15 September 2012 - 15:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 4560
فونت
معصوم اماموں کے نقوش (?) / اشھد حسين نقوي
رسا نيوزايجنسي - امامت کے معني عام رياست کے ہيں، يعني پيغمبر اسلام (ص) کي وفات کے بعد معاشرے کي رھبري جو شان پيغمبر (ص) کا جزء ہے تذبذب کا شکار رہي ، دوسري جانب ھم اگاہ ہيں کہ معاشرہ کو رھبر کي احتياج ہے، جس کے سلسلہ ميں کسي کو شک وشبھہ نہيں ہے ?
امام صادق(ع)

روشن ہے کہ ائمہ معصومين عليھم السلام اپنے شيعوں اور امت اسلامي کي رهبري کے فرائض اپنے اختيارات کي حد تک انجام ديتے رہے ہيں، کيوں کہ اپ حضرات بندوں کے سياست گزار ہيں ?

جيسا کہ زيارت جامعہ کبيرہ ميں ايا ہے : اَلسَّلامُ عَلَيْکُمْ يا اَهْلَ بَيْتِ النُّبُوَّةِ، وَمَوْضِعَ الرِّسالَةِ، وَمُخْتَلَفَ الْمَلائِکَةِ، وَمَهْبِطَ الْوَحْىِ، وَمَعْدِنَ الرَّحْمَةِ، وَخُزّانَ الْعِلْمِ، وَمُنْتَهَى الْحِلْمِ، وَاُصُولَ الْکَرَمِ، وَقادَةَ الاُْمَمِ، وَاَوْلِيآءَ النِّعَمِ، وَعَناصِرَ الاَْبْرارِ، وَدَعآئِمَ الاَْخْيارِ، وَساسَةَ الْعِبادِ، وَاَرْکانَ الْبِلادِ، اميرالمؤمنين(ع) نے اپنے تيس سالہ زمانہ خلافت ميں اگر چہ خلفاء راشدين کي بيعت نہيں کي اور ظاھري خلافت سے گوشہ نشين رہے، مگر سياست کے ميدان ميں ھميشہ اسلام اور مسلمانوں کے منافع کي حفاظت ميں ، خلفاء کي نصحيت کرنا ، انہيں مشورہ دينا اور انہيں امر بالمعروف و نهي عن المنکر ضرور کيا کرتے تھے ، اورجب قتل عثمان کے بعد لوگ اپ کي طرف پلٹے تو اپ نے پانچ سال کے لئے امت کي رھبري اور ھدايت کي ذمہ داري سنبھالي ?

اپ کي شھادت کے بعد اھلبيت عليھم السلام کے سلسلہ ميں پيغمبر اسلام (ص) کي تاکيد اور اميرالمومنين(ع ) کي وصيت کي بناء پر لوگوں نے امام مجتبي عليہ السلام کي بيعت کي اور اپ نے چھ ماہ تک خلافت ظاھري کے فريضہ کو انجام ديا، مگر معاويہ سے مجبوري کے عالم ميں صلح کرنے کے بعد، اسلام اور شيعت کي حفاظت ميں جب تک ممکن تھا ان کي سياسي رھبري کے فرائض انجام دئے، امام حسن(ع) کے بعد امام حسين(ع) نے بھي اسي طريقہ کو اپنايا يہاں تک يزيد لعين کے مقابل قيام کرکے اسلام کي حفاظت ميں اپني، اپنے عزيزوں اور چاھنے والوں کي جان کا نذرانہ پيش کرديا ?

اپ کي شھادت کے بعد اپ کي اولادوں ميں سے معصوم اماموں نے اپ ہي کے راستہ پر قدم رکھا اور اسلام کي سياسي اور مذھبي رھبري کي ذمہ داري انجام دي ، اس کي مستحکم دليل خلفاء اموي اور عباسي کا اپ کے ساتھ سخت گيرانہ رويہ ، اپ کو حبس اور زھر دينا ہے ?

اگر اين اماموں نے سياسي ميدان سے خود کو ہٹا ليا ہوتا تو ھرگز ان مصيبتوں سے روبرو نہ ہوتے، اور ان ميں سے کوئي بھي جيل کي سلاخوں کے پيچھے ، شھر بدر کي زندگي اور سختيوں اور شھادت سے روبرو نہ ہوتا ، اس طريقہ اور سنت کا رواج رہا يہاں تک کہ بارہويں امام حضرت حجت ابن الحسن عليھما السلام کي ولادت ہوئي اور وہ کمسني ميں ہي نظروں سے غائب ہوگئے يعني پردہ غيبت ميں چلے گئے ، اس دن سے اج تک ان کے شيعہ اپ کے انتظار ميں صبح و شب گزارتے ہيں ، کيوں کہ انہيں کي ذات ہے جس کا مغرب ومشرق پر قبضہ ہوگا اور وہي دنيا کو عدل وانصاف سے بھر ديں گے جيسا کہ ظلم وانصاف سے بھري ہوگي، جيسا کہ اس سلسلے ميں متواتر اور کثير روايتيں بھي موجود ہيں ?
تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬