‫‫کیٹیگری‬ :
29 June 2015 - 13:16
News ID: 8261
فونت
قائد انقلاب اسلامی :
رسا نیوز ایجنسی ـ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا کہ ایران اور ایرانی قوم شہدا اور ان کے خاندانوں کے مقروض ہیں۔
قائد انقلاب اسلامي


رسا نیوز ایجنسی کا قائد انقلاب اسلامی کی خبر رساں سائیٹ سے منقول رپورٹ کے مطابق سات تیر مطابق 28 جون 1981 کے دہشت گردانہ حملے کے شہدا کے اہل خانہ نیز صوبہ تہران کے ان خاندانوں سے ملاقات میں جنھوں نے ایک سے زیادہ شہیدوں کی قربانی دی ہے، قائد انقلاب اسلامی نے ہر دور کے لئے شہیدوں کے امید آفریں، عزم راسخ و روحانی نشاط سے سرشار اور حقائق کو سامنے لانے والے پیغام کا ذکر کیا اور زور دیکر کہا: "آج ملک کو پختہ عزم، دشمن کی شناخت، نرم جنگ کے میدانوں میں، بشمول ثقافتی و سیاسی میدانوں کے ہر جگہ دشمن سے مقابلے کے لئے آمادگی کی ضرورت ہے اور جو لوگ دشمن کے کریہ المنظر چہرے پر 'ابلاغیاتی ملمع' چڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں وہ قوم کے مفادات کے خلاف کام انجام دے رہے ہیں۔"

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اسلامی انقلاب کی برکتوں میں سے ایک اسلامی معارف کا از سر نو احیاء اور معاشرے میں اس کا نفاذ ہے۔ آپ نے فرمایا: "ان اساسی معارف میں سے ایک شہادت سے متعلق معرفتوں کا نظام ہے جو ہمارے معاشرے میں رو بہ عمل آیا۔ چنانچہ شہدا میدان عمل میں اترے اور ان کی پرخلوص سعی و کوشش پر عظیم الہی جزا اور انعام شہادت سے وابستہ ہو گیا اور وہ بے خوفی اور بے فکری کے ساتھ اپنے پروردگار سے ملاقات کے لئے آگے بڑھے اور ان شہادتوں کے روحانی اثرات معاشرے میں نمودار ہوئے۔"

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ شہیدوں کے خاندانوں میں احساس افتخار اور عوام الناس کے اندر پختہ عزم، روحانی نشاط و مسرت کی کیفیت کو شہیدوں کی برکتیں ہیں، آپ نے 28 جون 1981 عیسوی کے سانحے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "اٹھائیس جون جیسا بڑا سانحہ جس میں آیت اللہ بہشتی، کئی وزرا، ارکان پارلیمنٹ اور سیاسی و انقلابی کارکن شہید ہو گئے، فطری طور پر اسلامی انقلاب کی ناکامی پر منتج ہونا چاہئے تھا لیکن ان شہیدوں کے خون کی برکت سے، تصور کے بالکل برخلاف نتیجہ نکلا اور اس سانحے کے بعد قوم اور بھی متحد ہو گئی اور اسلامی انقلاب اپنی صحیح اور حقیقی ڈگر پر پہنچ گیا۔"

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے کہا کہ اٹھائیس جون کے سانحے کے شہیدوں کے خون کی ایک برکت اس مجرمانہ فعل کے ذمہ داروں کے چہروں سے نقاب کا ہٹ جانا تھا۔ آپ نے فرمایا: "اٹھائیس جون کے سانحے کے بعد یہ عظیم جرم انجام دینے والوں کا حقیقی چہرہ جسے وہ برسوں سے کسی اور طرح سے پیش کرتے آئے تھے، عوام الناس اور نوجوانوں کے لئے آشکارا ہو گیا اور یہی دہشت گرد کچھ عرصے بعد صدام کی پناہ میں چلے گئے اور ملت ایران اور اسی طرح عراقی عوام کا مقابلہ کرنے کے لئے اس کے ساتھ مل گئے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ اس سانحے کے شہیدوں کے خون کی ایک برکت یہ بھی تھی کہ اس سانحے کے سلسلے میں پس پردہ فعالیت انجام دینے والے داخلی اور بیرونی عناصر اور اسی طرح اس سانحے پر رضامندانہ خاموشی اختیار کرنے والوں کے چہرے سامنے آ گئے۔ آپ نے فرمایا: "اٹھائیس جون کے سانحے کے بعد امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے اس سانحے کی مدد سے اسلامی انقلاب کو جو اپنے اصلی راستے سے منحرف ہو رہا تھا، نجات دی اور عوام کے سامنے انقلاب کے حقیقی خطوط اور دھارے کو پیش کر دیا۔"

قائد انقلاب اسلامی نے اٹھائیس جون کے سانحے کے بعد معاشرے کے اندر پیدا ہونے والی روحانی اشتیاق کی کیفیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "اس سانحے نے معاشرے میں دلوں کی گہرائیوں میں انقلاب کے اثر و نفوذ کو دشمنوں پر آشکارا کر دیا اور ان کی سمجھ میں آ گیا کہ اسلامی انقلاب کے خلاف تشدد آمیز رویہ بے سود ہے۔"

قائد انقلاب اسلامی کے مطابق اٹھائیس جون کے سانحے کے شہیدوں کے خون کی ایک اور برکت انسانی حقوق کی دعویدار سامراجی طاقتوں کے چہروں کا انکشاف بھی تھا۔ آپ نے فرمایا: "جن لوگوں نے اٹھائیس جون کا مجرمانہ فعل انجام دیا اور آج یورپ اور امریکا میں آزادانہ گھوم رہے ہیں اور ان ملکوں کے حکام سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے لئے انسانی حقوق کے موضوع پر تقریر کرنے کے مواقع فراہم کئے جاتے ہیں۔"

قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ یہ طرز عمل انسانی حقوق کے دعویداروں کی خباثت، نفاق اور دوغلے پن کی انتہا ہے۔ آپ نے فرمایا: "ہمارے ملک میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے سترہ ہزار شہید ہیں جن کی اکثریت کا تعلق بے گناہ عوام سے ہے جن میں کسان، تاجر، ملازمت پیشہ افراد، یونیورسٹی کے اساتذہ، یہاں تک کہ عورتیں اور بچے شامل ہیں۔ مگر ان تمام جرائم کا ارتکاب کرنے والے افراد انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے کرنے والے ملکوں میں آزادانہ گھوم رہے ہیں۔"

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے مطابق شہدا کے خون کی ایک برکت، معاشرے میں استقامت و ثابت قدمی کے جذبے کا پیدا ہونا اور عوام الناس کے جوش و جذبے میں اضافہ تھا۔

قائد انقلاب اسلامی نے حال ہی میں تہران میں 270 شہیدوں کی تشییع جنازہ اور اس موقع پر عوام میں پیدا ہونے والے جوش و خروش کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "یہ عظیم واقعہ، یہ عمل اور اس سے پیدا ہونے والا شوق و رغبت اور اعلی اہداف سے وابستگی کا جذبہ، قنوطیت، سرد مہری اور جمود کی نفی ہے۔"

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے شہدا کے تعارف میں کوتاہی اور کمزور کارکردگی منجملہ ملت ایران کی عظمت و استقامت کے مظہر اٹھائیس جون کے سانحے کے شہیدوں کی توانائیوں کو روشناس نہ کرائے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مومن، انقلابی، عوام دوست اور دلی رغبت رکھنے والے محاذ میں شامل نوجوان تصاویر کے ذریعے اور جدید وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے ان عظیم ہستیوں کو اپنی فنکارانہ مہارتوں کی مدد سے متعارف کرائیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے ملت ایران کی گردن پر شہیدوں اور ان کے خاندانوں کے عظیم اور ناقابل بیان حق کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: "شہدا کے خاندان اپنی بلند ہمتی اور محکم جذبات کو معاشرے میں منتقل کرتے ہیں اور یہی جذبہ اور پختہ عزم ہے جس کی آج ملک کو بڑی ضرورت ہے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے دشمن کی شناخت کو اس وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور دشمن کے جرائم پیشہ چہرے پر تشہیراتی میک اپ کرنے کی بعض عناصر کی کوششوں کی جانب سے خبردار کرتے ہوئے ملت ایران کے خلاف امریکا اور اس کے مہروں کے بعض دہشت گردانہ اقدامات کی مثالیں پیش کیں۔

اٹھائیس جون 1981 کا سانحہ، 28 جون 1987 کو سردشت پر کیمیائی بمباری، 2 جولائی 1982 کو شہید صدوقی کی ٹارگٹ کلننگ، 3 جولائی 1988 کو ایران کے مسافر بردار طیارے کو میزائل سے تباہ کر دینا، امریکا اور اس کے مہروں کے دہشت گردانہ اقدامات کے چند نمونے قرار دیتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: "کچھ لوگوں کا نظریہ یہ ہے کہ 'تیر' مہینے (22 جون الی 23 جولائی) کے ان ایام کو امریکی انسانی حقوق کے ہفتے سے موسوم کر دیا جائے۔"

قائد انقلاب اسلامی نے دشمن کی شناخت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: قوم کو چاہئے کہ دشمن کی مکمل شناخت کے ساتھ نرم جنگ کے میدانوں منجملہ ثقافتی، سیاسی اور سماجی شعبوں میں اس کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار رہے۔

امریکا کے وحشت ناک، کرخت اور بد ہیئت چہرے کی توجیہ پیش کرنے والوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے قائد انقلاب اسلامی نے کہا کہ جو لوگ امریکا اور اس کے آلہ کاروں کی خباثت آمیز دشمنی کو تشہیراتی اور ابلاغیاتی میک میں چھپانا چاہتے ہیں وہ در حقیقت ملک و قوم سے خیانت کر رہے ہیں۔

قائد انقلاب اسلامی نے اپنے خطاب کے آخر میں کہا کہ ملت ایران کو شہدا کے امید بخش اور جوش و جذبات سے سرشار اور حقائق کو برملا کرنے والے پیغام کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ ملت ایران شہیدوں اور ان کے خاندانوں کی احسان مند ہے اور جو لوگ اس حقیقت کا انکار کرتے ہیں وہ در حقیقت ملک کے مفادات سے بیگانہ ہیں خواہ ان کے پاس ایرانی شناختی کارڈ ہی کیوں نہ ہو۔

قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے خطاب سے قبل ولی امر مسلمین کے نمائندے اور شہید فاؤنڈیشن کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین شہیدی محلاتی نے اٹھائیس جون 1981 کے سانحے کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ اسلام و انقلاب کے دشمنوں کی مرضی و خواہش کے برخلاف اٹھائیس جون کے شہیدوں کی یاد ملک میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ انھوں نے کہا کہ اسلامی انقلاب کی تاریخ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ 28 جون کا سانحہ ہو یا اس جیسے دیگر واقعات ہوں یا انقلاب کے ہزاروں بہترین ساتھیوں کی ٹارگٹ کلنگ کا مسئلہ ہو، انقلاب اس سے کمزور نہیں پڑا بلکہ اس سے ملت ایران کی استقامت و پائیداری اور فولادی عزائم میں اور بھی اضافہ ہوا۔

 
  
 

تبصرہ بھیجیں
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬