22 May 2014 - 05:15
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 6809
فونت
جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی نائب صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا : ہم بلوچستان کے طلباء شدت سے ۲۰ جون کا انتظار کرے ہیں اور انشاء اللہ انتہائی گرم موسم ہونے کے باوجود اپنے قائد محبوب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملتان کی طرف رواں دواں ہوں گے۔
جعفريہ اسٹوڈنٹس آرگنائزيشن


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی نائب صدر ایاز حسین سیال نے اپنے ایک بیان میں کہا : ہم بلوچستان کے طلباء شدت سے 20 جون کا انتظار کرے ہیں اور انشاء اللہ انتہائی گرم موسم ہونے کے باوجود بھی 20 جون کو جعفری طلباء اپنے قائد محبوب کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ملتان کی طرف رواں دواں ہوں گے اور ملتان میں ایک عظیم الشان اجتماع طلباء کی ملی بیداری کا ثبوت ہو گا۔

انہوں نے بیان کیا : دشمن بھی یہ بات جانتا ہے کہ جس قوم کا نوجوان طبقہ متحرک ہو اور قوم کے لیے کچھ کر گزرنے کا عزم رکھتا ہو تو اس قوم کو کوئی بھی شکست نہیں دے سکتا۔ 20 جون کو ہم دنیا کو دکھا دیں گے کہ ہم اپنے قائدکی آواز پر لبیک کرنا جانتے ہیں اور دنیا دیکھے گی کہ کیسے ہوتے ہیں قائد کے ایک حکم پر لبیک کہنے والے۔

مرکزی نائب صدر نے کہا : اس وقت ملک جس بے یقینی کی کیفیت سے گزر رہا ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ ایک غیر اہم مسئلے کو انتہائی اہم مسئلہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور چھوٹی جماعتیں اس مسئلے پر اپنی سیاست چمکانا شروع کر دیتی ہیں۔ ملک پاکستان میں اس وقت بے شمار ایسی جماعتیں موجود ہیں جو اس انتظار میں رہتی ہیں کہ کس وقت کوئی چھوٹی سے چنگاری اٹھے  اور وہ اس چنگاری کو آگ بنا کر اپنی سیاست چمکائیں۔

انہوں نے وضاحت کی : اس وقت ملک عزیز میں اور بہت سے مسائل ہیں جن کی طرف کوئی دیکھتا بھی نہیں کیونکہ ان مسائل کی طرف توجہ دینے سے سیاست نہیں چمکتی۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت ملک عزیز کا سب سے بڑا مسئلہ یکساں نظام تعلیم کا نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے ملک میں طبقاتی نظام رائج ہو رہا ہے اور ایک طبقہ دوسرے طبقے سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ تمام جگہوں پر یکساں تعلیمی نظام رائج کرے تاکہ طبقاتی نظام کی بیخ کنی کی جاسکے۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬