‫‫کیٹیگری‬ :
28 May 2015 - 13:56
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8175
فونت
قائد انقلاب اسلامی:
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ملک کی اقتصادی مشکلات اور ایٹمی مسئلے کی راہ حل داخلی توانائیوں پر اعتماد کرنا اور مستحکم مزاحمتی معیشت پر ایقان و اطمینان ہے۔
قائد انقلاب اسلامي


رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق بدھ کے روز پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے اسپیکر اور ارکان سے ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی نے اسلامی نظام کے بنیادی اصولوں اور موقف پر ثابت قدمی، مزاحمتی معیشت کے مسئلے پر خصوصی توجہ، دیگر محکموں سے تعاون اور کارکردگی کے انتخاباتی وجوہات سے متاثر نہ ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ملک میں کوئی بھی مسئلہ ناقابل حل نہیں ہے اور اقتصادی مشکلات کا علاج داخلی پیداوار کو فروغ دینا اور مالیاتی نظم و ضبط کو ملحوظ رکھنا ہے۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس ملاقات میں نویں پارلیمنٹ کے ارکان کے سنجیدہ اقدامات اور محنت و مساعی کی تعریف کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ کو موجودہ باقی ماندہ ایک سال کی مدت کو بھرپور طریقے سے استعمال کرنے کی سفارش کی۔ آپ نے فرمایا: " خیال رکھئے کہ اس مدت میں آخری سال کے انتخاباتی مسائل آپ کے بیان اور عمل پر اثرانداز نہ ہونے پائیں، بلکہ صرف حق کو معیار قرار دیجئے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے ارکان پارلیمان کو 'چھٹے ترقیاتی منصوبے' پر خصوصی توجہ دینے اور فرائض منصبی کے آخری سال میں چھٹے ترقیاتی منصوبے پر بحث و جائزے کے عمل میں تساہلی اور بے رغبتی کی عرضے میں دوچار ہونے سے بچنے کی سفارش کی۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ چھٹا ترقیاتی پروگرام بہت اہم ہے کیونکہ حکومتیں اس پر عمل کرنے کی پابند ہوں گی اور عوامی زندگی پر بھی اس قانون کے اثرات مرتب ہوں گے۔

قائد انقلاب اسلامی نے یہ سفارش بھی کی کہ پارلیمنٹ دوسرے اداروں اور خاص طور پر حکومت سے بھرپور تعاون کرے۔ آپ نے فرمایا کہ تینوں محکموں (مجریہ، مقننہ، عدلیہ) اور دیگر اداروں کے درمیان حکومت رابطے کی ذمہ دار ہے اور اس کی کامیاب کارکردگی محکمہ جات کی کارکردگی کے سلسلے میں موثر ہے۔ بنابریں حکومت کے ساتھ تعاون ضروری اور ہمدلی و ہم زبانی کا حقیقی مظہر ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے حسن ظن کو تعاون کی اہم شرط قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ دوسرے فریق کے بارے میں بدگمانی اور اس کی جانب سے خیانت، غداری اور غلط فائدہ اٹھائے جانے کے گمان کے ساتھ تعاون نہیں ہو سکتا، لیکن حسن ظن کا مطلب بہت جلد اعتماد کر لینا اور دھوکا کھا جانا نہیں ہے۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ تعاون کرنے اور بلیک میل کرنے میں بہت فرق ہے۔ آپ نے فرمایا: "وزرا اور ارکان پارلیمان کے درمیان تعاون کی بنیاد ملکی مفادات اور قانونی فرائض ہونا چاہئے ایک دوسرے کی بلیک میلنگ نہیں۔"

قائد انقلاب اسلامی نے وزرا کے ساتھ محترمانہ سلوک اور خاص طور پر پارلیمنٹ کے مختلف کمیشنوں میں ان کے ساتھ احترام آمیز برتاؤ کو بھی باہمی تعاون کی اہم شرط قرار دیا۔ آپ نے فرمایا: "نہ ارکان پارلیمنٹ توہین اور تحقیر آمیز رخ اپنائیں اور نہ ہی حکومت اور وزراء تحکمانہ انداز اختیار کریں بلکہ تمام مراحل اور معاملات میں ادب و احترام کو ملحوظ رکھا جائے۔"

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ارکان پارلیمنٹ سے خطاب میں مزاحمتی معیشت کے موضوع پر بھی گفتگو کی۔ آپ نے اس سلسلے میں ایک ظریفانہ نکتے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "ملک کے اندر مزاحمتی معیشت کے مسئلے میں 'ہم زبانی' تو موجود ہے لیکن 'ہمدلی' پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور ہمارے اندر مزاحمتی معیشت پر تہہ دل سے یقین پیدا ہونا چاہئے۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ ملک کی داخلی مشکلات کا حل مزاحمتی معیشت اور قومی پیداوار کا فروغ ہے۔ آپ نے پارلیمنٹ کے اندر ملکی پیداواری سرگرمیوں میں حائل قوانین کو کالعدم قرار دینے والے قانون کی منظوری کی تعریف کی۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: "اگر ہم پیداوار کو تقویت پہنچائیں اور داخلی توانائیوں سے استفادہ کریں تو داخلی مشکلات کے ازالے کے ساتھ ہی ایٹمی مسئلے جیسے بیرونی مسائل بھی آسانی سے حل ہو جائیں گے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایٹمی مسئلے کو حل کرنے کے راستے موجود ہیں لیکن ان سب کا دارومدار داخلی صلاحیتوں کے فروغ اور پیداوار کی تقویت پر ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکا، مغرب اور صیہونزم سے ایٹمی مسئلے کے علاوہ بھی ہمارے جو اختلافات ہیں ان کے تناظر میں ہمیں معلوم ہے کہ انسانی حقوق جیسے متعدد مسائل پے در پے پیش آئیں گے، تاہم اگر ہم نے اپنی داخلی توانائیوں پر توجہ مرکوز کی اور داخلی مشکلات کو حل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو ان تمام مسائل کا تصفیہ کرنا بھی آسان ہو جائے گا۔

قائد انقلاب اسلامی نے کہا کہ اسی لئے چھٹے ترقیاتی منصوبے اور آئندہ سال کے بجٹ پر بحث کے دوران مزاحمتی معیشت کے مسئلے پر خاص توجہ رکھتے ہوئے خامیوں کو دور کیا جانا ضروری ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے کہا کہ حکومتی عہدیداران پیداوار کی تقویت کے مسئلے میں بار بار یہ بیان دیتے ہیں کہ ہمارے پاس وسائل کی کمی ہے، میں بھی یہ بات جانتا ہوں اور پابندیوں کی وجہ سے وسائل میں اور بھی کمی ہو گئی ہے لیکن کیا ان حالات میں راہ حل کی تلاش نہیں کی جانی چاہئے؟

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے زور دیکر کہا کہ راہ موجود ہے اور وسائل کی کمی کوئی لاینحل معاملہ نہیں ہے، اس کا حل یہ ہے کہ داخلی وسائل کی تخصیص ترجیحات کی بنیاد پر کی جائے اور مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: "ان حالات میں ایسی جگہوں پر بجٹ صرف کیا جاتا ہے جہاں صرف نہیں کیا جانا چاہئے، لہذا حکومت، پارلیمنٹ، عدلیہ اور مسلح فورسز کو چاہئے کہ مالی نظم و ضبط کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور صحیح مینیجمنٹ کے ذریعے وسائل کو ترجیحات کے مطابق تقسیم کریں۔"

قائد انقلاب اسلامی نے بعض اداروں اور خاص طور پر مسلح فورسز کے اندر بعض محکموں کا ذکر کیا جنہوں نے اپنے بجٹ میں کوئی بھی اضافہ کئے بغیر اپنی کارکردگی اور توانائیوں میں زبردست اضافہ کیا ہے۔ آپ نے فرمایا: "ان مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ وسائل کی کمی کے باوجود مسائل و مشکلات کو حل کیا جا سکتا ہے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے ارکان پارلیمنٹ سے یہ بھی سفارش کی کہ اسلامی نظام کے اصولوں پر ہمیشہ ثابت قدم رہیں۔ آپ نے اسلامی نظام و انقلاب کے اصلی اور بنیادی امور کے بارے میں نویں پارلیمنٹ کے مثبت، قابل قبول اور بسا اوقات انتہائی اہم موقف کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ پارلیمنٹ کا ڈھانچہ ہمیشہ اسلامی نظام کے اصولوں کی بلند عمارت کے مطابق ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں معیار امام (خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ) کے فرمودات اور آپ کا وصیت نامہ ہے۔

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا:" اگر پارلیمنٹ اسلامی نظام کے اصولی اور اساسی موقف پر ہمیشہ ثابت قدم رہے تو سامراجی نظام کی ہولناک دلدل میں غرق ہو جانے کا خطرہ پیدا نہیں ہوگا لیکن اگر خدانخواستہ یہ استقامت نہ ہو تو خطرات بڑھ جائیں گے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب میں ایٹمی مسئلے کے بارے میں کہا کہ ایٹمی مسئلے میں ہمارا موقف وہی ہے جو ہم عوام الناس کے سامنے اعلانیہ طور پر بیان کر چکے ہیں اور یہی موقف زبانی اور تحریری طور پر حکام کے سامنے بھی پیش کر دیا گیا ہے۔ البتہ اصولی موقف کی تشریح اور اس پر تاکید کی غرض سے بعض باتیں نجی طور پر اور غیر اعلانیہ طریقے سے بھی کہی گئی ہیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ حکام اور مذاکرات کار بڑی محنت سے کام کر رہے ہیں، انھیں چاہئے کہ اعلانیہ موقف پر پوری طرح قائم رہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ وہ ملک اور نظام کے مفادات حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے اس خطاب کے آغاز میں رجب، شعبان اور رمضان کے مبارک مہینوں میں حاصل ہونے والے عظیم مواقع کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام عہدیداران منجملہ ارکان پارلیمنٹ کو اللہ تعالی سے رابطہ مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔

آپ نے فرمایا: "ان مہینوں کے سلسلے میں منقول دعاؤں کی مدد سے اور قرآن و نوافل سے انسیت پیدا کرکے اللہ سے قربت کا راستہ ہموار کرنا چاہئے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے زور دیکر کہا کہ عہدے پر ہوتے ہوئے ہم سب کو چاہئے کہ خود کو اللہ تعالی کے سامنے جوابدہ سمجھیں۔

آپ نے ارکان پارلیمنٹ کے موجودہ دور کے آخری سال کو بہت اہم قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں یہ کوشش کرنا چاہئے کہ ہمارے تمام اقدامات حقوق خداوندی کے دائرے میں اور صداقت پسند زبان اور حقیق بیں نگاہ کی اساس پر انجام پائیں۔

قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر علی لاری جانی نے نویں پارلیمنٹ کی گزشتہ تین سال کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مدت میں 120 قوانین منظور کئے گئے جن میں بیشتر کا تعلق اقتصادی ضرورتوں کی تکمیل اور پیداواری شعبے سے تھا۔

ڈاکٹر لاری جانی نے بنیادی قسم کے امور اور علاقائی و بین الاقوامی مسائل کے بارے میں نویں پارلیمنٹ کے موقف کے تعلق سے کہا کہ پارلیمنٹ کی اسٹریٹجی یہ رہی کہ امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے افکار کی روشنی میں اغیار کے سامنے قوم کا ہمہ جہتی دفاع کیا جائے اور داخلی توانائیوں پر استوار معیشت اور ایٹمی مسئلے پر توجہ دی جائے۔ 
 
 
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬