10 October 2013 - 13:31
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6043
فونت
سید علی فضل الله :
رسا نیوز ایجنسی ـ بیروت لبنان کے امام جمعہ نے تکفیری تحریک کو اسلامی دنیا کے لئے خطرناک ترین بیماری جانا ہے اور اس خطرناک بیماری کا علاج اسلامی اتحاد اور سیاسی کشیدہ گفت و گو سے پرہیز جانا ہے ۔
سيد علي فضل الله


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق لبنان بیروت کے امام جمعہ حجت الاسلام سید علی فضل الله جو حج کی ادائے گی کے لئے سعودی عرب تشریف لے گئے ہیں وہاں یورپ کے حجاج سے ملاقات میں اسلامی اتحاد کی حفاظت کی ضرورت کی تاکید کی ہے ۔

انہوں نے کہا : اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ اسلامی دنیا کشیدگی اور تنازعہ میں گرفتار ہے ، فریضہ حج کی اہمیت اسلامی اتحاد کے لئے کامل طور سے واضح رہا ہے اور مسلمانوں کو چاہیئے کہ مشترک چیزوں میں اتحاد کریں اور اختلاف پیدا کرنے والے مسائل سے دوری اختیار کریں ۔

حجت الاسلام فضل الله نے تکفیری ماحول کے رواج کو اسلامی دنیا میں پائی جانے والی ایک خطرناک ترین بیماری جانا ہے اور وضاحت کی : اس طرح کے ماحول کے رواج کی علت کی اچھی طرح تحقیق ہونی چاہیئے اور اس کے بعد تربیتی و سماجی میدان میں اس کا علاج کیا جائے ، لیکن یہ ضروری ہے کہ معالجہ سیاسی کشیدہ گفت و گو سے دوری اور اسلامی کی حفاظت کے لئے انجام پائے ۔

بیروت کے امام جمعہ نے اسلامی ممالک میں دہشت گردانہ حملہ خاص کر عراق میں ہو رہی دہشت گردی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وضاحت کی : ہمیشہ اس طرح کے مسائل کو مد نظر رکھانا چاہیئے کہ کچھ تحریکیں اسلام کی ناکامی کے لئے فعالیت انجام دے رہی ہیں ، اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسلامی اتحاد کو مستحکم کرین اور یاد رکھنا چاہیئے کہ تکفیری گفت و گو اسلام و مسلمان کے نقصان میں ہے ۔

انہوں نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : اسلامی اتحاد کا یہ معنی نہیں ہے کہ مختلف مذاہب کی پیروی کرنے والے اپنے عقیدہ کو چھوڑ دیں بلکہ مسلمانوں کے درمیان جو بڑے مشترکات ہیں اس کی تاکید کریں ۔

بیروت کے امام جمعہ نے تاکید کی : یورپ کے مسلمان باشندوں سے اپیل ہے کہ وہ اسلام ناب کے سفیر ہوں اس ملک کے عمومی مسائل میں مشارکت رکھیں اور سماج کے اصلاح کے لئے اپنا قدم بڑھائیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬