‫‫کیٹیگری‬ :
28 May 2015 - 22:50
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8176
فونت
آیت الله مصباح یزدی:
رسا نیوز ایجنسی ـ آیت الله مصباح یزدی نے بیان کیا : اھل بیت (ع) کی تعلیمات کی یقینیات یہ ہے کہ آدمی صرف خدا کی بندگی کی فکر میں ہو یعنی ہر لحظہ خداوند عالم کو مد نظر رکھے اور اس کے مرضی کے مطابق عمل کرے؛ جس وقت خدا روزہ رکھنا پسند کرتا ہے روزہ رکھے اور جس حالات میں خدا روزہ کو ترک کرنا پسند کرے روزہ کو توڑ دے ۔
آيت الله مصباح يزدي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ آیت الله محمد تقی مصباح یزدی نے قم ایران کے حسینیہ امام خمینی (ره) میں اپنے ھفتگی درس اخلاق کے سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے بیان کیا : انسان کو کوشش کرنا چاہیئے کہ وہ سمجھے خدا اس کو پیدا کرنے والا ہے اور اپنے تمام امور کو خداوند عالم کی رضایت کے لئے انجام دے ، یہ کام خود اس کے فائدہ کے لئے ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں درس اخلاق کے استاد نے عشق و محبت کی انتہا محبوب کے راہ میں فانی ہو جانے کو جانا ہے اور کہا : اس مدعا کی دلیل یہ ہے کہ انسان کی محبت جس حد تک خالص تر ہوگی اس کا دل اتنا ہی چاہے گا محبوب کے سامنے خضوع کرے ؛ پہلے ہی روز سے اس طرح کا احساس و ادراک انسان میں پایا نہیں جاتا ہے بلکہ زمانہ کے گزرنے میں اور بلند ہمت کے ذریعہ اس مقام تک پہوچا جا سکتا ہے ۔

آیت الله مصباح یزدی نے اس اشارہ کے ساتھ کہ شہدا اس مقام تک پہوچ چکے ہیں بیان کیا : جنگ کے ابتدا میں ایک نوجوان جس کی عمر 16 سال سے زیادہ نہیں تھی اپنے وصیت نامہ میں لکھا تھا کہ اے پروردگار تم سے میری التجا ہے کہ ہمارے نصیب میں شہادت کی توفیق اس طرح عنایت کر کہ میرا بدن پوڈر ہو جائے اور جسم دفن کے قابل ہی نہ ہو؛ ممکن ہے ایک انسان اس درجہ تک پہوچ جائے ۔

انہوں نے آیات و روایات کے مطابق تذکیہ نفس شروع کرنے کے لئے بہترین راہ مادی منافع اور اس کی حقیقت پر توجہ جانا ہے اور بیان کیا : کبھی کبھی ہمارے بزرگوں نے بھی ان لوگوں کے لئے جو راستہ کے ابتدائی منزل میں ہیں روزہ کی خاصیت اور بدن میں اس کے کردار کو بیان کرتے ہیں اور نماز کو ایک طرح کا جسمانی مفید ورزش سے تعارف کراتے ہیں تا کہ یہ لوگ اس امور کو انجام دینے میں حوصلہ افزائی ہو ۔ 

تذکیہ نفس کی پہلی منزل آسان کاموں کو انجام دینا ہے لیکن یہ بنیادی ہے

حوزہ علمیہ قم میں جامعہ مدرسین کے ممبر نے وضاحت کی : یہ ایک صحیح تربیتی طریقہ ہے کہ سادہ و بنیادی امور سے شروع کی جائے تا کہ اس سے بڑے کاموں کے لئے خود کی تیاری ہو جائے ؛ اس راہ میں اچھا دوست انسان کی مدد کر سکتا ہے ، بہت سارے امور جس کی اہمیت سے با خبر ہیں لیکن شاید صرف رغبت اس کے انجام دہی کی نہیں رکھتے ہیں لیکن اگر ہمارا دوست اس کام کو انجام دینے کے لئے دعوت کرتا ہے تو اس کا استقبال کرتے ہیں ۔

امام خمینی (ره) تعلیمی و تحقیقی ادارہ کے سربراہ نے بیان کیا : اھل بیت (ع) کی تعلیمات کی یقینیات یہ ہے کہ آدمی صرف خدا کی بندگی کی فکر میں ہو؛ یعنی ہر لحظہ خداوند عالم کو مد نظر رکھے اور اس کے مرضی کے مطابق عمل کرے؛ جس وقت خدا روزہ رکھنا پسند کرتا ہے روزہ رکھے اور جس حالات میں خدا روزہ کو ترک کرنا پسند کرے روزہ کو توڑ دے ۔

کمال کے حصول کا تنہا راستہ بندگی ہے

حوزہ علمیہ قم میں درس اخلاق کے استاد نے انسان کو کمال تک پہوچنے کا تنہا راستہ خداوند عالم کی بندگی جانا ہے اور بیان کیا : انسان کو کوشش کرنا چاہیئے کہ وہ سمجھے خدا اس کو پیدا کرنے والا ہے اور اپنے تمام امور کو خداوند عالم کی رضایت کے لئے انجام دے ، یہ کام خود اس کے فائدہ کے لئے ہے؛ سب سے پہلے وہ ایک چھوٹے و سادے کاموں سے شروع کرے مثال کے طور پر ہر روز صرف دو رکعت نافلہ کی نماز خداوند عالم کے لئے بغیر کسی ثواب و اجر کی امید کے پڑھے ۔

آیت الله مصباح یزدی نے وضاحت کی : اگر ایسا کام مسلسل طور پر انجام دیا جائے تو آہستہ آہستہ اس مقام پر پہوچ جائے نگے کہ جیسے حضرت علی علیہ السلام عبادت صرف خدا کی محبت کی وجہ سے انجام دیتے تھے ؛ حضرت اپنے ایک مناجات میں فرماتے ہیں اگر 70 مرتبہ موت آ جائے اور پھر زندہ ہو جاوں ہر بار جہنم کی آگ میں جلایا جاوں پھر بھی خداوند عالم کے سلسلہ میں میری محبت میں کمی نہیں آئے گی ۔

انہوں نے اس اشارہ کے ساتھ کہ یہ خالصانہ عبادت اس عبادت کو کہتے ہیں کہ جو صرف خداوند عالم کی رضایت حاصل کرنے کے لئے انجام دی جاتی ہے بیان کیا : البتہ کوئی مشکل نہیں ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ اپنے اندر کمال تک پہوچنے کی نیت کرے؛ یہ امر پورے طور سے منطقی ہے اور اس کا شمار غیر خدائی نیت میں نہیں ہوتا ہے ۔

حوزہ علمیہ قم میں جامعہ مدرسین کے ممبر نے وضاحت کی : امید کرتا ہوں کہ اس مقام تک پہوچ جاوں کہ ہماری رغبت خود سازی ، اخلاق اور خداوند عالم سے محبت حاصل کرنے کے لئے ہو اور صرف اس لئے کہ خداوند عالم پسند کرتا ہے ہم اس راستہ پر قدم بڑھائیں اور تذکیہ نفس کریں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬