19 March 2015 - 22:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7934
فونت
ڈاکٹر راشد عباس نقوی :
رسا نیوز ایجنسی ـ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی بیسویں سالگرد کی مناسبت سے منعقدہ سمینار میں ڈاکٹر راشد عباس نقوی نے بیان کیا : اگر ہم کسی شخصیت کو صحیح انداز میں پہچاننا چاہیں تو ضروری ہے کہ اس زمانے کے حالات سے آگاہ ہوں ۔
شہيد ڈاکٹر محمد علي نقوي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی بیسویں سالگرد کی مناسبت سے منعقدہ سمینار میں ڈاکٹر راشد عباس نقوی نے شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے بین الاقوامی کاموں اور ان کی فعالیت کے بارے میں تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے بیان کیا : اگر ہم کسی شخصیت کو صحیح انداز میں پہچاننا چاہیں تو ضروری ہے کہ اس زمانے کے حالات سے آگاہ ہوں ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : جس زمانے میں شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نوجوانوں کو منظم کرنے میں مصروف تھے یہ وہ زمانہ تھا کہ جب دنیا میں دو سپرطاقتیں امریکہ اور روس موجود تھیں اور ہر تنظیم حتی اسٹوڈنٹ یونین بھی کسی ایک بلاک سے وابستہ ہوتی تھی اور حتی بعضی ایسی مذہبی تنظیمیں کہ جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ اس زمانے میں کسی سے وابستہ نہیں تھیں کے بارے میں محققین نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان کے رہبروں کے کمروں میں امریکی روابط کیلئے مخصوص مشینیں موجود تھیں۔

راشد عباس نقوی نے کہا : اس زمانے میں آئی ایس او کا قیام وجود میں آیا اور یہ تنظیم نہ امریکہ سے وابستہ تھی اور نہ روس سے۔ ابھی ایران میں اسلامی انقلاب نہیں آیا تھا لیکن شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی ایسی آگاہ شخصیت کے تھے کہ جب ایران کا شاہ امریکہ کی نمایندگی میں پاکستان آیا تو اس کے خلاف آپ نے مظاہرے کا اہتمام کیا اور اس وقت یہ بات بعض قومی رہبروں کو پسند بھی نہ آئی لیکن وہ اس بصیرت سے عاری تھے جو شہید کے پاس موجود تھی۔

انہوں نے شہید کے بین الاقوامی کردار کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا : شہید ڈاکٹر قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے حکم پر افغان جہاد میں فزیکل طور پر موجود رہے، شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے اسلام آباد میں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس منعقد کروائی جس میں بین الاقوامی شخصیات نے شرکت کی، اسی طرح پاکستان میں منظم طور امریکہ مردہ باد کا نعرہ متعارف کروانا اور سال میں ایک دن کو امریکہ مردہ باد دن قرار دینا شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی بصیرت کا ثبوت اور بین الاقوامی حالات پر نگاہ کی دلیل ہے۔

یونیورسیٹی کے استاد نے بیان کیا : شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نے حج میں برائت از مشرکین کے فریضے کو انجام دینے کیلئے سعودی عرب کا سفر کیا۔ شہید کی شخصیت ایسی تھی کہ وہ جو کام انجام دیتے تھے اس پر ایمان رکھتے تھے اور خود بنفس نفیس اس کام کو انجام دینے کیلئے اقدام کرتے تھے آپ ایسے رہبروں میں سے نہیں تھے جو خود تو ڈرائنگ رومز میں بیٹھے رہیں اور کاکنوں کو مشکل کاموں میں اکیلا چھوڑ دیں۔

راشد عباس نقوی نے ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا : شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی شہادت کے چند دنوں کے بعد ہم احباب جو آپ سے زیادہ نزدیک تھے مل بیٹھے اور فیصلہ کیا کہ آپ کے کاموں کو آگے بڑھایا جائے، جب کاموں کی لسٹ تیار کی گئی کہ جو شہید ڈاکٹر اکیلے انجام دیتے تھے تو وہ اس قدر زیادہ اور سخت کام تھے کہ ہم تمام دوست مل کر بھی اگر چند کاموں کو اپنے ذمے لیتے تو ان کو انجام دینے سے قاصر تھے۔ اور دوستوں نے اس بات کا برملا اظہار کیا کہ ہم ان تمام کاموں کو آگے انجام نہیں دے سکتے چند اہم کاموں کو چننا ہو گا۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬