04 August 2009 - 11:13
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 86
فونت
رهبر معظم انقلاب:
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای دام ظلہ ڈاکٹر احمدی نژاد کی صدارت کی توثیق اور متعلقہ تقریب سے خطاب کرتے یوئے فرمایا: اس انتخاب میں کچھ خاص لوگ ناکام یو گئے ہیں اور کچھ جوان صداقت اور سلامت کے ساتھ میدان میں آئے تھے بعض مواقع پر غلطی کے شکار ہو گئے۔
اس انتخاب میں کچھ خاص لوگ ناکام یو گئے ہیں

   
رسا نیوز ایجنسی کی رپوٹ ، دفتر حفظ و نشر آثار مقام معظم رهبری، آیت‌الله خامنه‌ای رهبر معظم انقلاب اسلامی سے منقول خبر کے مطابق  رھبر معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای دام ظلہ عالم انسانیت کے نجات دہندہ حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کی عید میلاد کے موقع پر آج صبح ڈاکٹر احمدی نژاد کے صدارتی حکم کی توثیق کی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب بڑے ہے با شکوہ انداز سے روحانی ماحول میں منعقدہ ہوئی اور قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے بارہ جون کے یادگار کارنامے میں عظیم ملت ایران کے چار کروڑ رائے دہندگان کی شرکت کو سراہا اور عوامی مینڈیٹ کی توثیق کرتے ہوئے جناب احمدی نژاد کو صدر منصوب فرمایا۔ 


 قائد انقلاب اسلامی نے ڈاکٹر احمدی نژاد کی دوسرے دور کی صدارت کے حکم توثیق میں صدارتی انتخابات میں باہوش و سربلند ایرانی عوام کی پچاسی فیصدی شرکت کو اپنی تیس سالہ سعی و کوشش کے ثمرات کے سلسلے میں عظیم ملت ایران کی امید، قلبی وابستگی، حمیت و توجہ کی علامت قرار دیا اور اللہ تعالی کے لطف و کرم پر شکر ادا کرتے ہوئے عوام کے بے مثال اور واضح مینڈیٹ کو اسلامی انقلاب کے پر وقار اور با برکت خیال، غربت و بد عنوانی و تفریق و اشرافیہ سے مقابلے، عالمی تسلط پسندوں کے خلاف استقامت اور بلا وقفہ سعی و کوشش کی حمایت قرار دیا۔

اس تقریب میں عدلیہ اور مقننہ کے سربراہ اور دیگر اعلی حکام اور کئی ملکوں کے سفیروں نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے منجی بشریت حضرت امام مہدی علیہ السلام کے یوم ولادت کی مبارکباد پیش کی اور اس عید کے موقع پر صدارت کی توثیق کو اچھا شگون قرار دیا اور فرمایا: دینی جمہوریت کا فکر انگیز، جذاب اور بے مثال نمونہ جو انتخابات میں عوام کی بھرپور اور سنجیدہ شرکت اور اسلامی و الہی معیاروں پر عوام کی توجہ کا حیرت انگیز آمیزہ ہے، انسانی معاشرے کی عصری ضرورتوں کا حقیقی جواب شمار کیا جاتا ہے ۔


آپ نے شاہی دور میں تمام اہم میدانوں میں عوام کے کردار کو نظر انداز کئے جانے اور انقلاب سے پہلے کی موروثی آمریت کے لئے جمہوریت اور انسانی حقوق کے ٹھیکیداروں کی حمایت و تعاون کا ذکر کیا اور فرمایا: قوم کے عظیم انقلاب کے زیر سایہ میدان عمل میں عوام کی موجودگی اور الہی احکام کے سامنے ان کی خاکساری سے مل کر اسلامی جمہوریہ نام کی ایک حقیقت معرض وجود میں آئی۔


قائد انقلاب اسلامی نے جمہوریت یا اسلام نوازی میں کسی ایک کو فوقیت و ترجیح دینے کی بحث کو عبث و بے معنی قرار دیا اور فرمایا: جمہوریت اور اسلام پسندی دو مختلف حقیقتیں نہیں ہیں کیونکہ عوام پر تکیہ اور ان کے منشاء و مرضی کے احترام کا چشمہ اسلام پسندی اور احکام الہی سے ابلتا ہے۔


قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے گزشتہ تین عشروں کے حوادث اور نشیب و فراز کو اسلامی جمہوری نظام کی کفایت و افادیت کی دلیل قرار دیا اور فرمایا: گزشتہ تیس برسوں میں گوناگوں نظریات کے افراد کی شرکت سے تقریبا تیس انتخابات کا انعقاد اور خود نظام، آئین اور ملک کے بنیادی انتظامی عہدہ داروں کا عوام کے ووٹوں سے انتخاب ایسی عظیم صلاحیت و خصوصیت کا عکاس ہے جس کا ادراک کرنے سے بیرونی ناظرین قاصر رہے ہیں۔


 قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کے برسوں میں پر امن اور محترمانہ انداز میں اقتدار کی منتقلی اور اجرائی و انتظامی عہدوں کا ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہونے کو نظام کی لائق تحسین خصوصیت قرار دیا. آپ نے دینی جمہوریت اور اسلام پسندی کی حقیقی ترکیب کو اسلامی جمہوریہ کی پائیداری و استحکام کا راز قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالی کے فضل و کرم اور عوام و حکام کی دانشمندی سے یہ تحفظ بخش حقیقت ہمیشہ محفوظ رہے گی۔

قائد انقلاب اسلامی نے تقریب سے اپنے خطاب میں بارہ جون کے انتخابات کے اہم پیغامات اور ان سے حاصل ہونے والے تجربات پر روشنی ڈالی۔ آپ نے فرمایا کہ انتہائی اہم صدارتی انتخابات کا سب سے پہلا پیغام یہ تھا کہ اسلامی جمہوری نظام میں عوام کا اعتماد حاصل کرنے اور انہیں متحد و منظم کرنے کی صلاحیت برقرار ہے۔ آپ نے مزید فرمایا: انقلاب کے بعد کے برسوں میں بعض افراد اس انتظار میں بیٹھے تھے کہ اسلامی نظام پرانا ہوکر عوام کی نظروں سے اتر جائے گا لیکن گزشتہ انتخابات اور اس میں عالمی الیکشن ٹرن آوٹ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ جانے کے بعد یہ حقیقت سامنے آئی کہ اسلامی نظام تیس سال بعد عوام کا اعتماد حاصل کرنے اور انہیں منظم و متحد کرنے کے سلسلے میں زیادہ قدرت مند اور کامیاب ہے، یہ حقیقت انتخابات کے بعض ضمنی واقعات کی بنا پر نظروں سے دور نہیں رہنا چاہئے۔


قائد انقلاب اسلامی کے مطابق بارہ جون کے انتخابات کا دوسرا پیغام یہ تھا کہ نظام اور عوام کے ما بین باہمی اعتماد قائم ہے۔ آپ نے فرمایا: مختلف نظریات و افکار کے حامل افراد کے لئے میدان میں اترنے اور بحث وگفتگو میں حصہ لینے کے راستے کا کھلا ہونا اسلامی نظام کی خود اعتمادی اور قوم پر اس کے اعتماد کی علامت ہے۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مزید فرمایا: دوسری طرف عوام نے بھی نظام پر اعتماد اور بھروسہ کیا اور بیلٹ باکسوں میں اپنے با ارزش ووٹ ڈال کر منتخب نظام کی عوام میں پذیرائی کو ثابت کیا۔ اس حقیقت سے پتہ چلتا ہے کہ جو لوگ عوام کی بے اعتمادی کی بات کرتے ہیں اگر وہ خاص مقاصد کے حصول کے در پے نہیں تو پھر غفلت کا شکار ہیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: عوامی اعتماد، نظام کا بنیادی سرمایہ ہے اور ہم مختلف محکموں کے حکام اور ذمہ دار افراد سے چاہیں گے کہ اپنے عمل سے اس گرانقدر اعتماد میں مسلسل اضافہ کریں۔ قائد انقلاب اسلامی نے صدارتی انتخابات کے تیسرے پیغام کے طور پر عوام میں امید و نشاط کے وجود کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا: افسردہ اور ناامید دل انتخابات کا رخ نہیں کرتا، پولنگ مراکز پر نوجوانوں اور دیگر طبقات کی پرجوش موجودگی مستقبل کے تعلق سے معاشرے میں پائی جانے والی امید کی عکاسی کرتی ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے بارہ جون کے انتخابات کے اہم پیغامات کا جائزہ لینے کے بعد اس اہم واقعے سے حاصل ہونے والے تجربات پر روشنی ڈالی۔ آپ نے عوام اور حکام کو ان تجربات کو سنجیدگی سے لینے کی دعوت دی اور فرمایا: انتخابات کے بعد کے واقعات سے ہمیں یہ انتباہ ملا کہ دشمن ہمیشہ گھات میں ہے اور اپنی بہترین پوزیشن میں بھی اس کے ممکنہ وار کی جانب سے غفلت بے حد خطرناک ہو سکتی ہے۔


آپ نے عوام کے لئے درد سر اور تشویشناک حالات پیدا کرنے کی دشمنوں کی کوششوں اور منصوبوں کی مصدقہ اطلاعات کا حوالہ دیا اور فرمایا کہ بارہ جون کے انتخابات سے ایک بڑا تجربہ یہ ہوا کہ اگر سیاسی و سماجی میدان میں ہم ایک دوسرے سے بد ظن ہوں، ایک دوسرے کو معاندانہ نظر سے دیکھیں اور فکر و تدبر سے کام نہ لیں تو دشمن ہم پر یقینا ضرب لگانے میں کامیاب ہو جائے گا. آپ نے تاکید کے ساتھ فرمایا: عوام، تمام حکام، مختلف سیاسی نظریات کے افراد، ملک و نظام سے لگاؤ رکھنے والے سبھی لوگ حقیقی معنی میں بیدار و ہوشیار رہیں، البتہ خوش قسمتی سے قوم ہوشیار تھی اور اس نے دشمن کو غبار آلود فضا میں اس کے مطلوبہ اہداف تک پہنچنے کا موقع نہیں دیا۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے دشمنوں کو بھی گزشتہ واقعات سے تجربہ حاصل کرنے کی دعوت دی اور فرمایا: دشمن جان لے کہ اس کا سابقہ کس قوم اور نظام سے ہے اور وہ اس خیال میں نہ رہے کہ عام حربوں کا استعمال کرکے قوم کو گھٹنے ٹیک دینے پر مجبور کر دے گا۔ قائد انقلاب اسلامی نے متنبہ کرتے ہوئے فرمایا: دشمن اس خیال میں نہ رہیں کہ انیس سو اناسی کے پرشکوہ انقلاب میں عوام کے عظیم کردار کی غلط نقل اتار کر اور اس عظیم تحریک کے "کیریکیچر" کے ذریعے اسلامی نظام کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے کیونکہ یہ طاقتور اور گہری جڑوں والا نظام ان کاموں سے مغلوب نہیں ہوگا۔

قائد انقلاب اسلامی نے ملت ایران کے جذبہ ایمانی و دانشمندی کو دشمن کی کامیابی کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا اور تاریخ ایران میں عوام کے دینی جذبے سے غلط فائدہ اٹھائے جانے کی مثالیں پیش کرتے ہوئے فرمایا: مسجد ضرار اور دل و جان سے قرآن کی گہرائیوں میں ڈوبے عظیم امام (خمینی) کی نقل اتار کر ان باخبر عوام کو فریب نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اس قوم کے قلوب نور ایمان سے منور ہیں۔

آپ نے بارہ جون کے انتخابات کے اہم امتحانوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے عظیم ملت ایران کو اس عظیم الہی امتحان میں ملنے والی شاندار کامیابی کا ذکر کیا اور فرمایا: بہت سے افراد، نوجوانوں اور اہم شخصیات نے احساس ذمہ داری اور جذبہ ایمان و صداقت کے ساتھ انتخابات میں شرکت کی اور اس کے بعد قانون کے سامنے سر تسلیم خم کیا ۔ یہی لوگ اس امتحان میں کامیاب ہونے والے افراد ہیں۔


قائد انقلاب اسلامی نے گزشتہ دو مہینوں کے واقعات کے دوران بہت سی خاص شخصیات کے ناکام ہو جانے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: ان انتخابات نے بعض شخصیات کو ناکام بنا دیا جبکہ بعض نوجوانوں نے بھی جو صداقت کے ساتھ وارد میدان ہوئے تھے بعض مواقع پرغلطیاں کیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے میدان عمل میں قوم کی عظیم موجودگی کی عملی قدردانی کو منتخب صدر اور دیگر عہدہ داروں کا نقطہ امتحان قرار دیا اور فرمایا: صدر محترم جو قوم کی جانب سے اکثریتی ووٹوں اور بے مثال ٹرن آؤٹ کے ذریعے اس اہم فریضے کے لئے مامور کئے گئے ہیں اور آئندہ حکومت میں شامل ان کے ساتھی قوم کے ایمان اور اسلام کی قدردانی کرتے ہوئے عوام کی خدمت اور انقلابی اہداف کی سمت پیش قدمی کے لئے اپنی پوری توانائی بروئے کار لائیں۔


قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں آئندہ حکومت کے فرائض اور ذمہ داریوں پر بھی روشنی ڈالی۔ آپ نے اس تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد کی تقریر میں مذکور ترجیحات کو بجا اور نہایت مناسب قرار دیا اور فرمایا: جو حکومت تشکیل پانے جا رہی ہے وہ منصوبہ بندی کے ساتھ قانون پر تکیہ کرتے ہوئے ان ترجیحات کو عملی جامہ پہنائے. قائد انقلاب اسلامی نے قانون پر مرکوز منصوبہ بندی اور مجریہ، مقننہ اور عدلیہ کے تعاون کو انتخابات میں ایران کے با ایمان عوام کی بھرپور شرکت کی نعمت کا شکریہ قرار دیا اور تینوں اداروں کو باہمی تعاون اور ہمفکری کی دعوت دی۔

قائد انقلاب اسلامی نے صدر مملکت کے حامیوں کی بہت بڑی تعداد کی جانب اشارہ کیا اور فرمایا کہ ان حامیوں کے ساتھ ہی دوسرے بھی دو گروہ ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، ایک تو وہ زخم خوردہ اور خشم گیں مخالفین ہیں جو آئندہ چار سالوں میں حکومت کی مخالفت جاری رکھیں گے، دوسرے وہ ناقدین ہیں جن کو صدر مملکت اور نظام سے کوئی دشمنی نہیں ہے، ان کے نظریات اور تجاویز پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، اور میں امید کرتا ہوں کہ ایسا ہی ہوگا۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب میں ایران کے بے پناہ قدرتی و مادی ذخائر اور افرادی قوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ضروریات اور پسماندگی بھی بہت زیادہ ہے جنہیں صدر مملکت اور ان کے ساتھیوں کی کوششوں اور سعی پیہم، مختلف نظریات کے افراد حتی حکومت کے ناقدین کے تعاون و مدد اور عظیم و پائیدار کاموں کی انجام دہی کے ذریعے رفع کیا جانا چاہئے اور قوم کے اعلی اہداف کے حصول کی سمت نظام کی پیشقدمی جاری رہنی چاہئے۔

اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے دسویں حکومت کی آئندہ چار برسوں کی ترجیحات اور اہم منصوبوں کو بیان کیا۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے مغربی ڈیموکریسی اور دینی جمہوریت کے فرق کو بیان کرتے ہوئے، اقتدار کے حصول کے لئے ثروت، پارٹی اور ذرائع ابلاغ کی وسیع و پیچیدہ تشہیرات کو دنیا میں رائج مغربی ڈیموکریسی کا بنیادی ڈھانچہ قرار دیا اور کہا کہ دینی جمہوریت میں حقیقی اور بنیادی کردار عوام کا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے اسلامی جمہوری نظام کی تشکیل اور گزشتہ تیس برسوں میں مختلف انتخابات میں عوام کی شرکت کو دینی جمہوریت کا واضح نمونہ ہے۔


صدر مملکت نے کہا کہ ایران کے آگاہ و باہوش عوام نے دسویں صدارتی انتخابات میں چار کروڑ کی تعداد میں شرکت اور اپنے ارادے پر عمل کرکے بدخواہوں کے پروپیگنڈے اور نفسیاتی جنگ کو بے اثر ثابت کر دیا اور ایک بار پھر اسلامی انقلاب اور امام (خمینی رہ) کی راہ کا انتخاب کیا۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا کہ میں خود کو عوام سے متعلق اور ان کا خادم سمجھتا ہوں، سبھی چار کروڑ رائے دہندگان ملت ایران کا جز، اس عظیم کارنامے کے معمار اور عزیز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران اسلامی نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور ایک ہمہ جہتی پیش قدمی کے نزدیک پہنچ گیا ہے۔

ڈاکٹر احمدی نژاد نے انصاف کو تمام منصوبوں اور اقدامات کا بنیادی محور اور اصول قرار دیتے ہوئے کہا کہ سارے عوام پہلے درجے کے شہری اور قانون کی نظر میں مساوی ہیں، کوئی بھی شخص یا گروہ خود کو عوام اور قانون سے بالاتر تصور نہ کرے۔ صدر مملکت نے عوام کے احترام، ان کے حقوق کی پاسداری، جتائے بغیر ان کی خدمت، پاکدامنی، صداقت، شجاعت، مہربانی اور مظلوموں کی حمایت کو اسلامی حکومت کی خصوصیات قرار دیا اور کہا کہ کوئی بھی عامل ایران کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا اور قوم کا ارادہ تمام بدخواہوں کے عزائم پر غالب آئے گا۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا کہ ملت ایران کے غلبے کا واضح نمونہ ایٹمی مسئلے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دباؤ جتنا زیادہ ہوا ملت ایران کا ارادہ مستحکم تر ہوتا گیا اور اس نے اپنی قوت ارادی سے عظیم قدم اٹھائے اور پابندیوں کے اپنے اوج پر پہنچ جانے کے باوجود خلا میں سیارہ بھیجا۔

صدر مملکت نے ثقافتی، اقتصادی، سماجی اور خارجہ سیاست کے شعبوں میں دسویں حکومت کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ علمی، ادبی، فنی شخصیات اور یونیورسٹی و دینی تعلیمی مرکز کے مفکرین معاشرے کی حرکت کے لئے انجن کا درجہ رکھتے ہیں، منصوبہ بندی میں ان کی شراکت بڑی نتیجہ خیز ہوگی۔ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ میں تمام افراد بالخصوص علمی شخصیات کو ملک کے انتظامی امور اور منصوبہ بندی میں فعال شرکت کی دعوت دیتا ہوں۔ صدر مملکت نے کہا کہ بلندیوں کی سمت تیز رفتار پیش قدمی، کچھ ڈھانچوں بالخصوص اقتصادی نظام کے سلسلے میں نظر ثانی کی متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی اصلاحات کا پروگرام اقتصادی مسائل کے حل کے اہم اور بڑے پروگراموں میں سے ایک ہے اور اس کا مقدمہ بینکاری کے نظام کی اصلاح، ٹیکس کے نظام کی اصلاح، ڈسٹریبیوشن کے نظام کی اصلاح، ملکی کرنسی کی قدر میں اضافہ اور سبسڈی کو ہدف مند بنانا ہے۔


ڈاکٹر احمدی نژاد نے روزگار اور رہائش کے مسائل کے حل، قومی پیداوار پر توجہ اور قومی ثروت میں اضافے کو دسویں حکومت کی اقتصادی شعبے کی ترجیحات قرار دیا اور کہا کہ معاشرے کی عمومی فضا امن و سکون، صداقت اور نشاط و شادابی کی فضا ہونی چاہئے اور ملک میں قومی یکجہتی کی برقرار رکھا جانا چاہئے ۔ صدر محمود احمدی نژاد نے خارجہ پالیسی کے سلسلے میں بھی کہا کہ عالمی میدان میں فعال اور با اثر موجودگی اور عالمی نظم و نسق میں شراکت حکومت کی خارجہ پالیسیوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے انتخابات کے دوران اور اس کے بعد بعض منہ زور حکومتوں کے معاندانہ بیانوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملت ایران منطق و انصاف و احترام کی بنیاد پر گفتگو کی عادی ہے، وہ بے ادبی، جھوٹ اور خود سری کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔ ڈاکٹر احمدی نژاد نے کہا کہ اگر یہ حکومتیں اپنے ماضی (کی غلطیوں) کی تلافی کریں تو شائد ملت ایران کے دوستی کے دائرے میں داخل ہونے کا کوئی راستہ نکل آئے۔

اس تقریب میں وزیر داخلہ جناب محصولی نے دسویں صدارتی انتخابات کے انعقاد کی روش کی رپورٹ پیش کی اور کہا کہ گزشتہ انخابات کی تیاریاں گزشتہ (ہجری شمسی) سال کے وسط سے ہی شروع کر دی گئ تھیں اور وزارت داخلہ نے انتخابات کے بہترین انعقاد کے لئے تمام ممکنہ وسائل کا استعمال کیا۔ انہوں نے ان تیاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں عوام کی بہت بڑی تعداد میں شرکت کے باوجود کہیں کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا اور عوام نے امن و سکون کے ماحول میں ووٹ ڈالے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬