
رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی نے لاڑکانہ میں جے ایس او پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا: میں زندہ رہوں اور پاکستان میں اہل تشیع کیخلاف کوئی قانون بن جائے ایسا ممکن نہیں ۔
انہوں ںے یہ کہتے ہوئے کہ آئین و قانون کے نفاذ پر حکومت کا ہر ممکن ساتھ دینگے لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا کہا: آپ جوان تقویٰ اختیار کریں کیونکہ تقویٰ ہی وہ واحد ہتھیار ہے کہ جسکے ذریعے سے ہم اپنے معاشی اور معاشرتی حالات کو بہتر بناسکتے ہیں ۔
حجت الاسلام والمسلمین نقوی نے جے ایس او کے عاملہ کے اجلاس میں اپنی شرکت کو خدا کی عنایتوں کا سبب جانا اور کہا: علمی جدوجہد کا موجودہ مسائل کے حل میں بہت بڑا دخل ہے۔
قائد ملت جعفریہ نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک خاص سوچ کے تحت ہو رہا ہے کہا: اگر سات ماہ تک لاشیں گرتی رہیں تو وزیراعظم کے پاس اپنے وزیراعظم ہونے کا کیا جواز ہے۔ صحافیوں سے بارہا پوچھا کہ طالبان کی تعریف بتائیں تو میں اپنا مؤقف واضح کروں گا، لیکن آج تک کوئی بھی طالبان کی تعریف نہیں کرسکا۔ آج تک طالبان کی تعریف ہی واضح نہیں ہوسکی۔
انہوں ںے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ میں زندہ رہوں اور پاکستان میں شیعوں کے خلاف کوئی قانون بن جائے ایسا ممکن ہی نہیں کہا: آئین و قانون کے نفاذ پر حکومت کا ہر ممکن ساتھ دیں گے لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
دوسری جانب حجت الاسلام والمسلمین نقوی نے پیام زہراء آرگنائزیشن پاکستان کے زیراہتمام لارکانہ سندھ میں منعقد سیرت فاطمۃ الزہراء سیمنار میں سیرت حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیہا کی روشنی میں خواہران کے اجتماعی امورمیں کردار پر گفتگو کی-
انہوں ںے پیام زہراء آرگنائزیشن پاکستان میں مصروف عمل خواہران کے اقدامات کو سراہا ، ان کی سرگرمیوں کو نہایت مفید جانا اور ان کی کامیابی و کامرانی اور توفیقات خیر میں اضافے کی دعا کی ۔
پروگرام کے اختتام پر پیام زہراء آرگنائیزیشن پاکستان کے وفد نے مرکزی صدر خواہر سیدہ سارا نقوی کی زیر قیادت ، قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی سے خصوصی ملاقات کے دوران اپنی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا : ہم خواتین میں حجاب اوراسلام کی ترویج کے لئے ملک بھر میں کام میں مصروف ہیں اس میں ہمیں آپ کی شفقت کی لازمی ضرورت ہے ۔