19 March 2015 - 23:08
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7935
فونت
ملی یکجہتی کونسل کے مر کزی سیکرٹری جنرل ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ ملی یکجہتی کو نسل کے مر کزی سیکرٹری جنرل نے کہا: 25 مارچ کو ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں اتحا د اُمت کا نفر نس منعقد کی جا رہی ہے ۔ جس میں پاکستان کی تمام دینی جماعتوں کے سر براہان تمام مدارس کے وفا ق کے سربراہان جید علماء اکرام ، مشائخ اور اسکالرحضرات شریک ہونگے ۔
ملي يکجہتي کونسل پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ملی یکجہتی کو نسل کے مر کزی سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے : 25 مارچ کو ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے زیر اہتمام اسلام آباد میں اتحا د اُمت کا نفر نس منعقد کی جا رہی ہے ۔ جس میں پاکستان کی تمام دینی جماعتوں کے سربراہان تما م مدارس کے وفا ق کے سربراہان جید علماء اکرام ، مشائخ اور اسکالرحضرات شریک ہونگے ۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : اتحاد اُمت کانفرنس کے تین سیشن ہوں گے جس سے مولانا فضل الر حمن ، سراج الحق ، علامہ ساجد علی نقوی ، مو لانا ابو لخیر زبیر ، حافظ محمد سعید ، مولانا سمیع الحق ، مفتی منیب الرحمن ،حافظ عاکف ، مولانا حنیف جالندھری ، علامہ راجہ ناصر عباس،علامہ راغب نعیمی ،مفتی رفیع عثمانی ،پیر نقیب الرحمن ،علامہ ساجد میر، مفتی تقی عثمانی سمیت ملک بھر سے مختلف مکتبہ فکر کے نمایاں شخصیات خطاب کر یں گے ۔

ملی یکجہتی کو نسل کے مر کزی سیکرٹری جنرل  نے کہا : ایک سو چے سمجھے منصو بے کے تحت گر جا گھر ، مساجد ، مندر ، امام بار گا ہیں اور خانقاہوں کو ٹا رگٹ کیا جا رہا ہے پوری قوم کا اس بات پر اتفاق ہے دہشت گردی مذہب، فرقہ ، لسانیت یا قومیت جس بھی بھیس میں ہو اس کا خاتمہ ہونا چا ہیے۔

لیاقت بلو چ نے کہا : ملک بھر کی دینی اور سیا سی جماعتوں افواج پاکستان نے جس قومی ایکش پلان پر اتفاق کیا اور یہ طے کیا کے دہشت گردوں کے خلاف بلا امتیاز کا روائی کی جائے گی لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب پو رے ملک سے خبریں آرہی ہیں کہ مساجد کو مدارس کو امام بار گاہوں کو علماء کو ،خطیب اورمواذن حضرات کو تنگ کیا جا رہا ہے اور مساجد سے لوڈ اسپیکر اُتارے جا رہے ہیں اور یہ کا م پو لیس کو سونپ دیا گیا ہے جو بد ترین کرپٹ ادرارہ ہے حکو مت کے اس اقدام سے قومی ایکشن پلان کا مسخ شدہ تاثر پیدا کیا جا رہا ہے۔

اتحا د اُمت کانفرنس کا ایک سیشن مساجد مدارس امام بارگاہوں کے حوالے سے منعقد کیا جائے گا ۔ لیاقت بلوچ نے کہا اس کانفرنس کا ایک سیشن اسلامی تشخص کے تحفظ کے حوالے سے ہو گا جو مجموعی طور پر پوری قوم کی ذمہ داری ہے مگر علماء ،مساجد و مدارس کے وارثوں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ملک کے اسلامی تشخص کی حفاظت کریں ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت پاکستان کے اسلامی قوانین ہدف بنایا جا رہا ہے اسلامی تہذیب و تمدن کو بھی پامال کیا جا رہا ہے خاص طور پر مذاہب کے درمیان فساد کھڑا کیا جا رہا ہے اور یہ اسی سازش کا شاخسانہ ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ملک بنے ۔

انھوں نے کہا : ملی یکجہتی کو نسل سانحہ یوحنا آباد کی پہلے بھی مذمت کر چکی ہے اور ایک بار پھر شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے انسانوں کو ٹارگٹ بنا کر قتل کرنا ایک وحشیانہ اقدام ہے ۔

انھوں نے کہا : احتجاج کرنا ہر شخص کا حق ہے مگر معاشرے میںپُر تشدد احتجاج کا روایہ پنپ رہا ہے پہلے کوٹ رادھاکشن میں مسیحی جو ڑے کو زندہ جلایا گیاباوراب سانحہ یوحنا آباد کے بعد دو بےگناہ افراد کو زندہ جلایا گیا جو بے گناہ تھے ۔ ملک میں گرجا گھر ، مندر ،عبادت گاہیں ،مساجد مدارس ،امام بارگاہیں ،علماء ،زاکرین ،ڈاکٹر اور ہر فیلڈ کے نمایا ں افراد کوٹارگٹ کر کے ملک میں ایک فساد کھڑا کیا جا رہا ہے یہ ایک گریٹ گیم ہے جس میں پاکستان کے لو گ کواستعمال کیا جا تا ہے اور ان کے الہ کار ملک کے اندر مو جود ہو تے ہیں ،لیکن ہماری انٹیلی جنس مضبوط ہو ، ہماری پولیس کا نظام مضبوط ہو اور قومی الیکشن پلان کا بلا امتیاز عملدرآمد ہو تو پھر ان تمام مسائل کا حل نکل سکتا ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬