10 April 2016 - 22:44
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9246
فونت
قائد ملت جعفریہ پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مضبوط نظام ہی مرتب نہ ہوا اور اسی کمزوری کا فائدہ طاقت کی حکمرانی نے بھرپور طریقے سے اٹھایا جس کے کئی مظاہر سے ہمارے ملک کی تلخ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح سرعام کوڑے مارے جاتے رہے ۔
قائد ملت جعفريہ پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے ۱۹۷۳ء کے متفقہ دستور پاکستان کی ۴۳ ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا : آئین پاکستان پر عملدرآمد ہی میں ملک کی مشکلات کا حل مضمر ہے ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : افسوس ملک میں مضبوط نظام نہ ہونے کے باعث آئین کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی کی جگہ طاقت نے لی، متفقہ دستاویز کے باوجود ایسا محسوس کیا جا رہا ہے جیسے دستور کو یرغمال بنا دیا گیا ہے اور آئین کی اکثر شقوں کو چھیڑا تک نہیں گیا اور بعض درخوراعطناء نہیں سمجھا گیا۔

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے کہا : دستور کسی بھی ملک کے مختلف حصوں، طبقوں اور ثقافتوں کوآپس میں جوڑتا ہے، ان کے حقوق اور آزادیوں کا تحفظ فراہم کرتا ہے ، جمہوریت ، جمہوری رویوں ، انسانی حقوق اور انصاف کی اساس فراہم کرتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ انتظامی ڈھانچے کی حدود و قیود کا تعین کرنے کے ساتھ ملکی ترقی اور اس کی پیش رفت بھی آئین پر ہی موقوف ہوتی ہے ۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے کہا : ۱۹۷۳ ء میں چھبیس سال کے صبرآزما لمحات کے بعد بالآخر ماہ اپریل میں وہ تاریخی دن آگیا جب تمام سنجیدہ طبقات متفقہ آئین پر متحد ہوئے اور ۱۹۷۳ء کے متفقہ دستور پاکستان کے نام سے دستاویز مکمل ہوئی، لیکن بدقسمتی سے ۴۳ سال قبل ہم نے جس متفقہ آئین کی نوید سنی اس پر چار دہائیوں سے زائد عرصہ گزرجانے کے بعد بھی مکمل عملدرآمد نہ ہوسکا بلکہ بعض اوقات جزوی عمل بھی تعطل کا شکار ہوگیا اور آخر حکیم امت ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کا یہ شعر بے ساختہ لبوں پہ آجاتا ہے کہ

"مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے من اپنا پراناپاپی ہے برسوں میں نماز ی بن نہ سکا"

انہوں نے وضاحت کی : دستور پاکستان بننے کے بعد آج تک اس کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے ، آئین کی بہت سی ایسی دفعات ہیں جنہیں چھیڑا تک نہیں گیا اور بعض شقوں کو ہر دور میں اپنے مفادات کیلئے استعمال کیا جاتا رہا۔ آئین کی بالادستی کی بات تصور کی حد تک ہی محدود رہی اور ا س پر عملدرآمد میں تعطل کی ایک لمبی تفصیل ہے ۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان نے تاکید کی : آئین و قانون کی حکمرانی فقط سیاسی جماعتوں کے منشور تک ہی رہی ، آج ملک میں آئین کی حکمرانی کی جگہ طاقت کی حکمرانی نے لے لی۔ قانون کی حکمرانی نہ ہونے کی وجہ سے کوئی مضبوط نظام ہی مرتب نہ ہوا اور اسی کمزوری کا فائدہ طاقت کی حکمرانی نے بھرپور طریقے سے اٹھایا جس کے کئی مظاہر سے ہمارے ملک کی تلخ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح سرعام کوڑے مارے جاتے رہے، انسانیت کی تذلیل کی جاتی رہی، منتخب حکومتوں کو چلتا کیا جاتا رہا ، بنیادی انسانی حقوق پامال کئے جاتے رہے ۔

انہوں نے بیان کیا : بڑے بڑے سیکنڈلز سامنے آئے لیکن طاقت کی حکمرانی کے باعث کسی نے لب کشائی کی جرات تک نہ کی اور اگر کسی نے کوئی لفظ بولنے کی جسارت ہی کردی تو وہ نشان عبرت بنا دیا گیا اسی باعث آج بھی طاقت ور طبقہ محفوظ ہے اور اگر کوئی غریب یا کمزور ہتھے چڑھ گیا تو اس کا حشر نشر کر دیا گیا ۔

حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے کہا : آئین و قانون پر عملدرآمد نہ ہونے کے باعث ملک عدم استحکام کا شکار ہوا تو تباہی و بربادی نے ہمارے گھروں میں ڈیرے ڈالے ، ایسا محسوس کیا جانے لگا کہ جیسے ملک میں امراء کیلئے اور اور غرباء کیلئے اور قانون ہے ، ملک میں انصاف کیلئے آنکھیں ترس گئیں۔ بے گناہ عوام کا قتل عام ہوا ، قاتل انصاف کے کٹہرے میں نہ لائے جا سکے ۔ ہمیں آج کا دن جہاں یہ اس عظیم کارنامے نمایاں کی یاد دلاتا ہے وہیں یوم تجدید عہد بھی ہے کہ پاکستان اور آئین پاکستان کا تحفظ ہم سب کی یکساں ذمہ داری اور آئین پاکستان کی تمام شقوں پر عملدرآمد ہمارا فریضہ ہے ، اسی میں ملک کے تمام بحرانوں اور مشکلات کا حل مضمر ہے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬