09 August 2015 - 08:29
‫نیوز‬ ‫کوڈ‬: 8365
فونت
حجت الاسلام علی اظہر ارسطو؛
رسا نیوز ایجنسی ـ ایران کے مقدس شہر قم کے حوزہ علمیہ میں علوم اہل بیت (ع) کے تحصیل میں مشغول طالب علم اس فانی دنیا کو وداع کہ دیا ۔
حجت الاسلام علي اظہر ارسطو


رسا نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے مقدس شہر قم کے حوزہ علمیہ میں علوم اہل بیت (ع) کے تحصیل میں مشغول طالب علم اس فانی دنیا کو وداع کہ دیا جن کی تشییع جنازہ کل معصومہ قم کے روضہ پر انجام پایا ۔ 

حجت الاسلام ارسطو کی مختصر زندگی نامہ محمد عباس مسعود حیدرآبادی اس طرح بیان کرتے ہیں مرحوم حیدرآباد دکن کے اسماعیلی خاندان سے تعلق رکهتے تهے حیدر آباد دکن میں ارسطو فیملی اپنے علم و فضل اور اخلاق و کمالات کیلئے جانی جاتی ہے ۔

علی اظہر ارسطو مغربی ممالک میں مشغول کار تهے جب انکی شادی ایک شیعہ اثنا عشری فیملی میں طے ہوئی تو شیعیت کی جانب انکا رجحان بڑها اور اپنے ذاتی مطالعہ سے حق و حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے حق جوئی  اور حقیقت پرستی نے ان کے دل میں گهر کرلیا اور ان کو جب شیعہ اثناعشری مذہب  کی حقانیت اور عظمت کا علم ہوا تو انہوں نے مزید معلومات اور کسب کمالات کیلئے اپنی سروس کو چهوڑ کر اپنی فیلمی کے ساته قم مقدس تشریف لے آئے۔

بارہ سال تک قم میں کسب فیض کرتے رہے جو کوئی ان سے مل چکا ہو وہ جانتا ہے کہ وہ کتنے انہماک سے تحصیل علم میں مشغول تهے اور انتهک محنت کیا کرتے تهے وہ جس سن میں قم تشریف لائے تهے اس کے پیش نظر بہت جلد ترقی کی اور مستبصر ہونے اور دینی علوم سے سابقہ نا آشنائی کے باوجود انہوں چند سالوں کی مدت میں مدرسہ امام خمینی رح سے کارشناسی ارشد تمام کیا ۔

علی اظہر ارسطو اپنے دوران تحصیل مسلسل تبلیغ کیلئے تشریف لے جاتے رہے اور اپنے اہل خاندان و دیگر اسماعیلیوں کو مذہب شیعہ اثنا عشری کی طرف راغب کرتے رہے ان کی خوش اخلاقی تواضع و انکساری زبان زد خاص و عام ہے جو کوئی ان سے ایک بار ملتا اسے بار بار ملنے کی خواہش ہوتی اور اتنے پرتپاک انداز میں ملتے کہ ہر ایک کو لگتا تها  کہ میں سب سے زیادہ ان سے قریب ہوں ۔

دین کیلئے ان کی تڑپ اور قربانیوں کو دیکه کر دوسروں میں خدمت دین کا جذبہ بڑه جاتا تها اللہ کے نیک بندے ہمیشہ آزمائش میں رہتے ہیں وہ بظاہر کاملا صحتمند تهے مگر آج سے دو ڈهائی سال پہلے پتہ چلا انہیں برین ٹیومر ہے دو بار آپریشن بهی کیا گیا شاید آپریشن تو کامیاب رہے لیکن اس آپریشن کے جانبی اثرات کے پیش نظر ڈاکٹروں نے جواب دیدیا  اور کہا کہ چند ماہ سے زیادہ زندہ نہیں رہیں گے ۔

جب حجت الاسلام ارسطو نے محسوس کیا کہ اب انکی صحت بہتر ہونے والی نہیں ہے تو وہ امریکہ سے یہ کہ کر ایران آ گئے کہ میں  قم مقدس میں دار فانی سے کوچ کرنا چاہتا ہوں ۔

دیڑه سال سے وہ قم میں بستر علالت پر رہے پہلے تو کچه بات بهی کرتے تهے دهیرے دهیرے انکا  بدن کمزور ہوتا گیا اور اعضاء بدن نے کام کرنا چهوڑ دیا بس سر ہلا کر سلام کا جواب دیتے اور دیر تک دیواروں کو  تکتے رہتے قرآن بڑے شوق سے سنا کرتے تهے ان ایام میں قرآنی آیات سن کر ان کو سکون محسوس ہوتا تها اور جب آذان کی آواز آتی تو ان کی آنکهیں ڈبڈبانے لگتیں ایسی وضعیت میں بهی ان کے لبوں پر ہمیشہ شکر خدا رہتا تها ۔

آخر یہ سختی کے دن ختم ہوئے اور وہ اپنی آرزو کے مطابق اس مقدس سر زمین پر اپنے پسمندگان اور دوست و احباب  کو روتا چهوڑ کر دار فانی سے دار بقا کی جانب کوچ کرگئے  خدا مرحوم کو صالحین کے ساته محشور فرمائے۔

مرحوم کے پسماندگان میں زوجہ اور دو بیٹیاں ہیں اللہ انہیں صبر جمیل عنایت فرمائے ۔
 

تبصرہ بھیجیں
نام:
ایمیل:
* ‫نظریہ‬:
‫برای‬ مہربانی اپنے تبصرے میں اردو میں لکھیں.
‫‫قوانین‬ ‫ملک‬ ‫و‬ ‫مذھب‬ ‫کے‬ ‫خالف‬ ‫اور‬ ‫قوم‬ ‫و‬ ‫اشخاص‬ ‫کی‬ ‫توہین‬ ‫پر‬ ‫مشتمل‬ ‫تبصرے‬ ‫نشر‬ ‫نہیں‬ ‫ہوں‬ ‫گے‬