08 February 2014 - 15:14
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6418
فونت
سید علی فضل الله :
رسا نیوز ایجنسی ـ بیروت کے خطیب جمعہ نے تکفیری فکر و بے گناہ لوگوں کے قتل عام کو جاہلانہ فکر اور اس عمل کو اسلامی تعلیمات کے خلاف جانا ہے ۔
سيد علي فضل الله


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق بیروت لبنان کے خطیب جمعہ حجت الاسلام سید علی فضل الله نے اس ہفتہ بیروت کے مسجد امامین حسنین (ع) میں نماز جمعہ کے خطبہ کے درمیان امام حسن عسکری (ع) کی ولادت با سعادت کی مناسبت پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے تاکید کی ہے کہ اهل بیت (ع) کی پیروی کرنے والوں کو چاہیئے کہ امام علیہ السلام کی سیرت اور ان کے راہ کی پیروی کے ذریعہ مکتب اهل بیت (ع) کی عزت و افتخار کا سبب ہوں ۔

بیروت کے خطیب جمعہ نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے علاقہ اور لبنان کی حالیہ صورت حال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تکفیری تحریک کی کارکردگی پر تشویش کا اظہار کیا اور اس طرح کے تفکرات سے مقابلہ کی ضرورت کی تاکید کی اور کہا : جو لوگ اسلام کے نام پر بے گناہ و غیر فوجی افراد کے قتل میں مشغول ہیں وہ جان لیں کہ اس طرح کے اقدامات کسی بھی صورت میں اسلامی روح و رحمت کے مطابق نہیں ہے بلکہ پوری طور سے نبوی (ص) سیرت کے خلاف ہے ۔

حجت الاسلام سید علی فضل الله نے اپنی گفت و گو کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : بے گناہ لوگوں کا قتل عام جاہلانہ فکر اور یہ عمل اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے ۔

انہوں نے اسلامی دنیا کی موجودہ صورت حال کو بہت ہی قابل افسوس جانا ہے اور اظہار کیا : بعض لوگ صہیونی حکومت جو تمام مشکلات کا عامل ہے اس  سے مقابلہ و جہاد کے بجائے اسلامی قوم کی نابودی میں مشغول ہیں اور مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں ۔

یہ لبنانی عالم دین نے اسی طرح مختلف ادیان و مذاہب کے درمیان پائی جانے والی مشرکات کی طرف زیادہ توجہ دینے کی تاکید کی ہے تا کہ اس کی وجہ سے مذہبی فتنہ و دہشت گردی سے مقابلہ کیا جا سکے بیان کیا : لبنان کے تمام مذاہب کے ماننے والوں کو چاہیئے کہ شدت پسند فکر سے مقابلہ کریں اور اس ملک کی سلامتی کو واپس لانے میں مدد کریں ۔

انہوں نے تاکید کی : سیاسی کشمکش کی فضا لبنان کی سلامتی و اس ملک کے حالات کو بحرانی کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے اور سیاسی پاٹی کو چاہیئے کہ ایک دوسرے کے ساتھ لفظی تنازعہ و جدال کے بجائے جتنی جلد ہو سکے ایک جامع و مفید حکومت بنانے کی کوشش کرے ۔

سید علی فضل الله نے ملک شام ، عراق اور فلسطین کی حالت نازک جانا ہے اور مسلمانوں و اسلامی ممالک کو فلسطین کے مسئلہ پر زیادہ توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے اور ملک شام و عراق اور دہشت گرد وغاصبین کے ساتھ پر امن طریقہ سے اس ملک کے بحران کو حل کیا جائے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬