید رکھتے ہیں کہ عید میلاد النبی (ص) کے جلسے، جلوسوں کیلئے بھی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔ اہلسنت ملک کی اکثریت اور دہشتگردی کے خلاف علم جہاد بلند کئے ہوئے ہیں، دہشتگرد خارجی تنظیم داعش کے خلاف آواز حق بلند کیا۔

سربراہ پاکستان سنی تحریک نے تاکید کی : تکفیری داعش اسلام اور پاکستان کی دشمن ہے جو مزارات اولیاء پر بم دھماکے اور بے گناہ مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں، ان کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہیں، یہ موجودہ وقت کے یزید ہیں ان کا مقابلہ کرنے کیلئے حسینی افکار کو اپنانا ہوگا۔

ثروت اعجاز قادری نے کہا : عاشقان رسول (ص) دہشتگردوں سے گھبرانے والے نہیں ہیں، اسلام کی سربلندی اور ملک کی سلامتی کیلئے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینگے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬