31 July 2013 - 16:02
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 5734
فونت
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر:
رسا نیوز ایجنسی - ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر نے ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر دھشت گردانہ حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا: امان وامان کی بہتری میں حکومت مصلحت اندیشی کے بجائے مناسب حکمت عملی اپنائے ۔
حجت الاسلام سيد ساجد علي نقوي

 

رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی نے اپنے ارسال کردہ مذمتی بیان میں ڈیرہ اسماعیل خان کی جیل پر مسلحہ دہشت گردوں کی لشکر کشی اور فائرنگ کے نتیجہ میں 7 شیعہ  قیدیوں سمیت 14 افراد کے قتل اور پاراچنار سے تعلق رکھنے والے 8 شیعہ قیدیوں کے اغواء کرنے سمیت 48 سے زائد خطرناک دہشت گرد قیدیوں کو کامیابی کے ساتھ فرار کرواکر لے جانے پر شدید رد عمل کا اظھار کیا ۔


حجت الاسلام نقوی نے یہ کہتے ہوئے کہ حکومتی ادارے دہشت گردوں کے سامنے مکمل طور پر بے بس اور ناکام ہوگئے ہیں کہا: یہ کیسے ممکن ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے معلوما ت کی فراہمی کے بعد بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واقع کی روک تھام کے لئے اقدامات کیوں نہیں کئی؟۔


انہوں ںے مزید کہا: علاوہ ازیں دہشت گردوں کی جانب سے جیل انتظامیہ کو یرغمال بنائے رکھنا اور خطرناک قیدیوں کو اپنے ہمراہ لے جانا جدید اسلحہ اور راکٹوں کا استعمال موجودہ حکومت کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے۔
سرزمین پاکستان کے اس نامور شیعہ عالم دین نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ملک میں ایک سازش کے ساتھ حالات خراب کئے جارہے ہیں کہا: سب کو علم ہے کہ قاتل دہشت گرد کون ہیں اورکہاں پلتے ہیں مگر پھر بھی تماشائی بنے ہوئے ہیں جو ان کی حکمرانوں کی پیشانی پر بہت بڑا بدنما داغ ہے۔ 


انہوں ںے کہا: ملک تیزی کے ساتھ تباہی کی جانب بڑھ رہا ہے کراچی سے لے کر پاراچنارتک اور کوئٹہ سے لے کرگلگت اسکردو تک پورا ملک دہشت گردی کی آگ کی لپیٹ میں ہے لیکن حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے ایسا کب تک چلے گا؟


اپ نے مزید کہا: اب مصلحت اندیشی کا نہیں عملی اقدامات اٹھائے جانے کا وقت آگیا ہے اور حکومت کوان دہشت گرد و ملک دشمن عناصر کے خلاف جلد از جلد آپریشن شروع کرنا چاہئے تاکہ اس پاک سر زمیں کو ان دہشت گردوں سے پاک کیا جا سکے۔
             

 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬