14 October 2015 - 16:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8562
فونت
حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی:
رسا نیوز ایجنسی – سرزمین پاکستان کے مشھور و معروف شیعہ عالم دین حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر اور کٹا کر چلنے والے ہیں کہا: عزاداری تشیع کے وقار اور وجود کا مسئلہ ہے ۔
حجت الاسلام و المسلمين سيد ساجد علي نقوي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام والمسلمین سید ساجد علی نقوی نے لاہور میں شیعہ علماء کونسل کے صوبائی صدر حجت الاسلام سبطین حیدر سبزواری سے گفتگو میں کہا: عزاداری تشیع کے وقار اور وجود کا مسئلہ ہے لھذا عزاداری کے سلسلہ میں کسی قسم کی سازش برداشت نہیں ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ کوئی شخص بزدلی کا مظاہرہ نہ کرے، پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے عزاداری کیلئے شہادتوں کے نذرانے پیش کئے، کبھی پشت پر نہیں ہمیشہ سینے پر گولی کھائی ہے کہا: پنجاب سے عزاداری کے راستوں میں مختلف حیلے بہانوں سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سازشیں خطرناک ہوں گی، ہمیں کسی انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے۔


شیعہ علماء کونسل کے صدر نے کارکنوں کو ہدایت کرتے ہوئے کہ محرم الحرام کے جلوس اور مجالس عزا کا اہتمام پہلے سے زیادہ پروقار انداز میں کیا جائے، کوئی کسی بھول میں نہ رہے، عزاداری کو محدود کرنے کے کسی بھی اقدام کو قبول نہیں کریں گے کہا: وزیراعلٰی شہباز شریف پنجاب کے کچھ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عزاداری میں پیدا کی جانیوالی رکاوٹوں کا نوٹس لیں، یہ ہمارا شہری حق ہے، اس کا ہر صورت تحفظ کریں گے ۔


انہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ پنجاب میں ہونیوالی عزاداری کیخلاف کارروائیوں کی پیش بندی کی جائے، مجالس اور جلوس عزا کے بانی پولیس کے ہتھکنڈوں میں آکر کوئی ایسا معاہدہ نہ کریں، جس سے ملت جعفریہ کے وقار اور مفادات پر مستقبل میں منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہو تاکید کی : عزاداری سیدالشہداء ہماری مسلمہ رسم اور تشیع کا وقار ہے، اس سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ عزاداری تشیع کا وقار اور وجود کا مسئلہ ہے، کوئی شخص بزدلی کا مظاہرہ نہ کرے، پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے عزاداری کیلئے شہادتوں کے نذرانے پیش کئے، کبھی پشت پر نہیں ہمیشہ سینے پر گولی کھائی ہے، پنجاب سے عزاداری کے راستوں میں مختلف حیلے بہانوں سے رکاوٹیں کھڑی کرنے کی سازشیں خطرناک ہوں گی، ہمیں کسی انتہائی اقدام پر مجبور نہ کیا جائے۔


قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم شہیدوں اور غازیوں کی تاریخ رکھتے ہیں اور خطرات سے کھیلنے کے عادی ہیں، کوئی ریاستی جبر ہمیں غم حسینؑ سے نہیں روک سکتا کہا: وزیراعلٰی شہباز شریف سے پنجاب کے کچھ اضلاع میں ضلعی انتظامیہ کی طرف سے عزاداری میں پیدا کی جانیوالی رکاوٹوں کا نوٹس لے کر انہیں دور کرنے کا مطالبہ کیا اور واضح کیا ہے کہ یہ ہمارا شہری اور آئینی حق ہے، اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔
 

انہوں نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ عزاداری کے تحفظ میں آنیوالی موت سعادت اور شہادت ہے، جس سے ملت جعفریہ کی تاریخ بھری پڑی ہے اور پاکستان کی فضائیں اس بات کی گواہ ہیں کہ ہم نے جانوں کو نہیں اصولوں کو عزیز رکھا ہے، سر جھکا کر نہیں سر اٹھا کر اور کٹا کر چلنے والے ہیں علماء، خطباء اور ذاکرین سے بھی اپیل کی: وہ اپنے خطابات میں اتحاد امت کو فروغ دیں، متنازع باتوں سے گریز کریں، کسی مسلک کے مقدسات کی توہین نہ کریں، اتحاد بین المسلمین کی فضا کو برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔


حجت الاسلام والمسلمین نقوی نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ کچھ عناصر محرم الحرام کی پرامن فضا کو خراب کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں، لیکن ان کے عزائم کامیاب نہیں ہوں گے کہا : سکیورٹی ادارے اپنا کام نیک نیتی سے کریں، عزادار پولیس فورس کے ساتھ تعاون کریں گے، جبکہ سکیورٹی اداروں کو ان شرپسند عناصر پر بھی کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے، جو عزاداری کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لئے منصوبہ بندی میں مصروف ہیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬