04 August 2009 - 18:48
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 88
فونت
ڈاکٹر احمدی نژاد صدارت کی توثیقی تقریب میں :
رسا نیوز ایجنسی – آج صبح ڈاکٹر احمدی نژاد ایرانی جمہوری اسلامی کے صدارتی حکم کی توثیق حاصل کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہا: حالیہ کے انتخابات میں عوام نے دوبارہ انقلاب کی حمایت کی اور اس کو کامیابی دلائی انشاء اللہ ہمیشہ سے زیادہ روشن مستقبل ہم لوگوں کے ساتھ ہے اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ زمہ داری بھی سخت اور زیادہ ہو گئی ہے ۔
ڈاکٹر احمدي نژاد صدارت کي توثيقي تقريب ميں
 
رسا نیوز ایجنسی کے خبر نگار کے گزارش کے مطابق -  آج صبح ڈاکٹر احمدی نژاد ایرانی جمہوری اسلامی کے صدارتی حکم کی توثیق حاصل کرنے کے بعد اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے دسویں حکومت کی آئندہ چار برسوں کی ترجیحات اور اہم منصوبوں کو بیان کر تے ہوئے ثقافتی ، اقتصادی ، معاشرتی اور باہری پالیسوں جہسے شعبوں کی طرف اشارہ کیا ۔
 
انہوں نے اپنے بیان میں کہا: پابندی اور ممانعت کے عروج میں ہم نے بہت بڑی ٹکنلوجی ایٹمی صلاحیت حاصل کر لی ،حالانکہ دشمن چاہتی تھی کہ ھم لوگوں کی عدالت خواہی کی آواز کسی کے کانوں تک نہ پہونچے ، لیکن خدا کے لطف و کرم کی وجہ سے لاجھوں کڑوڑوں پورے دنیا کے قوم ہمارے قوم کے ساتھ ہیں ۔ ہماری قوم اس سے بھی زیادہ لوگوں کے لئے نمونہ عمل ہو سکتی ہے ۔
انہوں نے اپنے آپ کو قوم کا خادم ، بچچہ اور چھوٹا بھائی کہا اور فرمایا : حالیہ کے انتخابات میں عوام نے دوبارہ انقلاب کی حمایت کی اور اس کو کامیابی دلائی انشاء اللہ ہمیشہ سے زیادہ روشن مستقبل ہم لوگوں کے ساتھ ہے، اس کے ساتھ ساتھ ہم لوگوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ زمہ داری بھی سخت اور زیادہ ہو گئی ہے ۔
 
ایران کے صدر جمہوریہ نے سارے عوام پہلے درجے کے شہری اور قانون کی نظر میں مساوی ہیں، کوئی بھی شخص یا گروہ خود کو عوام اور قانون سے بالاتر تصور نہ کرے۔ صدر مملکت نے عوام کے احترام، ان کے حقوق کی پاسداری، جتائے بغیر ان کی خدمت، پاکدامنی، صداقت، شجاعت، مہربانی اور مظلوموں کی حمایت کو اسلامی حکومت کی خصوصیات قرار دیا اور کہا کہ کوئی بھی عامل ایران کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتا ۔
 
انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے یوئے ثقافتی، اقتصادی، سماجی اور خارجہ سیاست کے شعبوں میں دسویں حکومت کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہا کہ علمی، ادبی، فنی شخصیات اور یونیورسٹی و دینی تعلیمی مرکز کے مفکرین معاشرے کی حرکت کے لئے انجن کا درجہ رکھتے ہیں، منصوبہ بندی میں ان کی شراکت بڑی نتیجہ خیز ہوگی ۔
 
ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کہا کہ میں تمام افراد بالخصوص علمی شخصیات کو ملک کے انتظامی امور اور منصوبہ بندی میں فعال شرکت کی دعوت دیتا ہوں ، اس ملک میں رائج تعلیمی نظام کو قوم کے پیشرفت کے مطابق دوبارہ اس پر غور کیا جائے تاکہ حوصول علم سے فارغ حضرات ناکارہ پن کا احساس نہ کریں ۔
 
انہوں نے ثقافتی وراثت جیسے موضوع کی ضرورت پر اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ثقافتی وراثت کی حفاظت پہلے سے زیادہ ہونی چاہیئے ، اور سیاحت بھی قوم کی مناسبتوں کو رد و بدل کر نے کا ذریعہ ہے لہذا اس کی طرف بھی خاص توجہ دینی چاہیئے ۔
 
دسویں حکومت کی ترجیحات اور اہم منصوبوں میں سے شعبہ اقتصاد کے  سلسلہ مین بیان کہا : مہم کام انجام پانا چاہیئے اور قومی سرمایہ کے ترقی کی طرف توجہ دی جائے گی خاص کر کشاورزی کے شعبہ کی طرس خصوصی توجہ دی جائے گی کیونکہ اگر ہم لوگ پانی اور زمین سے صحیح فائدہ اٹھایا تو ہمارا محصول ڈھائی گنا ہو جائے گا جس کے وجہ سے تمام ایران آباد ہو جائے گا اور مھاجرت میں رکاوت ہو جائے گی۔ 
 
ایران کے صدر نے کہا :معاشرے کی عمومی فضا امن و سکون، صداقت اور نشاط و شادابی کی فضا ہونی چاہیئے اور ملک میں قومی یکجہتی کی برقرار رکھا جانا چاہیئے ۔
 
صدر محمود احمدی نژاد نے خارجہ پالیسی کے سلسلے میں بھی کہا کہ عالمی میدان میں فعال اور با اثر موجودگی اور عالمی نظم و نسق میں شراکت حکومت کی خارجہ پالیسیوں کی ترجیحات میں شامل ہیں۔
 
ڈاکٹر احمدی نژاد نے انتخابات کے دوران اور اس کے بعد بعض منہ زور حکومتوں کے معاندانہ بیانوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملت ایران منطق و انصاف و احترام کی بنیاد پر گفتگو کی عادی ہے، وہ بے ادبی، جھوٹ اور خود سری کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬