17 March 2015 - 23:33
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 7922
فونت
شیعہ علماء کونسل پاکستان :
رسا نیوز ایجنسی ـ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ و قائد ملت جعفریہ پاکستان اور مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان نے لاہور یوحنا آباد میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ۔
شيعہ علماء کونسل پاکستان


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ و قائد ملت جعفریہ پاکستان حجت الاسلام سید ساجد علی نقوی اور حجت الاسلام عارف حسین واحد ی مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان نے لاہور یوحنا آباد میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر بم دھماکوں کی شدید مذمت کی ۔

انہوں نے بم دھماکوں میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس ولواحقین سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا : دہشتگردی وانتہا پسندی کو جڑ سے ختم کئے بغیر ملک میں امن قائم کرنا ممکن نہیں ۔اقلیتی برادری محب الوطن پاکستانی ہیں، ہم سب ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے یوحنا آباد میں مسیحی برادری کی عبادت گاہوں پر ہونے والے اس ظلم کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہیں۔اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ واقعہ میںملوث افراد کے نیٹ ورک کا سراغ لگا کر کیفرو کردار تک پہنچایا جائے۔

حجت الاسلام عارف حسین واحدی نے بیان کیا : اس ملک میں دہشتگردی اور بد امنی کابنیادی سبب تکفیری گروہ  ہے۔ جب تک تکفیریوں کیخلاف ایک جامعہ حکمت عملی کے تحت موثر کارروائی نہیں ہوگی۔ اس وقت تک ملک میں امن قائم کرنا ایک خواب رہے گا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا : تکفیری مائنڈ سیٹ ہی اس ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ اور دہشتگردی کی بنیاد ہے۔ دہشتگردی کے واقعات حکومت کیلئے ایک کھلا چیلنج ہے حکمران عوام کو تحفظ دینے میں یکسر ناکام نظرآتے ہیں حکمرانوں کی جانب سے واقعات کے بعد مذمت کرنے سے صرف کام نہیں بنے گا بلکہ دہشتگردوں کے خلاف ضرب عضب آپریشن کے دائر کو وسیع کرنا ہوگا ۔

حجت الاسلام عارف حسین واحدی نے تاکید کی : جب تک تکفیری مائنڈ سیٹ کے سہولت کاروں اوران دہشتگردوں کے معاون مدارس کے خلاف کاروائی نہیں ہوگی ان فیکٹریوں میں دہشت گرد تیار ہوتے رہیں گے جس سے ملک میں امن قائم نہیں ہو سکے گا۔ تکفیریوں کے حرکات و سکنات کو سختی سے کنٹرول اور آپریشن ضرب عضب کو پورے ملک میں پھیلاکر ہی دہشتگردی پر کنٹرول حاصل کیا جاسکتا ہے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬