‫‫کیٹیگری‬ :
31 March 2015 - 23:45
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7981
فونت
آیت الله مکارم شیرازى کا سعودی عرب کی طرف سے یمن پر فوجی حملہ کے رد عمل پر ؛
رسا نیوز ایجنسی ـ حضرت آیت الله مکارم شیرازی اپنے ایک پیغام کے ذریعہ سعودی عرب کی طرف سے یمن پر حملہ کی مذمت کی ہے اور سعودی عرب کے حکام سے اپنے رویہ پر دوبارہ غور کرنے کی نصیحت کی ہے ۔
آيت الله مکارم شيرازي


رسا نیوز ایجنسی کے رپورٹر کی رپورٹ کے مطابق حضرت آیت الله مکارم شیرازی اپنے ایک پیغام کے ذریعہ سعودی عرب کی طرف سے یمن پر حالیہ حملہ کی مذمت کی ہے اور سعودی عرب کے حکام سے اپنے فیصلہ پر دوبارہ غور کرنے کی نصیحت کی ہے ۔

 مرجع تقلید کے پیغام کا متن جو رسا نیوز ایجنسی کو ارسال کیا گیا ہے اس طرح ہے :

بسم الله الرحمن الرحیم

ایک بار پھر دوبارہ ایک اسلامی ممالک یعنی یمن کی تباہی خود مسلمانوں کے ذریعہ اور خود اس کے پیسہ سے شروع ہوا ہے ۔ 

گذشتہ ایام میں ملک لیبیہ و شام اور عراق ملک کا بیشتر حصہ تباہی سے رو برو ہو چکا ہے ، ایسی تباہی کہ دس سال تک مرمت نہیں ہو سکے گا اور اب اس وقت یمن کی باری ہے اور کل تباہ کرنے والوں کا باری ہے ۔ 

دنیا خور مضبوط اسلام کو اپنے نا مشروع مفاد کے حصول کے راہ میں ایک بڑا رکاوٹ جانتے ہیں اس لئے عیجیب و تعجب آور اور بے سابقہ منصوبہ بنایا ہے کہ کنارہ رہ کر مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف متحرک کریں اور وہ لوگ اپنے ملک کو اپنے ہاتھوں سے ویران و نابود کریں اور اس عظیم قوت کو برباد کریں ۔

اور عجیب بات یہ ہے کہ وہ لوگ دیکھ رہے ہیں اسلام کا کھلا دشمن اسرائیل علی الاعلان یمن پر سعودی جارحیت کی حمایت کر رہا ہے اور واضح طور پر تعاون کا قول دے رہا ہے اس کے باوجود اس کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کئے ہوئے ہے ۔

اس سے بھی بدتر یہ ہے کہ  بین الاقوام سماج ان میں سے کسی بھی جارحیت و ویرانگری پر صحیح موقف اختیار نہیں کیا ہے اور اپنی خاموشی یا سست اظہار نظر کے ذریعہ لگے ہوئے آگ میں پٹرول ڈالا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اقوام متحدہ تو صرف نام نہاد ادارہ و ظاہرا تناور درخت ہے اور سلامتی کونسل سوکھے ہوئے بغیر پتے کے تنا ہے جس میں اب اتنی بھی طاقت نہیں رہ گئی ہے کہ وہ اس طرح کی ناجائز اور غیر قانونی کاروائیوں کی مذمت بھی کر سکے بلکہ اب وہ صرف جلانے کے قابل ہے ۔

دوسری طرف عرب لیگ کہ جس کے تشکیل کا مقصد اعراب کے حق کی حمایت ہے وہ اس وقت معرکہ میں آگ اندوزی کا کام کر رہا ہے اور اسلامی ممالک کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تا کہ ایک دوسرے کو تباہ کریں ۔

اس سے زیادہ افسوس حجاز کے مفتیوں کے فتوا پر ہے کہ جن لوگوں نے چند روز پہلے ایک تنظیم بنائی اور ایک دوسرے کے ذریعہ مسلمانوں کا خون بہانے پر شدید طور سے مذمت کی تاکید کی ہے اور آج وہی لوگ ۱۸۰ ڈگری منحرف ہو گئے اور یمن کے خلاف سعودی عرب کے حملہ کو حکیمانہ جانا ہے اور اس ویرانگری کو جائز شمار کیا ہے ۔

اگر اس مسئلہ پر ذرا سا بھی غور کیا جائے تو واضح ہے کہ یمن نام کے ملک کی عوام نے انقلاب کیا ہے اور اس ملک کی غالب اکثریت فاسد حکومت کے خلاف قیام کیا ہے جس کی وجہ سے اس ملک کا صدر اپنے جان کے خوف سے دوسرے ملک فرار ہو گیا ہے ، کیا اس سے عاقلانی راستہ ہے کہ ان لوگوں کی مدد کی جائے تا کہ ملک میں ثبات واپس ہو جائے اور داخلی اختلاف مذاکرہ کے ذریعہ حل کریں ؟

اس وقت دنیا میں یہ عجیب بدعت پیدا ہو گئی ہے کہ ایک ملک کو اگر دوسرے ملک کے حالات اپنے مفاد میں نہیں لگتے تو وہ بغیر کسی بین الاقوامی جواز کے اس پر حملہ کر دیتا ہے ، ایک عجیب غیر محفوظ دنیا بنا رکھا ہے !

اس سے بھی زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ اسرائیل۵۰ سال سے بھی زیادہ مدت سے اسلامی ممالک کے اہم و حساس حصہ پر قبضہ کر رکھا ہے اور  فیصلہ کن طوفان کی طرف سے ہو رہی آگ کی بارش کا ایک قطرہ بھی ادھر نہیں جا سکا ، بہادر مجاہد حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری کے قول کے مطابق ان لوگوں کی طرف سے طوفان کیا ؟ نسیم کا ایک جھوکا بھی نہیں چلا ہے ، آو اور دیکھو امریکا اور اسرائیل کے متحرک کرنے کی وجہ سے آج کیا طوفان شروع کیا ہے ۔

سعودی حکام کو جاننا چاہیئے کہ اگر اس آگ کو خاموش نہیں کیا تو یا یمن کے انقلابیوں کی کامیابی کا احتمال زیادہ ہے اور اگر جنگ طولانی مدت تک جاری رہا تو دونوں ممالک تباہ ہو جائے نگے ۔ 

بہتر ہے جتنا جلد ہو سکے اپنے امور پر نظر ثانی کریں کہ نقصان کو جہاں سے بھی روکا جائے فائدہ ہی ہے ۔

والسلام على من اتبع الهدى

 ۳۰ مارچ ۲۰۱۵ 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬