17 February 2016 - 14:39
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 9076
فونت
حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نصراللہ:
رسا نیوز ایجنسی - حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری نے اپنے بیان میں اس بات تاکید کرتے ہوئے کہ شام، شامی عوام اور استقامت کی اساس کے عنوان سے باقی رہے گا کہا: سعودیہ اور ترکی چاہے شام میں اپنی فوج بھیجیں اور چاہے نہ بھیجیں دونوں ہی بہتر ہے ۔
سيد حسن نصر اللہ حجت الاسلام و المسلمين سيد حسن نصراللہ


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے جنرل سکریٹری حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نصراللہ نے بیروت کے علاقہ ضاحیہ میں مزاحمت کے رہنماؤں شیخ راغب حرب، عباس موسوی اور عماد مغنیہ کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے ہونے والے پروگرام میں تاکید کی :  شام پر سامراجیت کا قبضہ نہیں ہونے دیں گے ۔


انہوں نے یہ اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ شام کے کینہ توز دشمنوں نے علاقے میں جنگ کے شعلے بھڑکانے کے لیے خود کو تیار کر لیا ہے لیکن وہ اس ملک کے بحران کے سیاسی حل کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھاتے ہیں کہا : سعودی عرب اور ترکی کی پے در پے شکستوں نے انھیں بین الاقوامی اتحاد کے پرچم تلے داعش کا مقابلہ کرنے کے بہانے زمینی فوج شام بھیجنے کے بارے میں سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔


حجت الاسلام والمسلمین سید حسن نصراللہ نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ہم کسی بھی باغی اور سرکش کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ شام پر قبضہ کر لے اور اسرائیل کو بھی اپنے خواب پورے کرنے کی اجازت نہیں دیں گے کہا: شام پر حملے میں اسرائیل کا ہاتھ ہے لیکن اب تک اسے شکست ہوئی ہے کیونکہ اس کا مقصد شامی حکومت کا تختہ الٹنا یا شام کو تقسیم کرنا تھا جس میں اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔


انھوں نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ اسرائیل بشار اسد کی حکومت کے باقی رہنے اور اس ملک کے قومی آشتی پروگرام کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے کہا: اسرائیل کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ رابطے ہیں اور وہ بشار اسد کی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے ان دو ملکوں کے ساتھ اتفاق رائے تک پہنچ چکا ہے۔


سید حسن نصراللہ نے مزید کہا: داعش اور جبہۃ النصرہ بھی، کہ جو شام میں القاعدہ کی شاخیں ہیں، شام پر قبضہ کرنے اور ایک جاہل نظام اور حکومت قائم کرنے کے اپنے خواب کو عملی جامہ پہنانے میں ناکام رہی ہیں۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬