‫‫کیٹیگری‬ :
23 October 2015 - 18:32
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8592
فونت
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری :
رسا نیوز ایجنسی ـ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے بیان کیا : عزاداری سید شہداء کے خاطر ہم اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں لیکن مشن حسینی سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ہم عزاداری کے راہ میں کسی رکاوٹ کو قبول نہیں کریں گے ۔
حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفري


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ حجت الاسلام راجہ ناصر عباس جعفری نے عزاداروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا : عزاداری سید شہداء ظالم قوتوں کے خلاف صدائے احتجاج ہے، رہتی دنیا تک اسے کوئی ظالم روک نہیں پائے گا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : امام عالی مقام  کی سیرت طیبہ پر مسلمان عمل پیرا ہوں تو معاشرے سے ظلم اور نا انصافی کا خاتمہ ممکن ہو، عزاداری سید شہداء اور واقعہ کربلا نے ہی اسلام کو دائمی دوام بخشا،ظالم جابر حکمرانوں کے سامنے کلمہ حق کہنا ہی پیغام حسنیت ہے، کربلا والوں کی قربانی دین محمدیۖ کی احیاء کے لئے تھی ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے سربراہ نے کہا : عزاداری واجب تھی لیکن اس برس پیروان حسینی اسے اوجب سمجھ کرانجام دیں، عزاداران امام مظلوم کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے والے دراصل اس عمل سے خوفزدہ ہیں، اگر حسینیت کا پیغام عام ہو جائے تو ظالموں کا اثر معاشرے سے ختم ہو جائے گا، کربلا عقیدت مندوں کی نہیں حقیقت پسندوں کی درسگاہ ہے، اور یہ صرف شیعوں کا عقیدہ نہیں بلکہ انسانوں کا ایمان ہے۔

حجت الاسلام  راجہ ناصر نے بیان کیا : عزاداری سید شہداء کے خاطر ہم اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں لیکن مشن حسینی سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں ۔ ہم عزاداری کے راہ میں کسی رکاوٹ کو قبول نہیں کریں گے ۔

انہوں نے علمائ، خطبائ، ذاکرین سے اپیل کرتے ہوئے کہا : ممبر حسینی سے اخوت، بھائی چارہ اور وحدت کا پیغام عام کریں، دشمن فروعی اختلافات کو ہوا دے کر پیغام حسینیت کو روکنا چاہتے ہیں، ہم ان سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے ۔

حجت الاسلام  راجہ ناصر نے وضاحت کرتے ہوئے کہا : نواسہ رسولۖ مرکز وحدت ہیں مجالس اور جلوس ہائے عزاء فکر حسینی کو دوام بخشنے کا ذریعہ ہیں،اسے کسی مسلک کے ساتھ منسلک کرنا اسلام کے ساتھ ناانصافی ہے، اسلام اگر آج زندہ ہے تو یہ کربلا والوں کا ہی احسان ہے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬