16 February 2015 - 16:18
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7813
فونت
حجت الاسلام سید سجاد حسین کاظمی:
رسا نیوز ایجنسی - مجلس نظارت دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان کے برجستہ رکن نے شھدائے پشاور کی مناسبت سے منعقد مجلس میں کہا: حکمراں اور انتظامیہ کی غفلت شیعہ نسل کشی کی بنیاد ہے ۔
حجت الاسلام سيد سجاد کاظمي


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس نظارت دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان کے رکن حجت الاسلام سید سجاد حسین کاظمی نے گذشتہ شب شھدائے پشاور کی مناسبت سے مدرسہ حجتیہ قم کی مسجد میں منعقد مجلس میں حکمراں اور انتظامیہ کی غفلت کو پاکستان میں شیعہ نسل کشی کی بنیاد بتایا ۔


انہوں نے حالیہ شہادتوں پر تعزیت وتسلیت پیش کرتے ہوئے زخمی مومنین کی جلد شفا یابی کی دعا کی اور کہا : خود کش حملوں اور بم دھماکوں کے ذریعے ہمیں ڈرانے والوں کومعلوم ہونا چاہے کہ ہم نے مجالس کے ذریعے اپنی ماؤں کی آغوش میں شہید اور شہادت کے موضوعات سنے ہیں کہ کس طرح ہمارے آئمہ اور شہداء کربلا نے فخریہ انداز سے شہادت کا استقبال کیا، ہم شہادت کے منتظر ہیں، جوقوم شہادت کی منتظر ہو اسے بم دھماکوں اور خودکش حملوں سے کیسے ڈرایا جا سکتا ہے؟

 

حجت الاسلام کاظمی نے یہ کہتے ہوئے کہ ہم منتظرہیں اپنی قومی قیادت کے اشارے کے جب انہوں نے حکم دیا توپاکستان کی سرزمیں خون کی ندیوں میں بدل جائے گی کہا: کبھی شکارپور، راولپنڈی تو کبھی پشاور میں کربلا برپا کی جاتی ہے، یہ سب دل دہلا دینے واقعات ہیں، عوام کی جان ومال کا تحفظ حکمرانوں اورقانون نافذ کرنے والے اداروں کی ذمہ داری ہے ، ان حوادث پر وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کو کمزور قرار دے دیتی ہے توصوبائی حکومتیں وفاق پر ڈالتی ہیں مگرہم دنوں کومجرم سمجھتے ہیں ،پھران وقایع پر ریاستی ادارے کیوں خاموش ہیں؟


دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان میں مجلس نظارت کے رکن نے اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ ان حالات میں ہمارے نوجوانوں کے صبرکا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے تاہم ملک کی سلامتی کے لئے ہماری قیادت باربارصبرکی تلقین کررہی ہے کہا: لیکن صبر کی بھی کوئی حد ہوتی ہے، اگر ہمارے اکابرین ملت اور قیادت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا توملک سنبھالنا دشوارہوجائے گا ۔


حوزہ علمیہ قم کے استاد نے اس بات پر تنقید کرتے ہوئے کہ ملک کا بہت بڑا قومی سرمایا صرف کرنے والی 33 ایجنسیوں کو کیوں ان حادثات کا پتہ نہیں چلتا ؟ دہشت گردی روکنے کے لئےقومی ایکشن پلان بنایا گیا مگرلگتا ہے اس پلان میں بھی منظور نظرخاص دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، عوامی قاتلوں اورشیعہ نسل کشی میں ملوث دہشت گردوں کا توکوئی نام لینے والا نہیں ہے کہا: ملکی سلامتی اورامن وامان کے نفاذ کے لئے ہماری قیادت نے آئین کی روشنی میں مذاکرات کی حمایت کی مگرمذاکرات میں ہمارے قاتلوں کونظرانداز کیا گیا، ہماری قیادت نے آپریشن کی حمایت کی، مگرآپریشن میں بھی ہمارے قاتلوں کو نظر انداز کیا گیا، اب اس قومی ایکشن پلان میں امید تھی مگرقومی ایکشن پلان کے باوجود یہ واقعات اورسانحات کسی اور چیزکی نشاندہی کر ر ہے ہیں، ہم سوچنے پر مجبورہیں کہ ہمارے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس پر تمام ملکی ادارے متحد ہیں ۔


انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ قومی سرمائے پر چلنے والے ادارے، صوبائی وقومی ممبران نےحلف لیا ہے کہ ملکی سلامتی اور عوامی دفاع میں کوشاں رہیں گے ، مگرعوامی جان ومال کی حفاظت کے لئے ملکی سربراہان اورقانون نافذ کرنے والے ریاستی ادارے اپنے فرائض منصبی سے غافل ہیں کہا: وزرائے اعلیٰ اور وزیراعظم کا حلف اورعہد و پیمان کہاں گیا؟ وزرائے اعلیٰ سمیت وزیراعظم ان سانحات کے ذمہ داراورمجرم ہیں، ریاستی اداروں کی طرف سے ان مٹھی بھرمجرموں کو کیوں گرفت میں نہیں لیا جاتا؟


حجت الاسلام کاظمی نے اس بات کی تاکید کرتے ہوئے کہ دشت گردی کو روکنا اور ملکی قوانین کا نافذ کرناحکمرانوں اور ریاستی اداروں کا کام ہے اور اتحاد و وحدت کی فضا قائم کرنا مذہبی قائدین کا کام ہے کہا: ہم سلام پیش کرتے ہیں قائد ملت جعفریہ پاکستان کی حکمت و دانائی پر جنہوں نے دوراندیشی سے اتحاد ووحدت کے قیام میں بانی کا کردار ادا کیا۔


حوزہ علمیہ قم کے استاد نے تحریک جعفریہ کے سابقہ سنیٹر سید جواد ہادی اور شیعہ علماء کونسل خبیرپختونخواہ کے صوبائی صدر رمضان توقیرکی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا : گذشتہ سال بھی جامع مسجد مدرسہ شہید عارف الحسینی کی نماز جمعہ میں اس طرح کا خودکش حملہ ہوا تھا، اُس واقعہ کے بعد پشاور شہر کے معززین کا ایک وفد وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے ملا اور ان سے پشاور میں اہل تشیع کی مساجد اور دینی مراکز کی سیکورٹی اور حفاظت کی درخواست کی ۔


انہوں نے خود کو اس مقام پر ہم آہنگ اور ہم صدا بتاتے ہوئے کیا: اس موقع پر وزیر اعلیٰ اور وہاں موجود آئی جی اور دیگر پولیس حکام نے بڑے وعدے کئے اور ہمیں بڑی تسلیاں دیں، لیکن ان وعدوں پر ڈیڑھ سال گزرنے کے باوجود عمل نہ ہو سکا اور مدرسہ شھید عارف الحسینی سمیت ہمارے کسی بھی دینی مرکز کیلئے سیکورٹی کا کوئی خاص اہتمام نہ کیا گیا۔ لہذا ہمارا خیبرپختونخواہ حکومت سے سوال ہے کہ شیعہ اثناعشری جامع مسجد حیات آباد جیسی اہم جگہ پر سیکورٹی کے انتظامات کیوں نہیں کئے گئے اس سلسلے میں صوبائی حکومت مجرم ہے۔


حجت الاسلام کاظمی نے مزید کہا: ہمارے قائد صبر، تحمل وبربادی سے اب تک صلح حسنی پرعمل پیرا ہیں ، لیکن قیام حسینی بھی ہمارے سامنے ہے، کربلا برپا کرنا بھی ہم جانتے ہیں، مگرکربلا و قیام حسینی کے بعد مختار بھی ہوتا ہے، ہم اپنی تاریخ میں مختار بھی رکھتے ہیں، سڈرنا، بکنا اورجھکنا ہماری قیادت کی سرشت میں نہیں، لہذاحکمراں ہمارے صبرکو ہماری کمزوری نہ سمجھیں، ہم مہذب، اصول پسند اورجمہوری لوگ ہیں ، ہم بھیگ نہیں مانگتے اپنے حقوق کا مطالبہ ہمارا آئینی اورقانونی حق ہے ۔


انہوں نے حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لینے کی نصیحت کرتے ہوئے کہا: توازن کی پالیسی کے تحت ہمارے لوگوں کی گرفتاری کا سلسلہ بند کریں، ضرب عضب آپریشن کو وسیع کر کے پورے ملک کے دہشت گردوں کے خلاف جاری کیا جائے ، سزایافتہ مجرموں کوفی الفورتختہ دارپرلٹکایا جائے اور حالیہ سانحات کے حقائق کو منظرعام پرلاکرقوم کوآگاہ کیا جائے نیزان سانحات میں ملوث مجرموں کونشان عبرت بنایا جائے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬