10 September 2014 - 14:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7239
فونت
مفتی تیونس کی داعش کی سرگرمیوں پر تنقید:
رسا نیوز ایجنسی - تیونس کے مفتی نے کہا: اسلامی ریاستیں، غاصب صھیونیت کو صفحہ ھستی سے مٹانے میں استقامت فلسطین کی حمایت کو اپنا وظیفہ جانیں ۔
شيخ حمده سعيد


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق، تیونس کے مفتی شیخ حمده سعید نے تہران میں ہونی والی فلسطین کانفرنس میں یہ بیان کرتے ہوئے کہ دنیا کے ایک کونہ سے مظلوم فلسطینی مسلمان مدد کو پکار رہے ہیں کہا: ہم کس طرح ان مسلم بھائیوں اور بہنوں کی مدد نہ کریں اور ان کی آوازوں پر لبیک نہ کہیں  ۔


تیونس کے مفتی نے کہا: عالم اسلام کی یہ ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کے قبلہ اول کو غاصب صھیونیت سے نجات دلائیں کیوں کہ اگر بقدر نیاز فلسطین کی حمایت نہ کی گئی تو ہم نا قابل تدارک سانحہ سے روبرو ہوں گے ۔


انہوں نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ صھیونیت، عالم اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے کہا: ہم آج ایک نئے دشمن سے روبرو ہیں جو اسلام کے نام پر مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہیں تاکہ مسلمانوں کے مابین نفاق کی بیج بوسکیں اور ان کے ریسمان اتحاد کو کاٹ سکیں ۔ 


 شیخ حمده نے واضح طور پر کہا: ایک گروہ اپنے لئے "اسلامی ریاست" کا نام منتخب کر کے مسلمانوں کے قتل عام میں مصروف ہے تو دوسرا اس سانحہ پر تماشائی ہے جبکہ اس کے مقابل قیام کر کے اس بات کا اثبات کرنا ضروری ہے کہ ہم حقیقی اسلام کے طرفدار ہیں اور ان دھشت گردوں کے حامی و ساتھی نہیں ہیں ۔


انہوں نے دشمن کے مکر و فریب کی بہ نسبت رسول اسلام(ص) کے انتباہ کی جانب اشارہ کیا اور کہا: حضرت محمد مصطفی (ص) نے دشمن کے ناپاک عزائم کی بہ نسبت ہمیں خبردار کیا ہے اور اپ نے اس دشمن کے مقابل کامیابی و پیروزی کا واحد راستہ اسلامی اتحاد بتایا ہے ، غزہ کی عوام کی جگہ دنیا کے مسلمانوں کے دل میں ہے کیوں کہ انہوں نے اپنی استقامت سے غاصب صھیونیت کے قدم اکھاڑ دئے اور انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا ۔ 


تیونس کے مفتی نے آخر میں استقامت فلسطین کی حمایت میں اسلامی جمھوریہ ایران کا خصوصی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: آج علمائے اسلام، اسلامی اتحاد و برادری کے لئے موثر اقدام کریں نیز اسلامی ریاستیں، غاصب صھیونیت کو صفحہ ھستی سے مٹانے میں استقامت فلسطین کی حمایت اپنا وظیفہ جانیں ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬